اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
(إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ) "بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کر دی۔"
جبکہ سورہ آلِ عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ...)
"آپ کہیے کہ اے اللہ! اے بادشاہی کے مالک، تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے..."
لفظ "عطاء" اور "ایتاء" کے درمیان کیا فرق ہے؟
سورہ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ نے (تُؤْتِي الْمُلْكَ) فرمایا اور (تعطي الملك) نہیں کہا، کیونکہ لفظ "عطاء" (دینا) اس "نزع" (واپس چھین لینے) کے تصور سے متصادم ہے جس کا ذکر اسی آیت میں آگے آ رہا ہے۔
آیت کریمہ میں ذکر ہے کہ اللہ جس سے چاہتا ہے بادشاہی چھین لیتا ہے، لہٰذا یہاں "ایتاء" (دینا) کا لفظ استعمال ہوا، کیونکہ "ایتاء" ایسی عطا یا منحت ہے جسے واپس لیا جا سکتا ہے۔
جہاں تک "عطاء" کا تعلق ہے، تو یہ ایسی بخشش یا ملکیت ہے جسے واپس نہیں لیا جاتا، اور جسے یہ مل جائے اسے اس میں مکمل تصرف (مرضی چلانے) کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
(هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ)
"یہ ہماری عطا ہے، اب تو (جسے چاہے) احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں۔"
یعنی یہ اللہ کی وہ عطا ہے جس میں آپ کو اپنی مرضی کے مطابق تصرف کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
جنت اور لفظِ "عطاء"
اسی مناسبت سے قرآن مجید میں جنت کے ذکر کے ساتھ لفظ "عطاء" استعمال ہوا ہے، کیونکہ اہل جنت سے ان کی نعمتیں دوبارہ واپس نہیں لی جائیں گی اور انہیں وہاں ہر چیز میں تصرف کا اختیار ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
(وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا... عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ)
"اور رہے وہ لوگ جو خوش بخت ہوئے، وہ جنت میں ہوں گے... یہ ایسی عطا ہے جو کبھی ختم نہ ہوگی۔"
اسی طرح سورہ النباء میں اہل جنت کی جزا کے بارے میں فرمایا:
(جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا)
"آپ کے رب کی طرف سے صلہ ہے، ایسی عطا جو کافی ہے۔"
دنیا میں اللہ کی عطا
سورہ اسراء میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ دنیا میں اس کی عطا نیکوکاروں اور گناہ گاروں دونوں کے لیے ہے:
(كُلًّا نُّمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا)
"ہم ان کی بھی اور ان کی بھی، آپ کے رب کی عطا سے مدد کرتے ہیں، اور آپ کے رب کی عطا (کسی پر) بند نہیں ہے۔"
قرآن کی بلاغت: مصدر اور فعل کا فرق
قرآن کریم کی فصاحت کا کمال یہ ہے کہ مذکورہ بالا تمام مقامات پر یہ لفظ مصدر (عطاء) کی صورت میں آیا ہے، نہ کہ "فعل" کی صورت میں کہ اللہ نے اسے اپنی طرف منسوب کیا ہو۔
علمِ زبان میں مصدر اور فعل کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ مصدر کا استعمال فعل سے زیادہ قوی (مضبوط) سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مصدر زمانے کی قید سے آزاد ہوتا ہے (یعنی اس میں ہمیشگی کا رنگ پایا جاتا ہے)۔
جہاں تک لفظ "عطاء" کا بطور فعل (یعنی اللہ کا خود عطا کرنا) تعلق ہے، تو یہ قرآن مجید میں صرف تین مقامات پر آیا ہے، جن میں سے ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول ہے:
(قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى)
"کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی پھر ہدایت دی۔"
یہاں "عطاء" (فعل کی صورت میں) ہر چیز کے لیے ہے۔ یہ ایک عام عطا ہے جو تمام مخلوقات کے لیے ہے، یعنی اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اسے اس کی زندگی گزارنے کے تمام اسباب عطا کر دیے۔ یہ کسی خاص فرد یا گروہ کے لیے مخصوص نہیں بلکہ کائنات کی ہر مخلوق کے لیے عام ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو سلامت رکھیں ۔
ثناءاللہ حسین ۔۔۔9/5/26.
No comments:
Post a Comment