جنت میں کچھ ایسے مقام ہیں کچھ ایسے درجے ہیـں کچھ ایسی کرسیاں ہیں جن تک نہ نماز کے جا سکتی ہے نہ دروازہ نہ حج وہاں تک صرف ایک ہی راستہ جاتا ہے وہ ہے
آزمائش کا راستہجب تمھارے ہاتھ سے سب کچھ چھین لیا جائے گا اور تم الحمد اللہ کہو تو سمجھو ایک درجہ اوپر چڑھ گئے جب تمھارا اپنا تم پر تہمت لگانے اور تم خاموش رہ کر مسکرا دو تو سمجھو جنت میں تمھارے لیے ایک کمرہ بن رہا ہے
جب بیماری بستر پر لگا دے اور تم شکوہ نہ کرو صرف یا اللہ کہو تو سمجھو فرشتے تمھارا محل سجا ریے ہیں دنیا میں کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو دوا سے جو دوا سے ٹھیک نہیں ہوتے
کیونکہ وہ دوا دنیا کی نہیں جنت کے درجوں کی قیمت ہیں یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینکا گیا قید میں ڈالا گیا مگر وہ قید مصر کی بادشاہت کا راستہ تھی
تمھاری آزمائش بھی تمھیں جنت کی بادشاہت تک لے جا رہی ہے ہر آنسو جو تم اللہ کے لیے پی جاتے ہو جنت میں موتی بن کر تمھارا انتظار کر رہا ہے ہر صبر جو تم زخم پر رکھتے ہو وہاں سونے کا تاج بن جائے گا
آسان راستے جنت کے دروازے تک لے جاتے ہیں
مگر کانٹوں بھرے راستے جنت کے خاص محلوں تک لے جاتے ہیں جب تکلیف بڑھ جائے تو سمجھ جانا
تمھارا مقام بڑھ رہا ہے کیونکہ اللہ جس سے محبت کرتا ہے اسے آزماتا ہے اور جسے آزماتا ہے اسے اپنا مہمان بنا لیتا ہے اور مہمان کے لیے سب سے اونچا مقام ہوتا ہے
No comments:
Post a Comment