سورة الرحمن میں "فبأي آلاء ربكما تكذبان" 31 مرتبہ کیوں دہرائی گئی ہے؟
قرآن کریم کی دلہن، یعنی "سورة الرحمن" ایک ایسی سورت ہے
سورة الرحمن میں "فبأي آلاء ربكما تكذبان" 31 مرتبہ کیوں دہرائی گئی ہے؟
قرآن کریم کی دلہن، یعنی "سورة الرحمن" ایک ایسی سورت ہے
خبردار تم چیزوں کے کھو جانے پر کبھی غم نہ کرنا کچھ چیزیں ایسی تھیں جن کا ہمیشہ کے لیے چلے جانا ہی بہتر تھااور کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں بہت پہلے ہی دوبارہ اجنبی بن جانا چاہیے تھا
فرعون کی بیوی نےخود کو تب بدلا جب وہ خدائی کا دعویٰ کرنے والے کے محل میں تھی ۔ نوح علیہ السلام کے بیٹے نے اس وقت بھی خود کو بدلنے سے انکار کردیا جب وہ ایک نبی کے گھر میں تھا
قرآن کریم میں کئی مقامات ایسے ہیں جہاں تفسیر سے زیادہ تخیل کی ضرورت ہوتی ہے یعنی آیت پر رُک کر سوچنا اور اپنے آپ کو اُس منظر میں لے جانا جہاں وہ واقعہ پیش آ رہا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اپنے تخیل کو قرآن کے ساتھ پرواز
یہ تاریخی مقام خانہ کعبہ کے پاس اس جگہ واقع ہے جہاں سفرِ معراج کے بعد سیدنا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پنجگانہ نمازوں کے اوقات کا شرعی تعین
حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مجھے چار واقعات زندگی میں بڑے عجیب لگے۔ آپ نے فرمایا۔
1۔ ایک نوجوان کے ہاتھ میں چراغ تھا تو میں نے نوجوان سے سوال کیا کہ بتاؤ یہ روشنی کہاں سے آئی تو جیسے ہی میں نے یہ پوچھا کہ یہ روشنی کہاں سے آئی
کیا آپ نے اس سے پہلے صحابیہ جلیلہ حضرت دُرّہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا کے بارے میں سنا ہے؟
وہ رسول اللہ ﷺ کی چچا زاد بہن ہیں۔
ان کے والد ابو لہب اور ان کی والدہ 'حمالۃ الحطب' (ام جمیل، آگ کا ایندھن اٹھانے والی) ہیں، اور ان کے دو بھائی عتبہ اور عتیبہ ہیں…
اور پتہ ہے رب کی خوبصورت صفت کیا ہے؟؟