Sunday, May 10, 2026

سماعت علم اور ہدایت کا دروازہ

قرآن مجید میں سماعت کو بصارت سے پہلے کیوں ذکر کیا گیا ہے ؟

 ایک قلبی کیفیت اور قرآنی راز ہم روزانہ کتنی ہی ایسی نعمتوں کے ساتھ جیتے ہیں جن کی عظمت کا ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔ ہم اپنے اردگرد آوازیں سنتے ہیں، چہرے اور روشنیاں دیکھتے ہیں، اور پھر ان کے پاس سے یوں گزر جاتے ہیں جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو۔ لیکن قرآنِ کریم غافل کو بیدار کرتا ہے، اور ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر نعمت کے پیچھے ایک حکمت ہے، اور (الفاظ کی) ہر تقدیم و تاخیر (آگےپیچھے ہونا) کے پیچھے ایک اعجاز ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَاللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾
ترجمہ: "اور اللہ ہی نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، اور اس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزار بنو۔"

غور فرمائیے... اللہ تعالیٰ نے قرآن کے اکثر مقامات پر سماعت (سننے) کو بصارت (دیکھنے) پر مقدم رکھا ہے، کیونکہ سماعت وہ پہلی کھڑکی ہے جس کے ذریعے انسان زندگی کا ادراک کرتا ہے۔ یہ وہ حاسہ ہے جو (پیدائش سے بھی پہلے) جلد شروع ہو جاتا ہے، اور اس کا اثر اندھیرے میں بھی باقی رہتا ہے، یہاں تک کہ آنکھیں بند کر لینے کے بعد بھی۔

ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے مگر سن سکتے ہیں... لیکن اگر روشنی کٹ جائے تو ہم دیکھ نہیں سکتے۔

مزید یہ کہ  سماعت علم اور ہدایت کا دروازہ ہے، اسی کے ذریعے آیات کی تلاوت سنی جاتی ہے، اسی سے وحی سنی جاتی ہے، اور اسی کے ذریعے نصیحت دل میں اترتی ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾
ترجمہ: "بے شک اللہ ہی سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔"

قرآن کے لطائف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صرف دو مقامات پر بصارت (دیکھنے) کو سماعت پر مقدم کیا گیا، اور وہاں بھی ایک عظیم حکمت ہے:

سورہ الکہف میں:
﴿أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ﴾
کیونکہ اصحابِ کہف لوگوں کی نظروں سے چھپ گئے تھے، لیکن وہ اللہ کی نظر (بصارت) سے اوجھل نہیں تھے۔

سورہ السجدہ میں:
﴿رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا﴾
جب مجرم قیامت کے دن اپنی آنکھوں سے حقائق دیکھ لیں گے، تو یہاں دیکھنے کو پہلے ذکر کیا گیا کیونکہ اس وقت منظر ایسا یقینی ہوگا جس میں کسی جدال کی گنجائش نہ ہوگی۔

سبحان اللہ! الفاظ کی یہ ترتیب بھی ہدایت ہے، اور حروف کی یہ تقدیم و تاخیر بھی رحمت ہے۔ ہر لفظ اس "حکیم و علیم" کے ترازو میں تول کر رکھا گیا ہے۔

پس جب تم قرآن سنو، تو سماعت کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرو۔

جب تم اپنے پیاروں کے چہرے دیکھو، تو بصارت کی نعمت پر شکر ادا کرو۔

اور جب تمہارا دل تدبر اور سمجھ بوجھ حاصل کرے، تو دل کی نعمت پر شکر بجا لاؤ۔

اے اللہ! مجھ پر سماعت، بصارت اور عافیت کی نعمتیں ہمیشہ برقرار رکھ، اور مجھے غافل لوگوں میں شامل نہ کر

اے اللہ! تمام مومن مردوں اور عورتوں کو جب تک وہ زندہ ہیں ان کی سماعت، بصارت اور قوت سے نفع پہنچا، اور انہیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار بنا۔ 
دعا گو: ثناءاللہ حسین ۔9/5/26.

No comments: