Friday, May 22, 2026

خانہ کعبہ کا طواف اینٹی کلاک وائز کیوں ہوتا ہے؟


ایسی حقیقت کہ دل بے اختیار “سبحان اللہ” پکار اٹھے…

پیارے دوستو…
اس پوری کائنات میں ہر چیز ایک خاص نظام کے تحت حرکت کر رہی ہے۔ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے، چاند زمین کے گرد گردش کر رہا ہے، کہکشائیں اپنے مدار میں سفر کر رہی ہیں، حتیٰ کہ ایٹم کے اندر موجود ننھے ذرات بھی مسلسل حرکت میں ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کی گردش ایک ہی سمت میں ہوتی ہے… اینٹی کلاک وائز۔

اور یہی وہ سمت ہے جس میں مسلمان خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔

جب لاکھوں انسان دنیا کے کونے کونے سے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں اور ایک ہی مرکز کے گرد محبت، عقیدت اور عاجزی کے ساتھ گھومتے ہیں تو وہ منظر صرف آنکھوں کو نہیں بلکہ روح کو بھی ہلا دیتا ہے۔ انسان محسوس کرتا ہے جیسے وہ خود کو اس عظیم کائناتی نظام کا حصہ بنا چکا ہو۔ جیسے اس کے دل کی دھڑکن بھی اسی نظام کے ساتھ جڑ گئی ہو۔

جو لوگ طواف کر چکے ہیں وہ اکثر ایک عجیب کیفیت بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ طواف کے دوران دل پر سکون اترنے لگتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور انسان دنیا کے ہر غم، ہر پریشانی اور ہر شور کو بھول جاتا ہے۔ صرف اللہ یاد رہتا ہے۔

کچھ لوگ اسے روحانی کشش کہتے ہیں، کچھ ایمان کی طاقت… مگر حقیقت یہ ہے کہ خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر انسان خود کو بہت چھوٹا اور اللہ کو سب سے بڑا محسوس کرتا ہے۔

آج جب دنیا بے سکونی، جنگوں، نفرتوں اور خوف میں گھری ہوئی ہے، ایسے وقت میں کعبہ کا منظر انسانیت کو ایک عظیم سبق دیتا ہے۔ وہاں نہ کوئی امیر ہوتا ہے نہ غریب، نہ کوئی بادشاہ نہ فقیر۔ سب ایک ہی لباس میں، ایک ہی رب کے سامنے، ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ یہی اسلام کا حسن ہے… یہی بندگی کی اصل روح ہے۔

طواف کے سات چکر صرف ایک عبادت نہیں بلکہ انسان کے دل کی تربیت ہیں۔ ہر چکر کے ساتھ انسان اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے، اپنے رب سے قریب ہوتا ہے اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتا جاتا ہے۔

بہت سی اسلامی روایات میں “بیت المعمور” کا ذکر بھی ملتا ہے جہاں فرشتے اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ اسی لیے بہت سے لوگ طواف کو صرف زمین کی عبادت نہیں بلکہ آسمانوں سے جڑی ایک مقدس عبادت سمجھتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ جب انسان خانہ کعبہ کے گرد اینٹی کلاک وائز گھومتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری کائنات کے ساتھ مل کر اپنے رب کی تسبیح کر رہا ہو…

سبحان اللہ ❤️

No comments: