Wednesday, June 3, 2026

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور گناہ گار شخص

 حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک گنہ گار شخص تھا ، جس سے لوگوں نے بیزار ہو کر اس کو اپنے شہر سے نکال دیا ۔ وہ ایک ویرانے میں رہنے لگا تھا اور جب اس کی موت کا وقت ہوا اور وہ

انتقال کر گیا ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی آئی کہ ہمارے ایک ولی کی فلاں جگہ وفات ہو گئی ہے ، آپ اس کو غسل و کفن دے کر نماز جنازہ پڑھیں اور لوگوں کو بتادیں کہ جس کے گناہ زیادہ ہوں ، وہ لوگ اگر اس کے جنازے میں شریک ہوں ، تو میں ان کی بھی مغفرت کردوں گا ۔ 

حضرت موسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلان کر دیا اور کثیر تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور جب لوگوں نے اس کی لاش کو دیکھا ، تو اس کو پہچان لیا اور کہا کہ حضرت ! یہ تو بڑا گنہ گار شخص تھا اور ہم نے تنگ آکر اس کو گاؤں سے نکال دیا تھا ۔ حضرت موسیٰ کو تعجب ہوا اور اللہ سے سوال کیا کہ اے اللہ ! یہ کیا ماجرا ہے ؟ تو اللہ کی وحی آئی کہ اے موسی ! یہ بات تو سچ ہے کہ یہ گنہ گار تھا ؛ مگر جب اس کی موت کا وقت آیا ، تو اس نے اپنے دائیں بائیں دیکھا ، تو کوئی رشتہ دار یا دوست نظر نہیں آیا اور خود کو تنہا و اکیلا محسوس کیا اور آسمان کی جانب نظر اٹھایا اور کہنے لگا : 

( اے میرے پروردگار! میں تیرے بندوں میں سے ایک بندہ اور تیری بستیوں سے نکالا ہوا غریب الوطن ہوں ، اگر میں یہ جانتا کہ مجھے عذاب دینے سے آپ کی حکومت میں کوئی زیادتی ہوتی ہے یا مجھے معاف کر دینے سے آپ کی حکومت میں کمی ہوتی ہے ، تو میں آپ سے مغفرت کا سوال نہ کرتا ۔ میری پناہ اور امید کا مرکز سوائے آپ کی ذات کے کوئی نہیں ، میں نے یہ سنا ہے کہ آپ نے اپنے کلام میں یہ نازل کیا ہے : ’’ میں ہی غفور رحیم ہوں ‘‘ پس میری امید میں مجھے ناکام نہ فرما ۔ ) 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ! کیا میرے لیے یہ اچھی بات تھی کہ میں اس غریب الوطن کو رد کر دیتا ؟ جب کہ وہ میرے سے وسیلہ پکڑ رہا ہے اور میرے سامنے گڑگڑا رہا ہے ؟ ( التوابین : ۸۲ )


No comments: