Thursday, May 14, 2026

دنیا اور ہم

یہ وہی دنیا ہے جس نے یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینکا، پھر حقیر قیمت پر بیچ ڈالا، جس کا گناہ صرف یہ تھا کہ وہ حسین تھا، سچا تھا، محبوب تھا،
یہ وہی دنیا ہے جس نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینک دیا، صرف اس لئے کہ انہوں نے کہا:
"میرا رب اللہ ہے"، آگ بھی ٹھنڈی ہو گئی، مگر لوگوں کے دل نہ پگلے،
یہ وہی دنیا ہے جس نے موسیٰ علیہ السلام کو مصر سے نکال دیا، دربدر کر دیا،اور فرعون کے لشکر کو ان کے پیچھے لگا دیا، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑے ہو گئے،
یہ وہی دنیا ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو طائف میں پتھر مارے، یہاں تک کہ جوتے مبارک خون سے بھر گئے، انہوں نے معافی مانگی، بدعا نہ دی، اور یہی دنیا تھی جس نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جادو گر، مجنون، جھوٹے الزام لگائے،
دنیا سچے لوگوں کو کبھی کندھوں پر نہیں اٹھاتی،
وہ انہیں ٹھوکریں مارتی ہے،کیونکہ سچ ان کی جھوٹی عمارت کو ہلا دیتا ہے، دنیا مخلص لوگوں کو سر پر نہیں بٹھاتی، وہ انہیں تنہا کر دیتی ہے، کیونکہ مخلص لوگ اس کے حساب کتاب بگاڑ دیتے ہیں،
اگر تم نے یوسف علیہ السلام کا راستہ چنا ہے، تو کنویں کے لیے تیار رہو، اگر تم نے موسیٰ علیہ السلام کا راستہ چنا ہے، تو دربدر ہونےکے لیے تیار رہو،
اگر تم محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا راستہ چنا ہے، تو طائف کے پتھروں کے لیے تیار رہو،
جو دنیا نے انبیاء کے ساتھ کیا، وہ تمہارے ساتھ کیا نہیں کرے گی؟ تم کون ہو جو اس سے وفا کی امید رکھو؟
امید اس سے باندھو جس نے یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکال کر تخت پر بیٹھایا،
امید اس سے باندھو جس نے ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کو گلزار بنا دیا،
امید اس سے باندھو جس نے موسیٰ علیہ السلام کے لیے سمندر چیر دیا،
امید اس سے باندھو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو طائف کے بعد فتح مکہ عطا کی،
یہ دنیا تمہیں گرائے گی، وہ اٹھائے گا، دنیا تمہیں اکیلا کرے گی، وہ ساتھ دے گا، دنیا تمہیں بھولے گی،
وہ یاد رکھے گا،
دنیا کا کام ہے آزمانا، تمہارا کام ہے ثابت قدم رہنا،
دنیا کا کام ہے پتھر مارنا، تمہارا کام ہے مسکرا کر دعا دینا:
"اے اللہ ان کو ہدایت دے، یہ جانتے نہیں"،

No comments: