قرآن کریم میں کئی مقامات ایسے ہیں جہاں تفسیر سے زیادہ تخیل کی ضرورت ہوتی ہے یعنی آیت پر رُک کر سوچنا اور اپنے آپ کو اُس منظر میں لے جانا جہاں وہ واقعہ پیش آ رہا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اپنے تخیل کو قرآن کے ساتھ پرواز
ہی نہیں دے پاتے۔مثلا :
جب کئی سال گزرنے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے ملے ہوں گے۔ تصور کریں کہ اس وقت دونوں کے دل کس کیفیت سے گزرے ہوں گے۔
جب صاحبِ مدین (حضرت شعیب علیہ السلام) کی بیٹی تنہا جنگل میں چل کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بُلانے آ رہی ہوگی، اس کے دل میں کیا کچھ چل رہا ہوگا۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن دریا کے کنارے اپنے معصوم بھائی کے صندوق کو چھپ کر دیکھتی جا رہی ہوگی اور ہر قدم پر ڈر لگ رہا ہوگا کہ کہیں مجھے فرعون کا کوئی ہرکارا نہ دیکھ لے۔
جب فرعون کی بیوی حضرت آسیہ ظلم و ستم سہہ سہہ کر یہ دعا کرنے بیٹھی ہوں گی کہ اے میرے رب! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں گھر بنا دے اور فرعون کے ظلم سے بچا دے۔
جب حبیب نجار شہر کے ایک کونے سے بھاگتا ہوا اپنی قوم کے پاس آ رہا ہوگا یہ بتانے کےلیے کہ اے میری قوم! انبیاء کی بات مان لو۔ اسی میں فائدہ ہے۔
جب حضرت لوط علیہ السلام اپنے ایمان والے ساتھیوں کے ساتھ اللہ کے حکم سے بستی چھوڑ کر جا رہے ہوں گے تو ان کے دل میں کیا کچھ چل رہا ہوگا ؟
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام سے ذبح کرنے کے بارے میں پوچھا ہوگا، دونوں کے دل کس قدر اللہ کی محبت میں فنائیت کا منظر پیش کر رہے ہوں گے۔
جب پہاڑوں کے بیچ حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیھم السلام نے خانہ کعبہ تعمیر کیا ہوگا اور دعا کےلیے ہاتھ اٹھائیں ہوں گے کہ اے اللہ ! اس کو ہماری طرف سے قبول کر لیجیے۔ وہ منظر کیسا ہوگا؟
جب حضرت یعقوب علیہ السلام اپنی موت کے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھ رہے ہوں گے کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، اس منظر میں ایک والد اپنے بیٹوں کے ساتھ محوِ گفتگو کیسے لگ رہا ہوگا؟
اس طرح کے سینکڑوں مناظر ہیں جہاں تک ہمارا تخیل نہیں جاتا جب کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ایسے بہت سارے مقامات پر ماضی کا لفظ ذکر کرنے کے بجائے مضارع کا لفظ ذکر کیا ہوتا ہے تاکہ ہم اسے ایسے سمجھیں جیسے ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہو۔
اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا
رات سوتے وقت سورت یوسف کی تلاوت سنیں اور ہر منظر کو باقاعدہ Feel کریں، جب اس بات پر پہنچیں گے نا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا : مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔ آپ کی آنکھیں برس پڑیں گی۔
قرآن کو خاموشی سے Feel کریں ، یہ زندگی کا سب سے پُرسکون تجربہ ہوگا۔
No comments:
Post a Comment