Thursday, May 7, 2026

سورۃ الکھف

سورۃ الکھف پڑھنے سے پہلے میرے ذہن میں یہ سوال آتا تھا کہ آخر ہمیں کیوں ہر جمعے اس سورت کو پڑھنے کا کہا گیا ہے؟
اس سورت میں ایسا کیا ہے جو ہمیں دجال کے فتنے سے بچا سکتا ہے؟

اللہ تعالیٰ اس سوال کا جواب تلاشنے میں میری مدد فرمائیں اور مجھے شیطان کے شر سے محفوظ رکھیں آمین 

تو اب جب میں نے اس سورت کو study کرنا شروع کیا ہے تو اس سورت کے آغاز میں ہی میں نے جانا کہ!
“یہ سورت ایک reminder ہے، ہمارے لیے ایک roadmap “

اس سورت کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ!
“اس کتاب میں اس نے کوئی ٹیڑھا پن نہیں رکھا۔”

یہ بالکل سیدھی کتاب ہے جس میں ذرا سی بھی کجی نہیں، ذرا سی بھی crookedness نہیں۔
یعنی یہ کتاب ایسا راستہ دکھاتی ہے جو بالکل سیدھا ہے۔ 

فرض کریں ہم کسی جنگل میں بھٹک گئے ہیں۔ ہمارے پاس باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ ہم کبھی مشرق کی طرف جا رہے ہیں تو کبھی مغرب کی طرف۔ ایسے میں ہمارے ہاتھ کوئی گائیڈ بک لگ جائے تو کیا ہی بات ہے۔ اور ہم اس کی پیروی میں سیدھا چلتے جائیں، بنا اِدھر اُدھر بھٹکے تو یقیناً اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے
قرآن بھی وہی گائیڈ بک ہے۔ اس دنیا سے سیدھا جنت تک کا راستہ جس میں ذرا سا بھی ٹیڑھا پن نہیں ہے۔ 
تو خود کو ہر جمعے یہ reminder دینا بھی ضروری ہے کہ اگر ہمیں اپنی منزل یعنی جنت تک پہنچنا ہے تو ہمیں اس گائیڈ بک کو بھولنا نہیں چاہیے۔ اس کے مطابق چلتے رہنا چاہیے۔

پھر یہ سورت ہمیں اس دنیا کی اصل حقیقت بتاتی ہے کہ!
“اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے، وہ سب اس کی زینت ہے۔ پہاڑ، دریا، سمندر، اونچی اونچی عمارتیں، تمہارے ہاتھ میں اس وقت پکڑا ہوا موبائل فون، تمہاری جیب میں موجود پیسے، تمہارے باورچی خانے میں پکتا کھانا۔۔۔۔ غرض ہر چیز۔
اور اس دنیا کو ان چیزوں سے اس لیے خوبصورت بنایا گیا ہے تاکہ ہمیں آزمایا جائے کہ ہم سے کون ہے جو بہتر عمل کرنے والا ہے۔

اور پھر اللہ تعالیٰ ہمیں یاددہانی کرواتے ہیں!
“کہ یہ سب ایک دن ختم ہوجائے گا۔”

جن چیزوں میں تم وقت گزار رہے ہو، جو چیزیں تمہیں خوشی دے رہی ہیں یا جو چیزیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں۔ ایک دن سب کی سب ختم ہوجائیں گی۔ 
یہ گھر جنہیں تم تعمیر کرنے میں ہلکان ہوئے جارہے ہو۔ یہ سب ایک چٹیل میدان کا حصہ بن جائیں گے۔ 

فتنوں کے جس دور میں ہم جی رہے ہیں تو یہ سورت ہمیں remind کرواتی ہے کہ قرآن ہی ہے جو اس دور میں تمہارے لیے سیدھی راہ ہے۔ 
اور دنیا کی جس خوبصورتی میں تم مگن ہو کر اپنی اصل منزل بھول بیٹھے ہو، ایک دن ختم ہوجائے گی۔
“بس صالح اعمال ہی باقی رہیں گے۔”

No comments: