Friday, November 27, 2009

دہشتگردی کا اسلام سے تعلق نہیں،امہ متحد ہو جائے:خطبہ حج

جائے:خطبہ حج

صالح قیادت کے اقتدار میں آنے تک حالات نہیں بدلیں گے، علماء ضعیف العلمی کی بنیاد پر فتوے صادر نہ کریں
مسلمان دین سے وابستہ ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی، مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز کا خطبہ حج
 
میدان عرفات سے (اے پی پی) سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے امت کے سربراہان مملکت پر زور دیا ہے کہ وہ محروم طبقات کی فکر کریں اور مظلومین کو ان کے حقوق دلانے کیلئے اقدامات کریں، صالح اور امانت دار قیادت کے اقتدار میں آنے تک ہمارے حالات نہیں بدلیں گے، نوجوان خود کو دین کی دولت سے مالا مال کریں اور اخلاقی انحطاط سے بچیں، دہشت گردی بہت بڑا چیلنج ہے، اس کے ذریعے امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جا رہا ہے، مسلمان رنگ و نسل، زبان اور جغرافیہ کی بنیاد پر اختلافات فراموش کرکے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں، علماء مسلمانوں کی رہنمائی کریں اور ضعیف العلمی کی بنیاد پر فتوے صادر نہ کریں، امت کے ارباب اقتدار اور اہل ثروت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض پہچانیں اور امت کی بھنور میں پھنسی ہوئی کشتی کو نکالنے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں، مسلمان دین کے ساتھ اخلاص سے وابستہ ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔ جمعرات کو مسجد نمرہ سے خطبہ حج دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طرح طرح کی بدعات اور شرک کو عام کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمان توحید حقیقی سے ہٹ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ضعیف احادیث اور روایات کو عام اور اسلام کے حقیقی پیغام کو دھندلا کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی نجات کا واحد راستہ اﷲ کے رسول کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے میں ہے۔ مفتی اعظم نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے جس طرح اپنے دین اور اپنے نبی کی سنت کا تحفظ کیا ہے اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے شہر امین مکہ اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ذرائع ابلاغ مسلمان نوجوانوں کو ان کے دین اور ثقافت سے دور کر رہے ہیں تاکہ ہمارے نوجوان دین کی دولت سے محروم ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا کی اس سازش اور پروگرام کے بارے میں ہمیں محتاط رہنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی قوت کو انہیں تباہ و برباد کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا بڑا چیلنج دہشت گردی ہے، اس کے ذریعے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے۔ اسلام امن و محبت کا دین ہے، لہٰذا دہشت گردی کی اس وباء اور مسئلہ سے ہمیں نمٹنا ہے۔ ہمیں اس سے کسی بھی قسم کی مصالحت نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ زبان اور جغرافیے کی بنیاد پر باہمی اختلافات اتحاد و یکجہتی اور ڈائیلاگ کے ذریعے ختم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر مسلمان دین کے ساتھ اخلاص سے وابستہ ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی، مستقبل اسی دین کا ہے۔ اسلامی اقدار میں اتنی قوت موجود ہے کہ وہ دنیا کی ہر طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دین کی امانت کو پہاڑوں اور زمین نے اٹھانے سے انکار کیا تو انسان نے یہ بوجھ اٹھایا۔ مفتی اعظم نے اپنے خطبہ میں کہا کہ ہمارا جینا اور مرنا اﷲ ہی کیلئے ہے، ہمیں ہر قسم کے توہمات، دھوکے اور گمراہیوں سے دین ہی نجات دلا سکتا ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کے ایمان کا یہ بھی حصہ ہے کہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ نبی کریمؐ کو اپنے تمام معاملات کے اندر جج بنائیں اور آپ کے ارشادات کے سامنے سر جھکائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر رکن اسلام اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتا ہے۔ معاشرے کے مفلوک الحال طبقات کو ساتھ لے کر چلیں اور اپنے مال کے اندر انہیں بھی حصہ دار بنائیں۔ ہمیں رنگ و نسل، زبان اور جغرافیے کے اختلافات فراموش کرکے لا الٰہ الا اﷲ پر اکٹھا ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ زنا، شراب اور دیگر معاشرتی برائیوں کے فروغ کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر امیر اور غریب پر فرض عائد ہوتا ہے کہ دین کی امانت پوری کریں مگر خاص طور پر امت کے ارباب اقتدار اور اہل ثروت افراد جو منصوبہ بندی کر سکتے ہیں ان پر زیادہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس نازک دور میں اپنے فرائض پہچانیں اور امت کی بھنور میں پھنسی ہوئی کشتی کو نکالنے کیلئے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ امت کے پاس افرادی قوت اور وسائل کی کمی نہیں ہے، ہمیں یہ صلاحیتیں دوسروں کو دینے کی بجائے اپنے لئے استعمال کرنی چاہئے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کے راستوں کی رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ امت کے اخبارات، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور دیگر نشریاتی اداروں کو چاہئے کہ دین کے تشخص، ثقافتی اقدار اور روایات کو نئی نسل تک منتقل کریں۔ انہوں نے کہا کہ امت کے دانشوروں اور اہل علم پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان تک جو علم منتقل ہوا ہے وہ اگلی نسل تک وہ پہچائیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء پر فرض ہے کہ وہ دعوت دین کے فریضہ سے غافل نہ ہوں تاکہ دین اگلی آنے والی نسلوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس امت کے مفتیوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ دین کی گہرائی تک پہنچ کر فتویٰ دینے کا فریضہ ادا کریں۔ کچے پکے علم اور دین کی گہرائی تک پہنچے بغیر فتوے صادر نہ کریں اور علم الفتاویٰ کے تقاضے پورے کریں۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین تعلیم اور تعلیمی اداروں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام میں دین کی روح کو نظر انداز نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ دین کا ماضی کی عظمت رفتہ سے مقابلہ کیا جائے تو آج صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے روابط بہتر کریں، برداشت پیدا کریں اور اپنے تجربات ایک دوسرے کو منتقلی کریں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو قیامت کے دن ہماری پکڑ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت مختلف قسم کی آوازیں، پروگرام اور تنظیمیں ہیں جن کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اقدار سے بیگانہ کر دیا جائے۔ ہمیں دین اور اقدار سے ٹکرانے والی آوازوں کو مسترد کر دینا چاہئے۔ ایسے لوگوں کی معاشرے کے اندر حوصلہ افزائی کی جائے جو سچے اور امانت دار ہیں اور لوٹ کھسوٹ میں مبتلا نہیں ہیں۔ جب تک صالح اور امانت دار قیادت ہمارے معاشروں میں نہیں آئے گی ہمارے حالات نہیں بدلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں امت کے سربراہان مملکت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں ظلم حد سے بڑھ چکا ہے۔ انہیں محروم طبقات کی فکر اور مظلومین کو ان کے حقوق دلانے چاہئیں، اﷲ ظلم پسند نہیں کرتا۔ اگر انہوں نے اس سے غفلت برتی تو انہیں اﷲ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔





--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Wednesday, November 25, 2009

قربانی کرنے والوں کے لئے ہدایات



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

The importance of establishing Prayer

The importance of Prayer (SALAAT)

The importance of establishing Prayer has been mentioned in the Holy Quran and Hadith, on several occasions:

Allah the Supreme states in the Holy Quran: �And keep the Prayer established, and pay the charity, and bow your heads with those who bow (in Prayer).�(Surah Baqarah)

On another occasion, it is stated: �Guard all your Prayers, and the middle Prayer; and stand with reverence before Allah.� (Surah Baqarah)

On yet another occasion, it is stated: �And keep the Prayer established at the two ends of the day and in some parts of the night.� (Surah Hud)

The "two ends of the day" mean the morning and evening. The time before noon is classified as morning and the time after it is classified as evening. The Morning Prayer is the Dawn (Fajr) Prayer, and the Prayers of the evening are the Afternoon (Zohr) and the Evening (Asr) Prayers. The Prayers for the night are the Sunset (Maghrib) and the Night (Isha) Prayers. (Tafseer Khazain ul Irfan)

The Holy Quran classifies Prayer as an act that is opposite to the habits of polytheists. It states, �Inclining towards Him - and fear Him, and keep the Prayer established, and never be of the polytheists.� (Surah Ruum)

In other words, not offering the Prayer is to be like the polytheists. This is further confirmed by the words of the Holy Prophet "The entity that lies between a bondman and disbelief, is the abandonment of Prayer." (Saheeh Muslim)

--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

یوم عرفہ کی خاص فضیلت



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

The Major Sins

The major sins are those acts which have been forbidden by Allah in the Quran and by His Messenger (SAW) in the Sunnah (practise of the Prophet), and which have been made clear by the actions of of the first righteous generation of Muslims, the Companions of the Prophet (SAW).
Allah Most High says in His Glorious Book:

If you avoid the major (part) of what you have been forbidden (to do), We will cancel out for you your (other) evil deeds and will admit you (to Paradise) with a noble entry. (al-Nisa 4:31)
Thus by this verse, Allah Most High has guaranteed the Garden of Paradise to those who avoid the major sins. And Allah Most High also says:
Those who avoid the greatest of sins and indecencies, and forgive when they are angry (al-Shra 42:37) Those who avoid the greatest sins and indecencies, except for oversights, (will find that) surely your Lord is ample in forgiveness. (Al-Najm 53:32)
The Messenger of Allah (SAW) said: "The five [daily] prayers, Friday to Friday, and Ramadan to Ramadan make atonement for what has happenned since the previous one when major sins have been avoided." It is therefore very important to determine exactly what the greatest vices, technically called "the major sins" (Kaba'ir), are, in order that Muslims should avoid them.
There is some difference of opinion among scholars in this regard. Some say these major sins are seven, and in support of their position they quote the tradition: "Avoid the seven noxious things"- and after having said this, the propeht (SAW) mentioned them: "associating anything with Allah; magic; killing one whom Allah has declared inviolate without a just case, consuming the property of an orphan, devouring usury, turning back when the army advances, and slandering chaste women who are believers but indiscreet." (Bukhari and Muslim)

'Abdullah ibn 'Abbas said: "Seventy is closer to their number than seven," and indeed that is correct. The above tradition does not limit the major sins to those mentioned in it. Rather, it points to the type of sins which fall into the category of "major." These include those crimes which call for a prescribed punishment (HADD; plural, HUDUD), such as theft, fornication or *****ery (ZINA), and murder; those prohibited acts for which a warning of a severe punishment in the Next is given in the Qur'an or the tradition; and also those deeds which are cursed by our Prophet (SAW). These are all major sins.

Of course, there is a gradation among them, since some are more serious than others. We see that the Prophet (SAW) has included SHIRK (associating someone or something with Allah) among them, and from the text of the Qur'an we know that a person who commits SHIRK will not his sin be forgiven and will remain in Hell forever.

Allah Most High says: Surely, Allah does not forgive associating anything with Him, and He forgives whatever is other than that to whomever He wills. (al-Nisa 4:48 and 116)

01. Associating anything with Allah
02. Murder
03. Practising magic
04. Not Praying
05. Not paying Zakat
06. Not fasting on a Day of Ramadan without excuse
07. Not performing Hajj, while being able to do so
08. Disrespect to parents
09. Abandoning relatives
10. Fornication and *****ery
11. Homo***uality(sodomy)
12. Interest(Riba)
13. Wrongfully consuming the property of an orphan
14. Lying about Allah and His Messenger
15. Running away from the battlefield
16. A leader's deceiving his people and being unjust to them
17. Pride and arrogance
18. Bearing false witness
19. Drinking Khamr (wine)
20. Gambling
21. Slandering chaste women
22. Stealing from the spoils of war
23. Stealing
24. Highway Robbery
25. Taking false oath
26. Oppression
27. Illegal gain
28. Consuming wealth acquired unlawfully
29. Committing suicide
30. Frequent lying
31. Judging unjustly
32. Giving and Accepting bribes
33. Woman's imitating man and man's imitating woman
34. Being cuckold
35. Marrying a divorced woman in order to make her lawful for the husband
36. Not protecting oneself from urine
37. Showing-off
38. Learning knowledge of the religion for the sake of this world and concealing that knowledge
39. Bertrayal of trust
40. Recounting favours
41. Denying Allah's Decree
42. Listening (to) people's private conversations
43. Carrying tales
44. Cursing
45. Breaking contracts
46. Believing in fortune-tellers and astrologers
47. A woman's bad conduct towards her husband
48. Making statues and pictures
49. Lamenting, wailing, tearing the clothing, and doing other things of this sort when an affliction befalls
50. Treating others unjustly
51. Overbearing conduct toward the wife, the servant, the weak, and animals
52. Offending one's neighbour
53. Offending and abusing Muslims
54. Offending people and having an arrogant attitude toward them
55. Trailing one's garment in pride
56. Men's wearing silk and gold
57. A slave's running away from his master
58. Slaughtering an animal which has been dedicated to anyone other than Allah
59. To knowingly ascribe one's paternity to a father other than one's own
60. Arguing and disputing violently
61. Witholding excess water
62. Giving short weight or measure
63. Feeling secure from Allah's Plan
64. Offending Allah's righteous friends
65. Not praying in congregation but praying alone without an excuse
66. Persistently missing Friday Prayers without any excuse
67. Unsurping the rights of the heir through bequests
68. Deceiving and plotting evil
69. Spying for the enemy of the Muslims
70. Cursing or insulting any of the Companiions of Allah's Messenger



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Qurbani - Haqeeqat -o- Aehmiyat



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Qurbani ka Waqt



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

What to Do and Not to do on Eid Day


 

In the name of Allah, the Most-Merciful, the All-Compassionate
 

"May the Peace and Blessings of Allah be Upon You"

 

Praise be to Allaah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge with Allaah from the evil of our own souls and from our bad deeds. Whomsoever Allaah guides will never be led astray, and whomsoever Allaah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is no god but Allaah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger.
 
  
Bismillah Walhamdulillah Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah
As-Salaam Alaikum Wa-Rahmatullahi Wa-Barakatuhu
 
 
What to do on Eid Day
 
 

The Sunnahs that the Muslim should observe on the day of Eid are as follows: 

 

1 – Doing ghusl before going out to the prayer. 

 

It was narrated in a saheeh hadeeth in al-Muwatta and elsewhere that Abd-Allaah ibn Umar used to do ghusl on the day of al-Fitr before going out to the prayer-place in the morning. Al-Muwatta 428. 

Al- Nawawi (may Allaah have mercy on him) said that the Muslims were unanimously agreed that it is mustahabb to do ghusl for Eid prayer. 

 

The reason why it is mustahabb is the same reason as that for doing ghusl before Jumuah and other public gatherings. Rather on Eid the reason is even stronger. 

 

 

2 – Eating after the prayer on Eid al-Adha: 

 

 

But on Eid al-Adha it is mustahabb not to eat anything until one comes back from the prayer, so he should eat from the udhiyah if he has offered a sacrifice. If he is not going to offer a sacrifice there is nothing wrong with eating before the prayer. 

 

 

3 – Takbeer on the day of Eid 

 

This is one of the greatest Sunnahs on the day of Eid because Allaah says (interpretation of the meaning): 

 

"(He wants that you) must complete the same number (of days), and that you must magnify Allaah [i.e. to say Takbeer (Allaahu Akbar: Allaah is the Most Great)] for having guided you so that you may be grateful to Him"

[al-Baqarah 2:185] 

 

It was narrated that al-Waleed ibn Muslim said: I asked al-Awzaai and Maalik ibn Anas about saying Takbeer out loud on the two Eids. They said, Yes, Abd-Allaah ibn Umar used to say it out loud on the day of al-Fitr until the imam came out (to lead the prayers). 

 

Al-Daaraqutni and others narrated that on the morning of Eid al-Fitr and Eid al-Adha, Ibn Umar would strive hard in reciting takbeer until he came to the prayer place, then he would recite takbeer until the imam came out. 

 

Ibn Abi Shaybah narrated with a saheeh isnaad that al-Zuhri said: The people used to recite Takbeer on Eid when they came out of their houses until they came to the prayer place, and until the imam came out. When the imam came out they fell silent, and when he said takbeer they said takbeer. See Irwa' al-Ghaleel, 1/121 

 

Saying takbeer when coming out of ones house to the prayer place and until the imam came out was something that was well known among the salaf (early generations). This has been narrated by a number of scholars such as Ibn Abi Shaybah, 'Abd a l-Razzaaq and al-Firyaabi in Ahkaam al-Eidayn from a group of the salaf. For example, Naafi ibn Jubayr used to recite takbeer and was astonished that the people did not do so, and he said, "Why do you not recite takbeer?" 

 

Ibn Shihaab al-Zuhri (may Allaah have mercy on him) used to say, "The people used to recite takbeer from the time they came out of their houses until the imam came in." 

The time for takbeer on Eid al-Fitr starts from the night before Eid until the imam enters to lead the Eid prayer. 

 

In the case of Eid al-Adha, the takbeer begins on the first day of Dhul-Hijjah and lasts until sunset on the last of the days of tashreeq. 

 

 

Description of the takbeer: 

 

It was narrated in the Musannaf of Ibn Abi Shaybah with a saheeh isnaad from Ibn Masood (may Allaah be pleased with him) that he used to recite takbeer during the days of tashreeq: 

 

Allaahu akbar, Allaahu akbar,

laa ilaaha ill-Allaah,

wa Allaahu akbar,

Allaah akbar, wa Lillaah il-hamd

 

(Allaah is Most Great, Allaah is most Great, there is no god but Allaah, Allaah is Most great, Allaah is most great, and to Allaah be praise). 

 

It was also narrated elsewhere by Ibn Abi Shaybah with the same isnaad, but with the phrase "Allaahu akbar" repeated three times. 

Al-Mahaamili narrated with a saheeh isnaad also from Ibn Masood: "Allaahu akbaru kabeera, Allaahu akbaru kabeera, Allaahu akbar wa ajallu, Allaahu akbar wa Lillaah il-hamd

(Allaah is Most Great indeed, Allaah is Most Great indeed, Allaah is most Great and Glorified, Allaah is Most Great and to Allaah be praise)." See al-Irwa', 3/126. 

 

 

4 – Offering congratulations 

 

The etiquette of Eid also includes the congratulations and good wishes exchanged by people, no matter what the wording, such as saying to one another

 

Taqabbala Allaah minna wa minkum

(May Allaah accept (good deeds) from us and from you" or "Eid mubaarak" and other permissible expressions of congratulations. 

 

It was narrated that Jubayr ibn Nufayr said: When the companions of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) met one another on the day of Eid, they would say to one another, "May Allaah accept (good deeds) from us and from you." Ibn Hajar said, its isnaad is hasan. Al-Fath, 2/446. 

 

Offering congratulations was something that was well known among the Sahaabah, and scholars such as Imam Ahmad and others allowed it. There is evidence which suggests that it is prescribed to offer congratulations and good wishes on special occasions, and that the Sahaabah congratulated one another when good things happened, such as when Allaah accepted the repentance of a man, they went and congratulated him for that, and so on. 

 

Undoubtedly these congratulations are among the noble characteristics among the Muslims. 

 

 

5 – Adorning oneself on the occasion of Eid. 

 

It was narrated that Abd-Allaah ibn Umar (may Allaah be pleased with him) said that Umar took a brocade cloak that was for sale in the market and brought it to the Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him), and said, "O Messenger of Allaah, buy this and adorn yourself with it for Eid and for receiving the delegations." The Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) said to him, "Rather this is the dress of one who has no share (of piety or of reward in the Hereafter)…" Narrated by al-Bukhaari, 948. 

The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) agreed with Umar on the idea of adorning oneself for Eid, but he denounced him for choosing this cloak because it was made of silk. 

 

It was narrated that Jaabir (may Allaah be pleased with him) said: The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) had a cloak which he would wear on the two Eids and on Fridays. Saheeh Ibn Khuzaymah, 1756, 

 

Al-Bayhaqi narrated with a saheeh isnaad that Ibn Umar used to wear his best clothes on Eid

 

So a man should wear the best clothes that he has when going out for Eid

 

With regard to women, they should avoid adorning themselves when they go out for Eid, because they are forbidden to show off their adornments to non-mahram men. It is also haraam for a woman who wants to go out to put on perfume or to expose men to temptation, because they are only going out for the purpose of worship. 

 

 

6 – Going to the prayer by one route and returning by another.

 

It was narrated that Jaabir ibn Abd-Allaah (may Allaah be pleased with him) said: On the day of Eid, the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) used to vary his route. Narrated by al-Bukhaari, 986. 

 

It was said that the reason for that was so that the two routes would testify for him on the Day of Resurrection, for the earth will speak on the Day of Resurrection and say what was done on it, both good and bad.  

 

 


 

 

What NOT to do on Eid Day


1. To shave the beards especially for Eid. The Prophet [pbuh] has ordered us not to shave our beards; so it is a shame that, on this great day of demonstrating our differences in ceremonies to those of the Mushriks, that some Muslim shaves his beard so that he looks "clean" like the Mushriks.

 

2. To imitate the Mushriks in their practices and dress, and to shake hands with women. The Prophet [pbuh] said: "It is better that a man is hit with needle on his head than to touch a woman who is not lawful for him." [Silsilat al-Ahadeeth as-Sahiha]

 

3. To listen to music on Eid. The Prophet [pbuh] said: "There will be some in my nation who will regard adultery, men dressing in silk, drinking intoxicants (al-Khamr), and musical instruments to be lawful." [Bukhaari, Abu Dawood and Bayhaqee]

 

4. For women not to wear Hijaab. To do so is to celebrate Eid while committing a major sin.

 

5. To visit the graveyard especially on Eid. It is permitted to visit the graveyard all year long so we should not make a special case out of it on Eid.

 

6. To waste money and being extravagant with food instead of giving them to the poor.


--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Tuesday, November 24, 2009

Qurbani - Eahkaam-o-Masail [Part-2]

 مسند احمد کی روایت میں ایک حدیث پاک ہے حضرت زین بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ¿ کرام نے عرض کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا قربانی تمہارے ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا ہمارے لئے اس میں کیا ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ایک ایک بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔
 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قربانی کے دن اس سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں۔ قیامت کے دن قربانی کا جانور سینگوں، بالوں، کھروں کے ساتھ لایا جائے گا اور قربانی کرنے والا قربانی کے جانور کے خون کے زمیں پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کی سند لے لیتا ہے اس لئے تم قربانی خوشدلی سے کرو۔ ابن ِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتہیں کہ قربانی سے زیادہ کوئی دوسرا عمل زیادہ افضل نہیں الا یہ کہ رشتہ داری کا پاس کیا جائے۔ (طبرانی)
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمة الزہراءرضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی قربانی ذبح ہوتے وقت موجود رہو کیونکہ پہلا قطرہ خون گرنے سے پہلے انسان کی مغفرت ہوجاتی ہے۔
 قربانی کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث ہیں اس لئے اہل ِ اسلام سے درخواست ہے کہ اس عبادت کو ہرگز ترک نہ کریں جو کہ اسلام کے شعائر میں سے ہیں اور اس سلسلہ میں شرائط اور آداب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے انہیں پیش ِ نظر رکھیں اور قربانی کا جانور خوب دیکھ بھال کر خریدیں۔ قربانی سے متعلق مسائل درج ذیل ہیں:
مسئلہ نمبر ۱: جس شخص پر صدقہ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے۔ (ہر عاقل ، بالغ مرد و عورت مسلمان مقیم جس کے پاس سونے یا چاندی کا نصاب 87.48گرام (ساڑھے سات تولہ) سونا یا 612.36 (ساڑھے باون تولہ) چاندی ہو یا حاجات ضروریہ سے زائد اتنی ہی مالیت کا سامان موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہے)۔
مسئلہ نمبر۲: مسافر پر قربانی واجب نہیں۔
مسئلہ نمبر۳: قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ سے لے کر بارہویں ذی الحجہ کی شام تک ہے، بارہویں ذی الحجہ کا سورج غروب ہو جانے کے بعد درست نہیں۔ قربانی کا جانور دن کو ذبح کرنا افضل ہے اگرچہ رات کو بھی ذبح کیا جاسکت اہے لیکن افضل بقرعید کا دن پھر گیارہویں اور پھر بارہویں ذی الحجہ ہے۔
مسئلہ نمبر۴: شہر اور قصبوں میں رہنے والوں کیلئے عید الاضحی کی نماز پڑھ لینے سے قبل قربانی کا جانور ذبح کرنا درست نہیں، دیہات اور گاﺅں والے فجر کی نماز سے پہلے بھی قربانی کا جانور ذبح کرسکتے ہیں، اگر شہری اپنا جانور قربانی کیلئے دیہات میں بھیج دے تو وہاں اس کی قربانی بھی نماز عید سے قبل درست ہے اور ذبح کرانے کے بعد اس کا گوشت منگواسکتا ہے۔
مسئلہ نمبر۵: اگر مسافر مالدار ہو اور کسی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت کرے، یا بارہویں ذی الحجہ کو سورج غروب ہونے سے پہلے گھر پہنچ جائے، یا کسی نادار آدمی کے پاس بارہویں ذی الحجہ کو سورج غروب ہونے سے پہلے اتنا مال آجائے کہ صاحب نصاب ہوجائے، تو ان تمام صورتوں میں اس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے۔
مسئلہ نمبر۶: قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا زیادہ اچھا ہے اگر خود ذبح نہ کرسکتا ہوتو کسی اور سے بھی ذبح کراسکتا ہے۔
مسئلہ نمبر۷: قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت زبان کی نیت پڑھنا ضروری نہیں دل میں پڑھ سکتا ہے۔


--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Friday, November 20, 2009

Are you Jealous (Hasad) of what others have ?



---------- Forwarded message ----------
From: Fasih Ur Rahman Khan <fasih.rehman79@gmail.com>
Date: Tue, Nov 10, 2009 at 11:12 PM
Subject: Fwd: [LoveIslam] Are you Jealous (Hasad) of what others have ?
To: Allah_Muhammad_SAW_Quraan <Allah_Muhammad_SAW_Quraan@yahoogroups.com>, Khatm-e-Nubuwwat <Khatm-e-Nubuwwat@yahoogroups.com>, yoursks@googlegroups.com




---------- Forwarded message ----------
From: Adil ibn Manzoor Khan <ahmad_adil@yahoo.com>
Date: Sun, Nov 8, 2009 at 4:28 PM
Subject: [LoveIslam] Are you Jealous (Hasad) of what others have ?
To: ADIL KHAN <AHMAD_ADIL@yahoo.com>


 

 

In the name of Allah, the Most-Merciful, the All-Compassionate
 
"May the Peace and Blessings of Allah be Upon You"

 

Praise be to Allaah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge with Allaah from the evil of our own souls and from our bad deeds. Whomsoever Allaah guides will never be led astray, and whomsoever Allaah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is no god but Allaah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger.
 
  
Bismillah Walhamdulillah Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah
As-Salaam Alaikum Wa-Rahmatullahi Wa-Barakatuhu
 
Are you jealous of what others have ?
By Shawana A. Aziz
 

Hasad (jealousy and envy) is among the most destructive emotions which a man may develop toward his fellow human being.
 
With Hasad, a person will wish evil for others and will be happy when misfortune befalls them.
 
The Prophet (peace be upon him) warned against envy by comparing it to fire that completely burns the wood.
 
He (peace be upon him) said: "Beware of jealousy, for verily it destroys good deeds the way fire destroys wood." (Abu Dawood)

The Prophet (peace be upon him) said: "There has come to you the disease of the nations before you, jealousy and hatred. This is the "shaver" (destroyer); I do not say that it shaves hair, but that it shaves (destroys) faith…" (Al-Tirmidhi, No. 2434)

Hasad can take a person into disbelief because he may conclude that Allah has not been fair with him, while Allah is the Most Just.
 
The person may forget all of Allah's mercy and blessings bestowed upon him.
The Messenger of Allah (peace be upon him) said:
"They are enemies of Allahs bounties."
When asked, "Who are they?",
he replied: "Those who envy people for what Allah has given them of Bounty."
(At-Tabarani)

Allah through His Absolute Wisdom gave some people more wealth, intelligence, beauty, strength, and children than others. Discontentment comes from the slaves ignorance of his Lord. If he recognizes his Lord with the attributes of Perfection, he would not be discontent and as a result would not develop Hasad. A believing Muslim should be content with what Allah has destined for him.
 
Imam Ibn Qayyim said: "It (contentment) opens the door of peace and security for the slave."
"Allah favored some of you over others with wealth and properties… Do they deny the favors of Allah?" (Quran, 16:71)
 
"Do they envy men for what Allah has given them of His Bounty?" (Quran, 4:54)

"It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks, so that some may employ others in their work. But the mercy of your Lord is better." (Quran, 43:32)
 
This means that the mercy of Allah is better than the convenience of the world.
 
Material things of this life do not make one superior over another.
True superiority lies in Taqwa (righteousness and fear of Allah).
Allah said: "Surely, the most noble of you to Allah is the most God-fearing."
(Quran, 49:13)
 
"And the Hereafter with Your Lord is (only) for those who have Taqwa."
(Quran, 43:35)
 
What belongs to the transient world is of no significance at all before Allah. The Prophet (peace be upon him) said: "If this world were worth a mosquitos wing before Allah, He would not give a disbeliever a drink of water." (Al-Tirmidhi)
 
In order to discourage envy, the Prophet (peace be upon him) said: "Do not look to those above you. Look to those below you, as it will more likely remind you of Allahs favors bestowed on you."
(Al-Bukhari and Muslim)

On another occasion, he said: "If one of you looks at someone wealthier and better built than him, he should also look at someone of lower standard than himself." (Sahih Muslim)
 
 
Good Envy

What Islam permits in contrast to Hasad (destructive jealousy) is Ghibtah (envy that is free from malice). It means that a person neither wishes for misfortune to fall on others nor does he hate the blessings with them. He desires for similar blessings without having any ill-feeling toward others.

The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Envy is allowed in two cases: a man whom Allah has given the Quran and who recites it throughout night and day; and a man on whom Allah has bestowed wealth who gives it away night and day." (Al-Bukhari and Muslim)

The Prophet (peace be upon him) also explained what is allowed to be said: "I wish I were given what he was given and did with it what he did."

The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The similitude of the people of this Ummah is like that of four individuals. One whom Allah has given wealth and knowledge, so he handles his wealth with knowledge.
One whom Allah has given knowledge but not wealth, and he says, "Lord, should I have wealth like so-and-so, I would have handled it like him."
So they both have the same reward. Such a person loves to have wealth like others so he can do good like others without wishing that others lose their wealth.

"Another man whom Allah gave wealth but no knowledge spends it in disobedience to Allah. And last, a man whom Allah has not given knowledge or wealth but who says, 'Should I have wealth like so-and-so, I would spend it in the way he does.' So, both will have the same sin against them." (Al-Tirmidhi and Ibn Majah) – As-Sunnah
 
 
 

 

__,_._,___




--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Thursday, November 19, 2009

Plantation of a tree

P5


__._,_.___
 
 ,_._,___






--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Qurbani - Eahkaam-o-Masail [Part-1]

 عشرہ ذی الحجہ کے فضائل: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے عشرہ ذی الحجہ سے بہتر کوئی زمانہ نہیں۔ ان میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اور ایک رات کی عبادت سب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔ (ترمذی، ابن ِ ماجہ)
 قرآن مجید میں سورہ "والفجر"میں اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور وہ دس راتیں جمہور کے قول کے مطابق یہی عشرہ ذی الحجہ کی راتیں ہیں۔ خصوصاً نویں ذی الحجہ کا روزہ رکھنا ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے اور عید کی رات بیدار رہ کر عبادت میںمشغول رہنا بڑی فضیلت اور ثواب کا موجب ہے۔
 نویں ذی الحجہ کی صبح سے تیرہویں ذی الحجہ کی عصر تک ہر نماز کے بعد بآواز بلند ایک مرتبہ مذکورہ تکبیر کہنا واجب ہے۔ فتویٰ اس پر ہے کہ باجماعت اور تنہا نماز پڑھنے والے اس میں برابر ہیں۔ اسی طرح مرد و عورت دونوں پر واجب ہے۔ البتہ عورت بآواز بلند تکبیر نہ کہے، آہستہ کہے۔ (شامی)
 عید الاضحی کے دن درج ذیل امور مسنون ہیں: صبح سویرے اٹھنا، غسل و مسواک کرنا، پاک صاف عمدہ کپڑے جو اپنے پاس ہوں پہننا، خوشبو لگانا، نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا، عید گاہ کو جاتے ہوئے راستہ میں بآواز بلند تکبیر کہنا۔
 نماز عید: نماز عید دو رکعت ہیں، نماز عید اور دیگر نمازوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں ہر رکعت کے اندر تین تین تکبیریں زائد ہیں۔ پہلی رکعت میں سُب±حَانَکَ اللّٰھُمَّ پڑھنے کے بعد قرا¿ت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قرا¿ت کے بعد رکوع سے پہلے۔ ان زائد تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ اٹھانا چاہیے، پہلی رکعت میں دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ دوسری رکعت میں تینوں تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدئےے جائیں، چوتھی تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں۔ نماز عید کے بعد خطبہ سننا واجب ہے۔
 فضائل قربانی: قربانی کرنا ہر عاقل، بالغ مرد و عورت مسلمان مقیم واجب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ہر سال قربانی فرمائی کسی سال ترک نہیں فرمائی، مواظبت واجب ہونے کی دلیل ہے۔ مواظبت کا مطلب لگاتار کرنا اور کسی سال نہ چھوڑنا ہے اور اس سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کرنے والوں پر وعید ارشاد فرمائی۔ حدیث پاک میں بہت سی وعیدیں ملتی ہیں مثلاً آپ کا یہ ارشاد کہ جو قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے، علاوہ ازیں قرآن پاک میں بعض آیات، قربانی کے سلالہ میں قطعی الدلالة تو نہیں البتہ قطعی الثبوت ہیںان سے وجوب ثابت ہے جو لوگ حدیث کو حجت نہیںمانتے وہ قربانی کا انکار کرتے ہیں ان سے جو لوگ متاثر ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں پیسے دے دئےے جائیں یا یتیم خانہ میں رقم دے دی جائے تو یہ بالکل غلط ہے۔ عمل کی ایک تو صورت ہوتی ہے دوسری حقیقت ہے۔ قربانی کی صورت یہی ضروری ہے۔ اس کی بڑی مصلحتیں ہیں اور اس کی حقیقت اخلاص ہے۔ آیت قرآنی سے یہی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ قربانی کی بڑی فضیلتیں ہیں۔
 
 
For Detailed Reading Click Here


--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Fazaail -e- Zilhajj



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Wednesday, November 18, 2009

Beshak Allah shirk ko Nahi Bakhsega






http://www.quran-o-sunnah.com/khas/khas/shirak-1.gif
http://www.quran-o-sunnah.com/khas/images/form_raye.gif

 




         

     

 




 
--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Needs of the Muslim Brother

Narrated 'Abdullah bin Umar: Allah's Apostle said,

"A Muslim is a brother of another Muslim, so he should not oppress him, nor should he hand him over to an oppressor. Whoever fulfilled the needs of his brother, Allah will fulfill his needs; whoever brought his (Muslim) brother out of a discomfort, Allah will bring him out of the discomforts of the Day of Resurrection, and whoever screened a Muslim, Allah will screen him on the Day of Resurrection ."

Bukhari : Book 3 : Volume 43 : Hadith 622

--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit:
http://123iqra.com
http://123iqraa.blogspot.com
Read archives at:
http://yoursks.googlegroups.com

"صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Azadi ki Hawa Chal Rahee hai


http://www.readnsend.net?Faisal%20Shahzad
 

http://www.readnsend.net?Faisal%20Shahzad
 



http://www.readnsend.net?Faisal%20Shahzad

Friday, November 6, 2009

میری ماں


میری ماں
 

Bas yahi hey wajah nakaami ki




یہ دور ہے افرا تفریح کا

یہ وقت ہے نفسا نفسی کا

کچھ ہوش نہیں انسانوں کو

خطرہ ہے سب کی جانوں کو

ایک خوف سا سب پر چھایا ہے

ہر چہرہ ہی مرجھایا ہے

کیوں دنیا میں اندھیرا ہے

کیوں ظلم نے سب کو گھیرا ہے

آواز یہ دل سے آتی ہے

اور راز مجھے بتلاتی ہے

دین کو ہم نے چھوڑ دیا

اور قرآن سے رشتہ توڑ دیا

بس یہ ہے وجہ بربادی کی

بس یہی ہے وجہ ناکامی کی


Thursday, November 5, 2009

MOTHER

A little boy came up to his mother in the kitchen one evening while she was fixing supper, and he handed her a piece of paper that he had been writing on. After his mom dried her hands on an apron, she read it, and this is what it said:

For cutting the grass: $5.00
For cleaning up my room this week: $1.00
 
For going to the store for you: $.50
Baby-sitting my kid brother while you went shopping: $.25
Taking out the garbage: $1.00
For getting a good report card: $5.00
For cleaning up and raking the yard: $2.00
Total owed: $14.75 
 
Well, his mother looked at him standing there, and the boy could see the memories flashing through her mind. She picked up the pen, turned over the paper he'd written on, and this is what she wrote:
 
For the nine months I carried you while you were growing inside me: No Charge.
 
For all the nights that I've sat up with you, doctored and prayed for you: No Charge.
 
For all the trying times, and all the tears that you've caused through the years: No Charge.

For all the nights filled with dread, and for the worries I knew were ahead: No Charge.
For the toys, food, clothes, and even wiping your nose: No Charge.
 
When you add it up, the cost of my love is: No Charge.
 
When the boy finished reading what his mother had written, there were big tears in his eyes, and he looked straight up at his mother and said, "Mom, I sure do love you."
 
And then he took the pen and in great big letters he wrote: "PAID IN FULL".