Friday, August 21, 2026

حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ

 حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

میں ایک شاعر اور اپنی قوم کا سردار تھا۔ ایک مرتبہ میں مکہ مکرمہ آیا۔ وہاں قریش کے چند سردار میرے پاس آئے اور کہنے لگے:

"آپ شاعر بھی ہیں اور اپنی قوم کے سردار بھی۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں آپ اس شخص (محمد ﷺ) سے نہ مل بیٹھیں اور وہ اپنی باتوں کے ذریعے آپ کو متاثر نہ کر دے۔ اس کی باتیں جادو جیسی ہیں۔

اور ہمارے لیے آخرت ہے!

 " اور ہمارے لیے آخرت ہے!

کبھی کبھی انسان دنیا کی مشکلات سے اس قدر تھک جاتا ہے کہ اسے اپنی زندگی ہی بہت بھاری محسوس ہونے لگتی ہے۔

کبھی رزق کی تنگی پریشان کرتی ہے،

کبھی کسی اپنے کی جدائی،

انسان اور دنیا وآخرت

 ہر انسان کی اپنی ایک جنت ہوتی ہے جس میں جا کر وہ سکون کا سانس لیتا ہے، جس کے ذریعے وہ باقی لوگوں پر فخر کرتا ہے اور اسے اپنی محنت کا حاصل سمجھتا ہے۔ جہاں اسے بادشاہ والی فیلنگ آتی ہے اور اپنے آپ کو اس جگہ کا مالک سمجھتا ہے۔

کسان کی جنت اس کے کھیت ہوتے ہیں

قرآن اور جدید سائنس

 ساڑھے چودہ سو سال پہلے، جب جدید سائنس کا کوئی وجود نہیں تھا اور عرب کے صحرا زادہ ماحول میں کوئی سکول یا کالج نہیں تھا—اس دورِ جہالت میں نبی کریم ﷺ نے قرآنِ پاک کی آیات کے ذریعے کائنات کی ایسی حقیقتیں بیان فرمائیں جنہیں آج کا جدید علم تسلیم کر رہا ہے۔

جب غم بھی ایک ثواب بن جائے!

 جب غم بھی ایک ثواب بن جائے!

قرآنِ کریم کی وہ آیات جو عقل سے پہلے دل کو موہ لیتی ہیں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانِ عالی شان ہے:

فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ

 [آل عمران: 153]

۔"پھر اس نے تمہیں غم کے بدلے ایسا غم دیا جو ثواب بن گیا"

یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے، لیکن اپنے اندر بلاغت اور ایمان کے ایسے راز سمیٹے ہوئے ہے جن سے انسان کا کلام قاصر ہے۔ یہاں سب سے پہلی بات جو توجہ کھینچتی ہے وہ

 غَمًّا بِغَمٍّ نہیں، بلکہ اس سے پہلے کے الفاظ ﴿فَأَثَابَكُمْ﴾ ("تو اس نے تمہیں ثواب دیا") ہیں۔

عربی زبان میں ثواب اس بدلے یا جزا کو کہتے ہیں جس سے انسان خوش ہوتا ہے، اور یہ وہ عطا ہے جس کی امید اور انتظار کیا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید میں ثواب کا لفظ اکثر جنت، اجر، فضل اور نعمتوں کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ لیکن غم کو "ثواب" قرار دینا… یہ وہ بات ہے جو گہرے تدبر کی دعوت دیتی ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: "فعاقبكم غمًّا" (پھر اس نے تمہیں غم کی سزا دی)، حالانکہ غزوۂ احد میں یہ صورتِ حال کچھ تیر اندازوں سے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ اور نہ ہی یہ فرمایا: "فابتلاكم غمًّا" (پھر اس نے تمہیں غم میں مبتلا کیا) اور نہ ہی "فأصابكم غم" (پھر تمہیں غم پہنچا)، بلکہ اللہ نے لفظ ثواب کا انتخاب فرمایا۔

یہاں سے اس شخص کا فرق ظاہر ہوتا ہے جو صرف تقدیر کے ظاہری پہلو کو دیکھتا ہے، اور اس کے مقابلے میں وہ جو اس کی حکمت کو سمجھتا ہے۔ انسان غم کو محض ایک تکلیف اور درد کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ—اگر وہ غم خیر کی طرف لے جائے—اسے ایک ایسی نعمت کے طور پر دیکھتا ہے جو "ثواب" کہلانے کی مستحق ہے۔

ہر ثواب راحت نہیں ہوتا، اور نہ ہی ہر نعمت محض ایک لذت کا نام ہے۔ بلکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ملنے والی سب سے بڑی جزا یہ ہوتی ہے کہ وہ آپ کے دل کو اس کی غفلت کے بعد بیدار کر دے، آپ کے منہ موڑنے کے بعد آپ کو دوبارہ اپنی طرف لوٹا لے، اور آپ کے نفس میں چھپے اس غرور کو توڑ دے جو آپ کو ہلاک کرنے والا تھا۔

غزوۂ احد میں شکست ایک غم تھی، لیکن اس غم نے ایک ایسی نسل تیار کی جو دوبارہ وہی غلطی نہ دہرائے۔ حکم کی خلاف ورزی کی تلخی ایک غم تھی، لیکن اس نے دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعتِ مطلقہ کا جذبہ راسخ کر دیا۔ انکساری اور ٹوٹ جانے کے وہ لمحے ایک غم تھے، لیکن ان سے عاجزی، نفس کا خوف اور اللہ کی بارگاہ میں التجا کی سچائی پیدا ہوئی۔ تو اس سے بڑا ثواب اور کیا ہو سکتا ہے؟

اللہ کبھی آپ کو کسی چیز سے روکتا ہے، تو وہ روکنا ہی دراصل ایک عطا ہوتا ہے۔

وہ کبھی آپ کے کام میں تاخیر کرتا ہے، تو وہ تاخیر ہی نجات کا سبب بنتی ہے۔

وہ کبھی آپ کو آزمانا ہے، تو وہ آزمائش ہی آپ کی پاکیزگی کا ذریعہ ہوتی ہے۔

اور وہ کبھی آپ کو غمگین کرتا ہے، تو وہ غم ہی اس دائمی خوشی کا راستہ بنتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

اسی لیے فرمایا: ﴿فَأَثَابَكُمْ﴾۔

گویا یہ آیت مؤمن کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ نعمتوں کا اندازہ اپنی خواہشات کے مطابق نہ لگائے، بلکہ اس بنیاد پر لگائے کہ وہ چیز اسے اپنے رب کے کتنا قریب کر رہی ہے۔

کتنی ہی نعمتیں ایسی ہیں جنہوں نے انسان کو اللہ سے دور کر دیا،

اور کتنی ہی مصیبتیں ایسی ہیں جنہوں نے انسان کو دوبارہ اللہ کی طرف لوٹا دیا۔

کتنی ہی کامیابیاں ایسی ہیں جو تکبر کا باعث بنیں،

اور کتنی ہی شکستیں ایسی ہیں جو اخلاص کا سبب بن گئیں۔

چنانچہ اگر غم آپ کے اندر توبہ پیدا کر دے، صابر بنا دے، نفس کی اصلاح کر دے، درجات بلند کر دے، گناہ مٹا دے، یا دنیا سے تعلق توڑ دے… تو پھر وہ آسمان کے ترازو میں ثواب بن چکا ہے، خواہ زمین کے ترازو میں وہ محض ایک تکلیف اور درد ہی کیوں نہ ہو۔

یہاں قرآنی اسلوب کی بے مثال خوبصورتی ظاہر ہوتی ہے۔ لوگ چیزوں کا نام ان کے ابتدائی اثرات پر رکھتے ہیں، جبکہ قرآن ان کا نام ان کے آخری نتائج کی بنیاد پر رکھتا ہے۔

اللہ کی تقدیریں بھی ایسی ہی ہیں؛ ان کی شروعات شاید کوئی آنسو ہو، لیکن ان کا انجام رحمت ہوتا ہے۔

ان کا ظاہر شاید ٹوٹ پھوٹ ہو، لیکن ان کا باطن ربط اور جوڑ ہوتا ہے۔

ان کا عنوان شاید غم ہو، لیکن ان کی حقیقت ثواب ہوتی ہے۔

اسی لیے فرمایا: ﴿فَأَثَابَكُمْ﴾، یہ نہیں فرمایا: فأصابكم غمًّا؛ کیونکہ "اصابت" (پہنچنا) صرف واقعے کو بیان کرتی ہے، جبکہ "ثواب" اس کے پیچھے چھپی حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ قرآن ہماری توجہ تکلیف کی طرف نہیں، بلکہ اس پھل کی طرف مبذول کرواتا ہے جو اس تکلیف سے حاصل ہوتا ہے۔

یہ ایک اکیلا لفظ ﴿فَأَثَابَكُمْ﴾ مؤمن کو یہ درس دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی سے گزرنے والے ہر قدر کے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔

ہر وہ چیز جس نے آپ کو غمگین کیا، وہ شر نہیں ہوتی،

اور ہر وہ چیز جس نے آپ کو تکلیف دی، وہ سزا نہیں ہوتی۔

ممکن ہے آپ کی زندگی کا سب سے بڑا ثواب وہی آزمائش ہو جسے کسی دن آپ نے اپنے اوپر نازل ہونے والی سب سے سخت مصیبت سمجھا تھا۔ اگر آپ آزمائش کے بعد خود کو اللہ کے زیادہ قریب، دعاؤں میں زیادہ سچا، دنیا سے زیادہ بے رغبت، مخلوق کے لیے زیادہ رحمدل اور نماز میں زیادہ خاشع پاتے ہیں… تو جان لیجیے کہ وہ غم کوئی زحمت یا آفت نہیں تھا، بلکہ وہ ایک ثواب تھا۔

یہ قرآنی تعبیر اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ لمحاتی لذت کو نہیں بلکہ دل کی اصلاح کو دیکھتا ہے، اور وہ جسم کی راحت کو نہیں بلکہ روح کی نجات کو دیکھتا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جس نے غم کو "ثواب" کا نام دیا! کیونکہ اس نے آنسوؤں کے پیچھے وہ کچھ دیکھا جو ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں، اور تکلیف کے پیچھے وہ حکمت سمجھی جو ہماری عقلیں نہیں سمجھ سکتیں۔

اے اللہ رب العزت! اگر تو ہم پر کوئی غم نازل فرمائے، تو اسے ایسا غم بنا دے جو ایمان کو پروان چڑھائے، صبر عطا کرے، یقین میں اضافہ کرے، اور سچی توبہ کی طرف لے جائے۔ اور اس غم کے ذریعے شیطان کو ہم پر غالب ہونے کا کوئی راستہ نہ دے… آمین۔

اَللّٰھُمَّ اجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ"

 "اے اللہ! قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غموں کا مداوا اور میری پریشانیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔"


انسان کا اصل سہارا کون...؟؟؟

 میری زندگی میں ایک وقت ایسا آیا جب میرے پاس اللہ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا

میں سمجھتا ہوں کہ کبھی کبھی اللہ ہمارا مسئلہ فوراً حل نہیں کرتا کیونکہ پہلے وہ انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ اس کا اصل سہارا کون ہے۔

اس رات شاید ایک بجنے والا تھ

اللہ تک....

 جو نہ ملا، شاید اسی نے مجھے اللہ تک پہنچایا

انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب انسان اپنے ماضی کے کسی بند دروازے کے سامنے دوبارہ جا کھڑا ہوتا ہے۔

وہی دروازہ جس کے کھلنے کے لیے کبھی اس نے دعائیں کی تھیں

اللہ سے بندے کا تعلق

 جب "الف" سیدھا کھڑا ہوتا ہے تو وہ جھکتا نہیں، ٹیڑھا نہیں ہوتا. بلکل ایسے ہی جیسے بندے کا تعلق اللہ سے سیدھا ہو جائے، نہ دکھاوا، نہ ریا، نہ دنیا کی ملاوٹ.... صرف "تو اور میں" والا معاملہ ہو جائے، تو اللہ بہت قریب ہو جاتا ہے. اتنا قریب کہ "شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ". جیسے ہی "الف" ٹیڑھا ہوتا ہے، لکیر ٹوٹ جاتی ہے

قرآن اور ہماری زندگی

 وہ زبان جسے آج ہم قران سکھا رہے ہیں، دنیا میں ہمیشہ نہیں رہے گی۔

مگر اسی زبان سے پڑھا ہوا قرآن، اسی قرآن کے لیے کی گئی محنت، وہ بار بار دہرایا ہوا حرف، استاد کے سامنے کی گئی وہ چھوٹی سی تصحیح—

اللہ چاہے تو سب ہمارے نامۂ اعمال میں باقی رہ سکتا ہے

قیامت کا دن

 قیامت کا دن ہوگا۔

انسان ایک ایسی حقیقت کے سامنے کھڑا ہوگا جس سے دنیا میں نظریں چراتا رہا تھا۔ اچانک اسے محسوس ہوگا کہ وہ دیکھ نہیں سکتا۔

Friday, August 14, 2026

انسانی رشتے اور اللہ سے مضبوط تعلق

 رشتے، آزمائش اور اللہ کی معیت ایک فکری اور روحانی تحریر ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر رشتہ ہمیشہ سکون کا ذریعہ نہیں ہوتا؛ بعض اوقات رشتے ہماری صبر، برداشت، معافی اور کردار سازی کا امتحان بن جاتے ہیں۔ ماں کی ڈانٹ، باپ کی خاموشی، دوست کی بے وفائی یا کسی قریبی انسان کی سرد مہری ہمیں دکھ پہنچا سکتی ہے،

انسان اور خودداری

سمندر بھی اگر میٹھا ہوتا تو بازاروں کی زینت بن جاتا، مگر اُس کی نمکینی نے اُسے سمندر ہی رہنے دیا۔
زندگی میں بھی ہر انسان کو اتنا آسان، اتنا میٹھا اور اتنا بےدفاع نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ اُسے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر کے چھوڑ دیں۔

شکر الحمد للہ

ہم بڑے نا شکرے ہیں ہمیں جو مل گیا ہم اسے "نارمل" کہتے ہیں. اور جو نہیں ملا اس کے پیچھے ساری عمر بھاگتے ہیں. آپ کے چھت ہے. بارش ہو تو آپ کہتے ہیں "گرمی کم ہو گئی" مگر سٹرک پر سونے والا اسی چھت کے لیے دعا مانگ رہا ہے. آپ کے پاس دو وقت کی روٹی ہے.

Friday, August 7, 2026

دنیا - امتحان گاہ، تفریح گاہ نہیں

 اللہ نے اس دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے، تفریح گاہ نہیں. یہاں ہر نعمت کے ساتھ قیمت لکھی ہے. ہر ہنسی کے پیچھے آنسو کا امکان ہے. ہر راحت کے ساتھ محبت جڑی ہےکیوں؟ کیونکہ اگر سب کچھ آسان ہو جاتا... تو ہم شکر کرنا بھول جاتے. اگر کوئی درد نہ ہوتا... تو ہم دعا کرنا چھوڑ دیتے. اگر کوئی جدائی نہ ہوتی... تو ہم ملاقات کی قدر نہ جانتے. روٹی بغیر تکلیف کے نہیں ملتی. کسان کی دھوپ، محنت، بیچ، انتظار... پھر جا کر نوالہ بنتی ہے.

اعمال اور کردار

 جب قریش نبی کریم ﷺ کے دلائل اور حجّتوں کے جوابات نہ دے سکے ، تو وہ یہودیوں کے علماء (احبار) کے پاس مدد کے لیے گئے،

 تاکہ ان سے کوئی ایسا سوال پوچھیں جس سے آپ ﷺ کو آزما سکیں۔

 یہودیوں نے ان سے کہا: "ان سے تین باتوں کے بارے میں سوال کرو؛ اگر وہ ان کا جواب دے دیں تو وہ نبی ہیں:

1...ان جوانوں کے بارے میں جو ابتدائی زمانے (قدیم دور) میں چلے گئے تھے۔

 2...اس شخص کے بارے میں جو بہت سفر کرنے والا تھا اور جس نے زمین کے مشرق و مغرب کا چکر لگایا۔

 3...اور روح کے بارے میں۔"

توجواب میں اللہ تعالی نے سورة الکہف نازل فرمائی،

 اور آسمان سے ان سوالات کا جواب آ گیا۔

 یہ جواب صرف کسی عظیم شخص کی کہانی سنانے کے لیے نہیں تھا—قرآن نے ان کا نام بھی ذکر نہیں کیا، کیونکہ اصل مقصد اور عبرت ناموں میں نہیں بلکہ اعمال اور کردار میں ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَن ذِي الْقَرْنَيْنِ ۖ قُلْ سَأَتْلُو عَلَيْكُم مِّنْهُ ذِكْرًا ۝ إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا﴾

"اور (اے نبی!) یہ لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے: میں ان کا کچھ احوال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں۔ ہم نے اسے زمین میں اقتدار و تمکین عطا کی تھی اور اسے ہر طرح کا سامان اور اسباب فراہم کر دیے تھے۔"

ذوالقرنین کون ہیں؟

قرآن یا صحیح احادیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ کوئی نبی تھے، بلکہ اللہ تعالی نے انہیں زمین میں طاقت و تمکین اور ہدایت سے نوازا تھا۔

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک صالح اور عادل بادشاہ تھے، اور ان کی نبوت پر کوئی صحیح دلیل قائم نہیں ہے۔"

لہٰذا، ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ صرف ثابت شدہ حقائق پر رک جائے اور اسرائیلیا‍ت (اہلِ کتاب کی روایات) اور ایسی کہانیوں میں نہ پڑے جن کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔

کامیابی اور تمکین کا راز

ان کے تینوں سفروں کا ذکر کرنے سے پہلے اللہ تعالی نے ان کی کامیابی کی بنیاد اور سبب کا ذکر فرمایا:

﴿إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا ۝ فَأَتْبَعَ سَبَبًا﴾

"ہم نے اسے زمین میں تمکین عطا کی اور اسے ہر چیز کا ذریعہ و سبب فراہم کیا۔ تو اس نے ایک راستے اور سبب کی پیروی کی۔"

یعنی اللہ تعالی نے انہیں طاقت، علم اور حکومت کے تمام وسائل و اسباب دیے، لیکن انہوں نے صرف ان پر بس نہیں کیا بلکہ خود عمل کیا اور اسباب کو اختیار کیا۔ معلوم ہوا کہ ایمان عمل کے منافی نہیں ہے، اور اللہ پر توکل کرنے کا مطلب اسباب کو چھوڑنا نہیں ہے۔

مغرب (سورج غروب ہونے کی سمت) کا سفر

وہ مغرب کے آخری حد تک پہنچ گئے جہاں تک پہنچنا ممکن تھا۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوْمًا﴾

"یہاں تک کہ جب وہ سورج غروب ہونے کی جگہ پہنچا، تو اس نے سورج کو ایک کیچڑ والے گرم چشمے میں ڈوبتے ہوئے دیکھا اور وہاں ایک قوم کو پایا۔"

یعنی نظر کے اعتبار سے انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے سورج کسی سیاہ کیچڑ اور گرم چشمے میں ڈوب رہا ہو، اور وہاں انہوں نے ایک قوم کو پایا۔

پھر اللہ تعالی نے انہیں اختیار دیا کہ چاہے تو انہیں سزا دیں یا ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کریں:

﴿قُلْنَا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَن تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا﴾

"ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو تم انہیں سزا دو (اگر وہ شرک پر قائم رہیں) یا ان کے ساتھ نیکی اور احسان کا رویہ اختیار کرو (انہیں ہدایت و خیر کی تعلیم دو)۔"

ذوالقرنین نے پورے عدل کے ساتھ جواب دیا:

﴿قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَىٰ رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُّكْرًا ۝ وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءً الْحُسْنَىٰ ۖ وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا﴾

"ذوالقرنین نے کہا: جو ظلم (کفر) کرے گا ہم اسے دنیا میں سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے اور سخت عذاب دے گا۔ اور جو ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، اس کے لیے بہترین بدلہ (جنت) ہے اور ہم بھی اسے آسان حکم دیں گے اور نرمی کا معاملہ کریں گے۔"

مشرق (سورج طلوع ہونے کی سمت) کا سفر

پھر انہوں نے مشرق کی طرف پیش قدمی کی اور اللہ کے دیے ہوئے اسباب کو استعمال کیا۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا ۝ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَىٰ قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَل لَّهُم مِّن دُونِهَا سِتْرًا﴾

"پھر اس نے ایک اور راستے کی پیروی کی۔ یہاں تک کہ جب وہ سورج نکلنے کی جگہ پہنچا، تو اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جن کے لیے ہم نے سورج سے بچاؤ کا کوئی پردہ (مکان یا درخت کا سایا) نہیں بنایا تھا۔"

دو پہاڑوں کے درمیان کا سفر اور سدِّ ذوالقرنین

پھر ذوالقرنین سفر کرتے ہوئے دو بڑے پہاڑوں کے درمیان پہنچے جو پیچھے کی دنیا کے لیے ایک رکاوٹ تھے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوْمًا لَّا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا﴾

"یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا، تو اس نے ان کے پاس ایک ایسی قوم کو پایا جو کسی کی بات بمشکل سمجھ پاتی تھی۔"

ان لوگوں نے کہا: اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج (جو آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے دو بڑی قومیں ہیں) اس زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کرتے ہیں۔ کیا ہم آپ کو کچھ مال اور ٹیکس دیں تاکہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک 

مضبوط دیوار (سد) بنا دیں؟

﴿فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَىٰ أَن تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا﴾

"کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال کا انتظام کریں اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک سد (دیوار) بنا دیں؟"

یہاں اس عظیم بادشاہ کی عزتِ نفس اور تقویٰ ظاہر ہوتا ہے:

﴿قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ﴾

"ذوالقرنین نے کہا: جو کچھ میرے رب نے مجھے طاقت اور مال دیا ہے، وہ تمہارے مال سے کہیں بہتر ہے۔"

لیکن انہوں نے ان سے محنت اور عمل میں شرکت کا مطالبہ کیا:

﴿فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا ۝ آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا سَاوَىٰ بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انفُخُوا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا﴾

"تم بس اپنی جسمانی طاقت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا کر دو۔ یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیانی فاصلے کو برابر کر دیا، تو کہا: آگ دھونکو! یہاں تک کہ جب لوہا سرخ آگ بن گیا، تو کہا: اب لاؤ، میں اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈال دوں۔"

نتیجہ یہ ہوا:

﴿فَمَا اسْطَاعُوا أَن يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا﴾

"پس (یاجوج ماجوج) نہ تو اس دیوار پر چڑھ سکے اور نہ ہی اس میں کوئی سوراخ کر سکے۔"

اتنے بڑے کارنامے کے بعد بھی ذوالقرنین نے غرور نہیں کیا اور نہ ہی کامیابی کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا۔

بلکہ فرمایا:۔

﴿قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي﴾

"یہ میرے رب کی رحمت ہے۔"

سچا مومن اپنے رب کو یوں ہی پہچانتا اور یاد رکھتا ہے۔

یاجوج اور ماجوج کا انجام

قرآن سے ثابت ہے کہ وہ اس دیوار کے پیچھے اس وقت تک قید رہیں گے جب تک اللہ تعالی کا حکم نہ آ جائے اور قیامت قریب نہ آ جائے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ ۖ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا﴾

"پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا، تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر دے گا، اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔"

صحیح احادیث بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن گھبرائے ہوئے اٹھے اور فرما رہے تھے:

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ»

"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کے لیے تباہی ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہے! آج یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے۔" (اور آپ ﷺ نے اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے حلقہ بنا کر اشارہ فرمایا) — (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

اور یہ بھی ثابت ہے کہ ان کا نکلنا قیامت کی بڑی نشانیوں (علاماتِ کبرٰى) میں سے ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى تَرَوْا قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ...» (وَذَكَرَ مِنْهَا: وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ)

"قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو... (اور ان میں سے یاجوج و ماجوج کے خروج کا ذکر فرمایا)" — (صحیح مسلم)

 وہ انجام جس کا ذکر قرآن میں نہیں ہے

شاید کچھ لوگ سوال کریں: ذوالقرنین کی موت کیسے ہوئی؟ اور ان کی قبر کہاں ہے؟

جواب یہ ہے: اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

جس قرآن نے ان کے سفر، ان کے اقتدار، ان کے عدل اور ان کی عظیم دیوار کا ذکر کیا... اسی قرآن نے ان کی وفات، ان کا اصل نام، نسب اور قبر کے مقام کے بارے میں خاموشی اختیار کی۔

یہ قصے میں کوئی کمی نہیں ہے، بلکہ یہی اس کی کامل حکمت ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی ہماری توجہ شَخصیت کی طرف نہیں بلکہ پیغام اور عبرت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:

دنیوی اسباب کو اختیار کرنا اور منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے، اور اس کامیابی کو اللہ پر توکل کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔

عدل و انصاف کے اصول قائم کرنا اور مظلوموں کو مفسدوں سے بچانا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔

بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد عاجزی اختیار کرنا اور اللہ کا شکر ادا کرنا مومن کا شیوہ ہے۔

     اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نفع بخش علم عطا فرمائے، جو کچھ ہم نے سیکھا اس سے فائدے کی توفیق دے اور ہمارے علم میں اضافہ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

ثناءاللہ حسین : 7/8/26


کردار — کامیابی کی اصل بنیاد

 کردار، نہ کہ صرف مہارت — کامیابی کی اصل بنیاد

ازقلم: ڈاکٹر اسلم علیگ

آج کی دنیا میں جب بھی کسی ادارے میں ملازمت کے لیے درخواست دی جاتی ہے تو سب سے پہلے ڈگری، تجربہ، تکنیکی مہارت اور سابقہ کامیابیوں کو دیکھا جاتا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں اپنے ملازمین کو نئی نئی ٹیکنالوجیز، جدید سافٹ ویئر اور انتظامی مہارتیں سکھانے پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہیں۔

اللہ کی مدد

 ہم سمھتے ہیں کہ مدد کمزوری کی نشانی ہے. اس لیے آخری وقت تک خود لڑتے رہتے ہیں. لیکن اللہ چاہتا ہے کہ آپ پہلے اپنی "میں" کو ختم کریں. اپنا غرور، اپنی تدبیر، اپنا "میں کر لوں گا" والا زعم. کیونکہ جب تک آپ کے پاس دوسرا سہارا موجود ہے، آپ کا بھروسہ مکمل اللہ پر نہیں ہوتا.

زبان... نہ ہڈی،نہ جوڑ

 تصور کریں فجر کی آذان ہوئی. آنکھ کھلی. دل دھڑکا. ہاتھ پیر ہلے. اور پھر سارے اعضاء زبان کے دروازے پر جمع ہو گئے. آنکھیں کہتی ہیں: "اے زبان آج غیبت مت کرنا... ورنہ ہم حرام دیکھنے پر. مجبور ہوں گی". کان کہتے ہیں:"جھوٹ مت بولنا... ورنہ ہمیں بہتان سننا پڑے گا". ہاتھ کہتے ہیں:

Para-15 | پارہ 15: سُبْحَانَ الَّذِي

 پارہ 15: سُبْحَانَ الَّذِي

Para 15 (Subhanalladhi) includes Surah Al-Isra and the beginning of Surah Al-Kahf. It highlights the miraculous Night Journey of Prophet Muhammad ﷺ, the importance of prayer, kindness to parents, justice, moral conduct, and accountability. It also introduces the lessons of the People of the Cave and the temporary nature of worldly life.

Para-14 | پارہ 14: رُبَمَا

 پارہ 14: رُبَمَا

Para 14 (Rubama) includes Surah Al-Hijr and Surah An-Nahl. It emphasizes Allah’s protection of the Qur’an, the stories of earlier nations, the creation and blessings of Allah, His absolute power, gratitude, justice, and the importance of worshipping Him alone. It encourages believers to remain patient and steadfast in faith.

Para-13 | پارہ 13: وَمَا أُبَرِّئُ

 پارہ 13: وَمَا أُبَرِّئُ

Para 13 (Wa Ma Ubarri’u) continues Surah Yusuf and includes Surah Ar-Ra’d and the beginning of Surah Ibrahim. It highlights Prophet Yusuf’s (AS) patience, forgiveness, and trust in Allah, along with Allah’s signs, the power of truth, gratitude for His blessings,

Para-12 | پارہ 12: وَمَا مِنْ دَابَّةٍ

 پارہ 12: وَمَا مِنْ دَابَّةٍ

Para 12 (Wa Ma Min Daabbah) continues Surah Hud and includes Surah Yusuf. It highlights the steadfastness of Prophet Nuh (AS), the stories of Prophet Hud, Salih, Ibrahim, Lut and Shu‘ayb (AS), and the trials of Prophet Yusuf (AS).

Para-11 | پارہ 11: يَعْتَذِرُونَ

 پارہ 11: يَعْتَذِرُونَ

Para 11 (Yatazeroon) continues with Surah At-Tawbah and begins Surah Yunus. It highlights sincere repentance, faith, sacrifice in Allah’s path, the consequences of hypocrisy, and Allah’s mercy. It also emphasizes trusting Allah,

Sunday, August 2, 2026

دارِ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا اور معراجِ مبارک

 حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا جن کا اصل نام فاختہ بنت ابی طالب اور بعض روایات میں ہند بنت ابی طالب بیان کیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ کی چچا زاد بہن اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حقیقی بہن تھیں شب معراج رسول اللہ ﷺ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے جہاں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کو مسجد حرام لے گئے اور وہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو مسجد اقصیٰ بیت المقدس ساتوں آسمانوں سدرۃ المنتہیٰ اور اپنی عظیم نشانیوں کی سیر کرائی پھر اسی رات مکہ مکرمہ واپس تشریف لے آئے یہ سفر جسم اور روح دونوں کے ساتھ بیداری کی حالت میں ہوا اور قرآن کریم احادیث متواترہ اور جمہور امت کا یہی عقیدہ ہے یہ انسانی تاریخ کا عظیم ترین اور بے مثال معجزہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو اپنا خصوصی مہمان بنایا فتح مکہ کے دن بھی رسول اللہ ﷺ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے غسل فرمایا آٹھ رکعت نماز ادا فرمائی اور جب حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ میں نے چند مشرکین کو پناہ دی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی

اس سفر کا پہلا مرحلہ اسراء کہلاتا ہے جس کے معنی رات کے وقت لے جانے کے ہیں یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر جبکہ معراج عروج سے ماخوذ ہے جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں یعنی بیت المقدس سے آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ تک کا مبارک سفر اس سفر کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں دکھانا اور اپنے محبوب ﷺ کو وہ بلند ترین مقام عطا کرنا تھا جو نہ کسی انسان کو ملا اور نہ کسی مقرب فرشتے کو اسی مبارک رات نماز کا عظیم تحفہ بھی عطا کیا گیا

واقعۂ معراج کی تاریخ کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال منقول ہیں بعض علماء نے اسے 27 رجب قرار دیا ہے اور علامہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ نے مہر نبوت میں لکھا ہے کہ نبوت کے 12ویں سال 27 رجب کو تقریباً 51 سال 5 ماہ کی عمر میں یہ واقعہ پیش آیا تاہم دیگر محدثین نے 17 ربیع الاول ربیع الآخر رمضان شوال اور ذوالقعدہ کے اقوال بھی نقل کیے ہیں اس لیے جمہور اہل علم کے نزدیک کسی ایک تاریخ کا قطعی ثبوت موجود نہیں

صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کو اپنے سفر معراج سے آگاہ فرمایا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس واقعہ کا لوگوں سے ذکر نہ فرمائیے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ کا مذاق اڑائیں گے لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچانا میرا فرض ہے پھر آپ ﷺ مسجد حرام تشریف لے گئے اور قریش کو پورا واقعہ سنایا تو اکثر لوگوں نے انکار کیا اور تمسخر اڑایا

مشرکین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا کہ تمہارے ساتھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی رات میں بیت المقدس اور آسمانوں کی سیر کر کے واپس آگئے ہیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے میں تو اس سے بھی بڑھ کر آسمان سے نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کرتا ہوں اسی غیر متزلزل ایمان اور فوری تصدیق کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے آپ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا

البدایہ والنہایہ از حافظ ابن کثیر جلد 3 صفحہ 125–135

المستدرک علی الصحیحین للإمام الحاکم حدیث 4407

السیرة النبویة لابن ہشام جلد 2 صفحہ 199

مہر نبوت از قاضی محمد سلیمان منصور پوری

دارِ ام ہانی رضی اللہ عنہا کی موجودہ نشاندہی



اگر کوئی زائر دارِ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مقام کی زیارت کرنا چاہے تو مسجد الحرام میں باب ملک عبدالعزیز سے داخل ہو اور صحنِ مطاف کی طرف آئے مطاف سے پہلے واقع برآمدے میں پہنچ کر بائیں جانب مڑ جائے تقریباً چار ستون آگے رکن یمانی کے عین سا منے وہ مقام آتا ہے جسے اہلِ سیر نے دارِ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے منسوب کیا ہے اس جگہ کی نشاندہی کے لیے سعودی حکومت نے وہاں موجود دو ستونوں کو دیگر ستونوں سے مختلف رنگ میں رکھا ہے جس سے اس تاریخی مقام کی پہچان ہوتی ہے موجودہ انتظام کے مطابق اس حصے کا زیادہ تر حصہ عموماً خواتین کے لیے مخصوص رہتا ہے، اس لیے زیارت کے وقت مسجد الحرام کے انتظامی قواعد کا لحاظ رکھنا چاہیے۔


Saturday, August 1, 2026

دسواں پارہ​

 دسواں پارہ​

اس پارے میں دو حصے ہیں:

۱۔ سورۂ انفال کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ توبہ کا ابتدائی حصہ

(۱)

نواں پارہ​

 نواں پارہ​

اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ سورۂ اعراف کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ انفال کا ابتدائی حصہ

(۱)

آٹھواں پارہ​

 آٹھواں پارہ​

اس پارے میں دو حصے ہیں:

۱۔ سورۂ انعام کا بقیہ حصہ

۲۔سورۂ اعراف کا ابتدائی حصہ

(پہلا حصہ)

ساتواں پارہ​

 ساتواں پارہ​

اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ سورۂ مائدہ کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ انعام ابتدائی حصہ


(پہلا حصہ) سورۂ مائدہ کے بقیہ حصے میں

چھٹا پارہ​

 چھٹا پارہ​

اس پارے میں دو حصے ہیں:

۱۔ سورۂ نساء کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ مائدہ کا ابتدائی حصہ

(پہلا حصہ) سورۂ نساء کے بقیہ

پانچواں پارہ​

پانچواں پارہ​

اس پارے میں آٹھ باتیں ہیں:​

۱۔ خانہ داری کی تدابیر

۲۔ عدل اور احسان

۳۔ جہاد کی ترغیب

۴

چوتھا پارہ​

 چوتھا پارہ​

اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ بقیہ سورۂ آل عمران

۲۔ ابتدائے سورۂ نساء


(پہلا حصہ) سورۂ آل عمران کے بقیہ حصے میں پانچ باتیں ہیں:​

1

تیسرا پارہ​

 تیسرا پارہ​

اس پارے میں دو حصے ہیں:

1۔بقیہ سورۂ بقرہ

2۔ابتدائے سورۂ آل عمران


(پہلا حصہ)

دوسرا پارہ​

 دوسرا پارہ

اس پارے میں چار باتیں ہیں:
1۔تحویل قبلہ
2۔آیت بر اور ابوابِ بر
3۔قصۂ طاعون
4۔قصۂ طالوت

1۔تحویل قبلہ:
ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ تک بیت

پہلا پارہ​

 پہلا پارہ

اس پارے میں پانچ باتیں ہیں:
1۔اقسام انسان
2۔اعجاز قرآن
3۔قصۂ تخلیقِ حضرت آدم علیہ السلام
4۔احوال بنی اسرائیل