Tuesday, June 23, 2026

مصلٰی جبرائیل


 ​یہ تاریخی مقام خانہ کعبہ کے پاس اس جگہ واقع ہے جہاں سفرِ معراج کے بعد سیدنا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پنجگانہ نمازوں کے اوقات کا شرعی تعین

سکھایا تھا۔ عوام میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ نماز پڑھنے کا بنیادی طریقہ یہاں سکھایا گیا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نماز اور وضو کا طریقہ تو اعلانِ نبوت کے ابتدائی دور ہی میں سکھا دیا گیا تھا، البتہ اس مقام پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے نزول کا اصل اور واحد مقصد یہ تھا کہ امت کو یہ بتایا جائے کہ نماز کا وقت کب شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہوتا ہے، چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مسلسل دو دن تک خود امام بن کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نمازیں پڑھائیں تاکہ وقت کی حدود کا تعین ہو سکے۔ پہلے دن انہوں نے تمام پانچوں نمازیں ان کے اول وقت یعنی بالکل شروع کے وقت میں پڑھائیں، چنانچہ ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ ایک تسمے کے برابر رہ گیا، عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے اصل قد کے برابر ہو گیا، مغرب جیسے ہی سورج غروب ہوا، عشاء اس وقت پڑھائی جب افق سے سرخی غائب ہو گئی، اور فجر صبح صادق کے طلوع ہوتے ہی پڑھائی۔ پھر دوسرے دن انہوں نے تمام پانچوں نمازیں ان کے آخری وقت میں پڑھائیں، ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ بڑھ کر اس کے اصل قد کے برابر ہو گیا، عصر کا وقت تب مقرر کیا جب ہر چیز کا سایہ اس کے اصل قد سے دگنا ہو گیا، مغرب اسی وقت پڑھائی جو پہلے دن کا وقت تھا کیونکہ اس کا وقت بہت مختصر ہے، عشاء رات کا ایک تہائی حصہ گزرنے پر، اور فجر اس وقت پڑھائی جب زمین خوب روشن ہو گئی۔ ان دو دنوں کی نمازوں کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور نماز کا اصل وقت ان دو حدوں کے درمیان ہی مقرر ہے۔


No comments: