Friday, May 8, 2026

آزمائش کا راستہ

 جنت میں کچھ ایسے مقام  ہیں کچھ ایسے درجے  ہیـں کچھ ایسی کرسیاں ہیں  جن تک نہ نماز کے جا سکتی ہے نہ دروازہ نہ حج وہاں تک صرف ایک ہی راستہ جاتا ہے وہ ہے

آزمائش کا راستہ

جب تمھارے ہاتھ سے سب کچھ چھین لیا جائے گا اور تم الحمد اللہ کہو تو سمجھو ایک درجہ اوپر چڑھ گئے جب تمھارا اپنا تم پر تہمت لگانے اور تم خاموش رہ کر مسکرا دو تو سمجھو جنت میں تمھارے لیے ایک کمرہ بن رہا ہے

جب بیماری بستر پر لگا دے اور تم شکوہ نہ کرو صرف یا اللہ کہو تو سمجھو فرشتے تمھارا محل سجا ریے ہیں دنیا میں کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو دوا سے جو دوا سے ٹھیک نہیں ہوتے

کیونکہ وہ دوا دنیا کی نہیں جنت کے درجوں کی قیمت ہیں یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینکا گیا قید میں ڈالا گیا مگر وہ قید مصر کی بادشاہت کا راستہ تھی

تمھاری آزمائش بھی تمھیں جنت کی بادشاہت تک لے جا رہی ہے ہر آنسو جو تم اللہ کے لیے پی جاتے ہو جنت میں موتی بن کر تمھارا انتظار کر رہا ہے ہر صبر جو تم زخم پر رکھتے ہو وہاں سونے کا تاج بن جائے گا

آسان راستے جنت کے دروازے تک لے جاتے ہیں

مگر کانٹوں بھرے راستے جنت کے خاص محلوں تک لے جاتے ہیں جب تکلیف بڑھ جائے تو سمجھ جانا

تمھارا مقام بڑھ رہا ہے کیونکہ اللہ جس سے محبت کرتا ہے اسے آزماتا ہے اور جسے آزماتا ہے اسے اپنا مہمان بنا لیتا ہے اور مہمان کے لیے سب سے اونچا مقام ہوتا ہے


No comments: