حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک گنہ گار شخص تھا ، جس سے لوگوں نے بیزار ہو کر اس کو اپنے شہر سے نکال دیا ۔ وہ ایک ویرانے میں رہنے لگا تھا اور جب اس کی موت کا وقت ہوا اور وہ
انتقال کر گیا ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی آئی کہ ہمارے ایک ولی کی فلاں جگہ وفات ہو گئی ہے ، آپ اس کو غسل و کفن دے کر نماز جنازہ پڑھیں اور لوگوں کو بتادیں کہ جس کے گناہ زیادہ ہوں ، وہ لوگ اگر اس کے جنازے میں شریک ہوں ، تو میں ان کی بھی مغفرت کردوں گا ۔حضرت موسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلان کر دیا اور کثیر تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور جب لوگوں نے اس کی لاش کو دیکھا ، تو اس کو پہچان لیا اور کہا کہ حضرت ! یہ تو بڑا گنہ گار شخص تھا اور ہم نے تنگ آکر اس کو گاؤں سے نکال دیا تھا ۔ حضرت موسیٰ کو تعجب ہوا اور اللہ سے سوال کیا کہ اے اللہ ! یہ کیا ماجرا ہے ؟ تو اللہ کی وحی آئی کہ اے موسی ! یہ بات تو سچ ہے کہ یہ گنہ گار تھا ؛ مگر جب اس کی موت کا وقت آیا ، تو اس نے اپنے دائیں بائیں دیکھا ، تو کوئی رشتہ دار یا دوست نظر نہیں آیا اور خود کو تنہا و اکیلا محسوس کیا اور آسمان کی جانب نظر اٹھایا اور کہنے لگا :
( اے میرے پروردگار! میں تیرے بندوں میں سے ایک بندہ اور تیری بستیوں سے نکالا ہوا غریب الوطن ہوں ، اگر میں یہ جانتا کہ مجھے عذاب دینے سے آپ کی حکومت میں کوئی زیادتی ہوتی ہے یا مجھے معاف کر دینے سے آپ کی حکومت میں کمی ہوتی ہے ، تو میں آپ سے مغفرت کا سوال نہ کرتا ۔ میری پناہ اور امید کا مرکز سوائے آپ کی ذات کے کوئی نہیں ، میں نے یہ سنا ہے کہ آپ نے اپنے کلام میں یہ نازل کیا ہے : ’’ میں ہی غفور رحیم ہوں ‘‘ پس میری امید میں مجھے ناکام نہ فرما ۔ )
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ! کیا میرے لیے یہ اچھی بات تھی کہ میں اس غریب الوطن کو رد کر دیتا ؟ جب کہ وہ میرے سے وسیلہ پکڑ رہا ہے اور میرے سامنے گڑگڑا رہا ہے ؟ ( التوابین : ۸۲ )
No comments:
Post a Comment