تکبر - اصل قاتل
نمرود، وہ شخص جس نے خود کو خدا کہلوانا شروع کر دیا تھا، ایک وقت آیا کہ ایک معمولی سے مچھر کے سامنے بے بس ہو کر رہ گیا۔ اس کی ساری طاقت، غرور، لشکر اور شان و شوکت سب مٹی میں
نمرود، وہ شخص جس نے خود کو خدا کہلوانا شروع کر دیا تھا، ایک وقت آیا کہ ایک معمولی سے مچھر کے سامنے بے بس ہو کر رہ گیا۔ اس کی ساری طاقت، غرور، لشکر اور شان و شوکت سب مٹی میں
سورۃ ق قرآن کریم کی عظیم ترین سورتوں میں سے ایک سورۃ جو دل کو بیدار کرتی ہے، ایک ایسی سورۃ ہے جو ان مناظر سے بھری ہوئی ہے جو انسان کو اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں
ﺳﻤﻨﺪﺭﮐﻨﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﭘﮧ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﻧﺴﻼ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍ ﭼﻠﯽ ﺗﻮ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﮔﯿﺎ ﭼﮍﯾﺎ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮ ﮔﯿﻠﮯ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﮭﮍﺍ ﮔﺌﯽ ....۔۔
ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ
اکثر ہم دوسروں کی غلطیوں کو دل پر لگا لیتے ہیں، اور ان کو معاف نہ کرنے کی وجہ سے دل میں بوجھ رکھتے ہیں۔ مگر اصل نقصان ہمیں خود ہوتا ہے، کیونکہ غصہ اور کینہ ہمارے دل کا سکون چھین لیتا ہے۔ 💔
🔑 معاف کرنا ضروری ہے
گناہوں کے دنیاوی نقصانات:
رزق میں تنگی اور برکت کا خاتمہ:
گناہ رزق کو کم کر دیتے ہیں اور حاصل شدہ نعمتوں میں
تاریخ طبری میں مروی ہے کہ:
جب اللہ تعالیٰ نے 'نہاوند' کی فتح مکمل فرما دی، تو سائب بن اقرع، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے،
اور کہا: "اے امیر المؤمنین! فتح کی خوشخبری
ہابیل اور قابیل کا واقعہ __!!
جنت میں کچھ ایسے مقام ہیں کچھ ایسے درجے ہیـں کچھ ایسی کرسیاں ہیں جن تک نہ نماز کے جا سکتی ہے نہ دروازہ نہ حج وہاں تک صرف ایک ہی راستہ جاتا ہے وہ ہے
سورہ بقرہ
1۔ کتابِ ہدایت اور انسانی رویے
(آیت 1 تا 20)
پارے کا آغاز اس اعلان سے ہوتا ہے کہ یہ کتاب (قرآن) شک سے پاک ہے اور صرف ان لوگوں کو راستہ دکھاتی ہے جو تقویٰ (خدا خوفی) رکھتے ہیں۔
سورہ فاتحہ قرآن کریم کی پہلی اور سب سے اہم سورت ہے، جسے "ام القرآن" (قرآن کی ماں) اور "السبع المثانی" (بار بار دہرائی جانے والی سات آیات) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مکمل دعا اور بندگی کا منشور ہے۔
1۔ اللہ کی حمد و ثنا اور ربوبیت
(آیت 1-2)
حمد کی حقیقت: سورت کا آغاز "الحمد للہ" سے ہوتا ہے،
پندرہواں پارہ (سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف کا ابتدائی حصہ) انسان کی حقیقی کامیابی کے چند بنیادی اصول واضح کرتا ہے
بارہویں پارے میں انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات اور ان کی دعوتِ حق کا نہایت مؤثر انداز میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس پارے میں خاص طور پر حضرت نوحؑ، حضرت ہودؑ، حضرت صالحؑ، حضرت لوطؑ اور حضرت شعیبؑ علیہما السلام