Friday, August 7, 2026

کردار — کامیابی کی اصل بنیاد

 کردار، نہ کہ صرف مہارت — کامیابی کی اصل بنیاد

ازقلم: ڈاکٹر اسلم علیگ

آج کی دنیا میں جب بھی کسی ادارے میں ملازمت کے لیے درخواست دی جاتی ہے تو سب سے پہلے ڈگری، تجربہ، تکنیکی مہارت اور سابقہ کامیابیوں کو دیکھا جاتا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں اپنے ملازمین کو نئی نئی ٹیکنالوجیز، جدید سافٹ ویئر اور انتظامی مہارتیں سکھانے پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود دنیا کی بے شمار کمپنیاں اندرونی بدعنوانی، دھوکہ دہی، اعتماد کے فقدان اور اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

اس کا جواب صرف ایک لفظ میں پوشیدہ ہے: کردار۔

مہارت (Skill) انسان کو کامیابی کے دروازے تک پہنچا سکتی ہے، لیکن کردار (Character) ہی اسے وہاں برقرار رکھتا ہے۔ مہارت سے دولت کمائی جا سکتی ہے، مگر کردار سے عزت کمائی جاتی ہے۔ مہارت کاروبار کو بڑا بناتی ہے، لیکن کردار اسے پائیدار بناتا ہے۔

اسی لیے اسلام نے انسان کی صلاحیت سے پہلے اس کے کردار کی تعمیر پر زور دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

“بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ۔”

(سورۃ النساء: 58)

یہ آیت صرف مالی امانت تک محدود نہیں، بلکہ ہر ذمہ داری، ہر وعدے، ہر عہد اور ہر اعتماد کو شامل کرتی ہے۔ یہی ایک باکردار انسان کی پہچان ہے۔

رسول اللہ ﷺ کو نبوت ملنے سے پہلے بھی اہلِ مکہ “الصادق” اور “الامین” کے لقب سے پکارتے تھے۔ غور کیجیے، اس وقت آپ ﷺ نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا تھا، نہ قرآن نازل ہوا تھا، نہ اسلامی ریاست قائم ہوئی تھی۔ لوگوں نے آپ کو صرف آپ کے کردار کی بنیاد پر یہ مقام دیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ جب آپ ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا تو مخالفین بھی آپ کی امانت و دیانت کا انکار نہ کر سکے۔

آج اگر کسی تاجر یا صنعت کار کے بارے میں یہ شہادت مل جائے کہ “اس کا وعدہ پتھر کی لکیر ہے”، تو یہی اس کی سب سے بڑی مارکیٹنگ ہے۔

حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کا شمار اسلام کے کامیاب ترین تاجروں میں ہوتا ہے۔ مدینہ ہجرت کے بعد ان کے پاس تقریباً کچھ بھی نہ تھا، مگر تھوڑے ہی عرصے میں وہ خوشحال ہو گئے۔ اس کامیابی کی بنیاد صرف تجارتی ذہانت نہیں تھی، بلکہ دیانت، سچائی اور اعتماد تھا۔ لوگ ان کے ساتھ لین دین اس لیے کرتے تھے کہ انہیں یقین تھا کہ یہاں دھوکہ نہیں ہوگا۔

آج کی کاروباری دنیا بھی یہی حقیقت تسلیم کرتی ہے۔

دنیا کے بڑے سرمایہ کار صرف کمپنی کی مصنوعات نہیں دیکھتے بلکہ اس کے بانیوں کا کردار بھی دیکھتے ہیں۔ ایک کمپنی مالی نقصان سے دوبارہ کھڑی ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس کی ساکھ ختم ہو جائے تو اسے بحال کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

چند برس قبل دنیا کی کئی بڑی کمپنیوں کو مالی فراڈ اور اخلاقی بدعنوانی کی وجہ سے اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے پاس بہترین انجینئر، اعلیٰ تعلیم یافتہ منیجر اور جدید ٹیکنالوجی موجود تھی، لیکن کردار کی کمزوری نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔

اس کے برعکس بہت سے کاروبار ایسے بھی ہیں جو کئی نسلوں سے صرف اس لیے کامیاب ہیں کہ لوگ ان کے نام پر اعتماد کرتے ہیں۔

اعتماد خریدنے کی چیز نہیں، بلکہ سالہا سال کی دیانت داری کا نتیجہ ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔”

(جامع ترمذی)

سوچیے، ایک تاجر کو یہ عظیم مقام صرف اس لیے دیا گیا کہ اس نے اپنے کردار کو اپنی تجارت کا سرمایہ بنایا۔

بدقسمتی سے آج بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کاروبار میں تھوڑا بہت جھوٹ، مبالغہ یا وعدہ خلافی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ وقتی طور پر شاید اس سے کچھ فائدہ حاصل ہو جائے، لیکن مستقل کامیابی کبھی اس بنیاد پر قائم نہیں ہوتی۔

کردار کی سب سے بڑی آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب کسی غلط کام سے فوری فائدہ حاصل ہو سکتا ہو اور پھر بھی انسان اللہ کے خوف سے اس سے رک جائے۔

یہی تقویٰ ہے، اور یہی وہ صفت ہے جو مسلمان تاجر کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔

کاروبار میں کردار صرف گاہک کے ساتھ سچ بولنے کا نام نہیں، بلکہ اس میں ملازمین کے حقوق، سپلائر کے ساتھ انصاف، وقت کی پابندی، وعدوں کی تکمیل، معیار کی حفاظت اور ہر حال میں دیانت شامل ہے۔

اگر آپ کا ملازم آپ پر اعتماد کرتا ہے، آپ کا گاہک آپ کی بات پر یقین کرتا ہے اور آپ کا سپلائر آپ کے ساتھ سکون سے کاروبار کرتا ہے، تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے ایک ایسی دولت حاصل کر لی ہے جو کسی بینک میں جمع نہیں کی جا سکتی۔

حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ کسی شخص کی عبادت دیکھ کر متاثر نہ ہو جاؤ، بلکہ اس کے معاملات دیکھو۔ وہ خرید و فروخت میں کیسا ہے؟ وعدہ کیسے نبھاتا ہے؟ امانت کیسے ادا کرتا ہے؟ یہی اس کے حقیقی کردار کی پہچان ہے۔

یہ بات آج کے ہر تاجر، ہر صنعت کار اور ہر پیشہ ور شخص کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے۔

آخر میں خود سے ایک سوال ضرور کیجیے:

اگر آج میرے گاہک، ملازمین، دوست اور کاروباری ساتھی میرے بارے میں صرف ایک جملہ لکھیں، تو کیا وہ میری مہارت کی تعریف کریں گے یا میرے کردار کی؟

حقیقی کامیابی یہ ہے کہ لوگ آپ کے علم سے پہلے آپ کی دیانت کا ذکر کریں۔

آج اپنے کاروبار یا دفتر میں ایک ایسا وعدہ یاد کیجیے جو آپ نے کسی گاہک، ملازم یا ساتھی سے کیا تھا لیکن ابھی تک پورا نہیں ہو سکا۔ آج ہی اسے پورا کرنے کی کوشش کیجیے۔ یاد رکھیے، کردار بڑے فیصلوں سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے وعدوں کی پابندی سے بنتا ہے۔ اور جب کردار مضبوط ہو جائے تو مہارت خود بخود زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔ See less


No comments: