عاجزی اختیار کریں، بلندی پائیں گے!
ابن الجوزی کی کتاب "صفت الصفوۃ" میں ہے:
سفیان بن عیینہ نے فرمایا: جس نے یہ سمجھا کہ وہ دوسروں سے بہتر ہے، اس نے تکبر کیا!
اے میرے احباب:
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے فرمایا: مجھے آپ لوگوں پر حاکم بنایا گیا ہے حالانکہ میں آپ میں سب سے بہتر نہیں ہوں!
یہ وہ ابوبکر ہیں جو عمر فاروق کے سچے دوست اور ہجرت کے موقع پر غار میں اللہ کے نبی کے ساتھی تھے!
اور جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے اور بسترِ وفات پر تھے،
تو آپ نے اپنے بیٹے سے فرمایا:
میرا رخسار زمین پر رکھ دو، میری تباہی ہے اگر اللہ نے مجھے معاف نہ فرمایا!
یہ وہ عمر فاروق ہیں جنہوں نے سلطنتوں کو شکست دی اور اسلام کے لیے دنیا کے دروازے کھولے!
اور بکر المزنی عرفات میں کھڑے ہوئے اور دعا کی: اے اللہ! میرے گناہوں کی وجہ سے یہاں موجود لوگوں کی دعا رد نہ فرمانا!
یہ وہ فقیہ، عالم اور زاہد شخصیت ہیں جو خود کو اس پورے مجمع میں سب سے برا انسان سمجھ رہے ہیں!
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: تقویٰ کیا ہے؟
تو آپ نے فرمایا: یہ کہ آپ خود کو کسی سے بہتر نہ سمجھیں!
No comments:
Post a Comment