اللہ نے اس دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے، تفریح گاہ نہیں. یہاں ہر نعمت کے ساتھ قیمت لکھی ہے. ہر ہنسی کے پیچھے آنسو کا امکان ہے. ہر راحت کے ساتھ محبت جڑی ہےکیوں؟ کیونکہ اگر سب کچھ آسان ہو جاتا... تو ہم شکر کرنا بھول جاتے. اگر کوئی درد نہ ہوتا... تو ہم دعا کرنا چھوڑ دیتے. اگر کوئی جدائی نہ ہوتی... تو ہم ملاقات کی قدر نہ جانتے. روٹی بغیر تکلیف کے نہیں ملتی. کسان کی دھوپ، محنت، بیچ، انتظار... پھر جا کر نوالہ بنتی ہے.
اس لیے پہلا نوالے پر "الحمد اللہ" نکلتا ہے. رشتے بغیر تکلیف کے نہیں نبھتے. لڑائی، غلط فہمی، صبر، معافی... ان سب کے بعد محبت پختہ ہوتی ہے. جو رشتہ آسانی سے مل جائے، وہ آسانی سے ٹوٹ بھی جاتا ہے.عزت بغیر تکلیف کے نہیں آتی. راتوں کی جاگ، ناکامی، طعنے، پھر کامیابی... تب جا کر نام کے ساتھ "صاحب" لگتا ہے. علم بغیر تکلیف کے نہیں ملتا. کتابوں کی گرد، نیند کی قربانی، سمجھ نہ آنے کی بیچینی... پھر جا کر ایک لفظ دل میں اترتا ہے. اگر یہ سب مفت مل جاتا، تو ہم اس کی قیمت کیا جانتے؟ تکلیف دراصل ایک فلٹر ہے. وہ نکمے لوگوں کو چھانٹ دیتی ہے. جو تھوڑی سی گرمی سے گھبرا جائے، وہ کبھی کامیابی کی دھوپ برداشت نہیں کر پائے گا. تکلیف ہمیں جنت کی یاد دلاتی ہے. یہاں کی کوئی خوشی مکمل نہیں ہوتی.تاکہ ہم ادھوری خوشیوں میں الجھ کر مکمل جنت کو بھول نہ جاہیں. یہاں کی پر تکلیف ایک پیغام ہے. "بیٹا، یہ گھر تمہارا نہیں ہے. تمہارا اصل گھر وہاں ہے جہاں نہ تھکاوٹ ہے، نہ بیماری، نہ جدائی".
اگر یہ دنیا جنت ہوتی تو؟ کوئی مسجد میں نہیں جاتا. کوئی سجدے میں نہیں گرتا. تو کوئی "یااللہ" نہ پکارتا. ہم سب پیسے، شہرت میں گم ہو جاتے. اور موت کے وقت پتہ چلتا کہ ہم زندہ تھے ہی نہیں تھے. اللہ نے تکلیف رکھ کر ہم پر رحم کیا. تاکہ ہم جاگیں. تاکہ ہم پلٹیں. تاکہ ہم مانگیں. ہاں ہم تھک جاتے ہیں. ہاں ہم ٹوٹ جاتے ہیں. ہاں کبھی کبھی لگتا ہے بہت ہو گیا. پر پھر یاد آتا ہے.... نعمت بغیر تکلیف کے مل جائے تو غرور آتا ہے. نعمت تکلیف کے بعد ملے تو شکر آتا ہے. اور اللہ کو غرور والا بندہ پسند نہیں، شکر گزار بندہ پسند ہے. یہ دنیا جنت نہیں ہے... اس لیے تو یہاں کی ہر چھوٹی خوشی بھی جنت لگتی ہے.
No comments:
Post a Comment