Friday, August 21, 2026

قیامت کا دن

 قیامت کا دن ہوگا۔

انسان ایک ایسی حقیقت کے سامنے کھڑا ہوگا جس سے دنیا میں نظریں چراتا رہا تھا۔ اچانک اسے محسوس ہوگا کہ وہ دیکھ نہیں سکتا۔

وہ حیران ہوکر اپنے رب سے عرض کرے گا:

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا

’’وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا، حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا؟‘‘

— سورۃ طٰہٰ 20:125 

جواب آئے گا:

كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ الْيَوْمَ تُنسَىٰ

’’اسی طرح ہماری آیات تمہارے پاس آئی تھیں، مگر تم نے انہیں بھلا دیا؛ اور آج اسی طرح تمہیں چھوڑ دیا جائے گا۔‘‘

— سورۃ طٰہٰ 20:126 

یہ آیات صرف قیامت کے ایک منظر کی خبر نہیں دیتیں؛ یہ ہمیں آج اپنی بصیرت کا معائنہ کرنے کی دعوت بھی دیتی ہیں۔

کیونکہ ہر دیکھنے والا حقیقت میں بصیر نہیں ہوتا۔

🌸 آنکھ اور بصیرت میں فرق

آنکھ شکل دیکھتی ہے۔

بصیرت حقیقت دیکھتی ہے۔

آنکھ کسی انسان کا لباس، لہجہ، دولت، مقام اور ظاہری شخصیت دیکھ سکتی ہے؛ مگر بصیرت کردار، نیت کے آثار، خیر و شر اور کسی راستے کے انجام کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔

اسی لیے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کی آنکھیں بالکل سلامت ہوتی ہیں، مگر اس کے فیصلے بتا رہے ہوتے ہیں کہ اندر کہیں روشنی کم ہوگئی ہے۔

اسے گناہ دکھائی دیتا ہے مگر اس کی سنگینی محسوس نہیں ہوتی۔

نعمت موجود ہوتی ہے مگر شکر نظر نہیں آتا۔

قرآن گھر میں موجود ہوتا ہے مگر زندگی کے فیصلوں میں اس کی ہدایت موجود نہیں ہوتی۔

نماز کی آواز آتی ہے، مگر دل میں حرکت نہیں ہوتی۔

یہ جسمانی اندھا پن نہیں۔

یہ بصیرت کا دھندلا جانا ہے۔

🌿 بصیرت اچانک ختم نہیں ہوتی

یہ شاید سب سے خوفناک حقیقت ہے۔

اندر کا اندھیرا اکثر ایک ہی دن میں نہیں آتا۔

وہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔

پہلی مرتبہ انسان کسی غلط کام پر بے چین ہوتا ہے۔

دوسری مرتبہ بے چینی کچھ کم ہوجاتی ہے۔

پھر انسان اپنے عمل کے لیے دلیلیں تلاش کرنے لگتا ہے۔

اور ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ جس چیز پر کبھی دل کانپتا تھا، وہ معمول محسوس ہونے لگے۔

یہاں انسان نے صرف ایک غلط کام نہیں کیا؛ خطرہ یہ ہے کہ غلط کو غلط سمجھنے والی حساسیت بھی کم ہونے لگے۔

اسی لیے قرآن بار بار انسان کو یاد دلاتا، جگاتا اور متنبہ کرتا ہے۔

💭 نفسیات بھی ایک دلچسپ حقیقت بتاتی ہے

انسان دنیا کو بالکل غیر جانب دار کیمرے کی طرح نہیں دیکھتا۔

ہماری توجہ، سابقہ تجربات، خواہشات، خوف اور پہلے سے قائم تصورات اس بات کو متاثر کرسکتے ہیں کہ ہم کسی صورتِ حال کو کیسے interpret کرتے ہیں۔

اسی لیے دو انسان ایک ہی واقعہ دیکھ کر بالکل مختلف نتیجہ نکال سکتے ہیں۔

اور شاید اسی مقام پر مومن کو اپنے نفس سے ایک مشکل سوال پوچھنا چاہیے:

’’جو مجھے صحیح لگ رہا ہے، کیا وہ واقعی صحیح ہے… یا صرف اس لیے صحیح لگ رہا ہے کہ میں اسے صحیح دیکھنا چاہتا ہوں؟‘‘

یہ سوال بصیرت کی حفاظت کرتا ہے۔

🌙 کبھی ہم حقیقت نہیں، اپنی خواہش دیکھ رہے ہوتے ہیں

کسی تعلق میں واضح red flags موجود ہیں، مگر دل کہتا ہے:

’’نہیں، سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘

کسی معاملے میں ہماری اپنی غلطی واضح ہے، مگر نفس کہتا ہے:

’’پہلے اس نے ایسا کیا تھا۔‘‘

کسی شخص کی اچھی بات سامنے آتی ہے، مگر چونکہ ہم اس سے ناراض ہیں اس لیے اسے ماننے کو دل نہیں چاہتا۔

اور کبھی کسی محبوب انسان کی غلطی بھی ہمیں غلط نہیں لگتی۔

یہیں بصیرت اور خواہش کا امتحان شروع ہوتا ہے۔

مومن کی کوشش یہ نہیں ہونی چاہیے کہ ہر حال میں میری بات صحیح ثابت ہوجائے۔

اس کی دعا ہونی چاہیے:

’’یا اللہ! حقیقت جو بھی ہے، مجھے اسے حقیقت کی طرح دیکھنے کی توفیق دے۔‘‘

🌺 قرآن نے اصل بیماری کی طرف اشارہ کردیا

ان آیات کو ایک آیت پہلے سے پڑھیں تو مفہوم اور گہرا ہوجاتا ہے:

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ

جو اللہ کے ذکر و ہدایت سے اعراض کرے، اس کے لیے تنگ زندگی کا ذکر ہے اور قیامت کے دن اندھا اٹھائے جانے کی وعید ہے۔ پھر آیات 125–126 میں اس شخص کا سوال اور اللہ تعالیٰ کا جواب بیان ہوتا ہے۔ 

گویا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ دنیا میں اس کے پاس آنکھیں نہیں تھیں۔

مسئلہ یہ تھا کہ آیات آگئی تھیں، مگر اس نے ان سے منہ موڑ لیا تھا۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔

قرآن یہ نہیں سکھاتا کہ ہر جسمانی نابینا شخص روحانی طور پر محروم ہے—ہرگز نہیں۔ یہاں قیامت کے مخصوص عذاب اور اللہ کی آیات سے اعراض کا ذکر ہے۔ جسمانی نابینائی کو گناہ یا کم ایمانی سے جوڑنا درست نہیں۔

🌼 بصیرت کیسے محفوظ رکھی جائے؟

اپنے دل کو روزانہ قرآن کے سامنے رکھیں۔ صرف یہ نہ دیکھیں کہ آج کتنی آیات پڑھیں، کبھی یہ بھی پوچھیں کہ آج کس آیت نے مجھے بدلا؟

اپنی غلطی سننے کی صلاحیت پیدا کریں۔ جو انسان صرف تعریف سن سکتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنی کمزوریاں دیکھنے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔

نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں جو ہر بات میں آپ کی تائید کرنے کے بجائے ضرورت پڑنے پر محبت سے آپ کو آئینہ دکھائیں۔

اور سب سے بڑھ کر اللہ سے ہدایت مانگتے رہیں۔

کیونکہ بعض اوقات زندگی کا سب سے بڑا نقصان کسی چیز کا چھن جانا نہیں ہوتا۔

سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ غلط راستے پر چلتے ہوئے بھی انسان کو محسوس ہوتا رہے کہ میں بالکل صحیح جارہا ہوں۔

🤍 آج خود سے پانچ سوال کیجیے

کیا کوئی ایسی حقیقت ہے جسے میں جانتی ہوں مگر قبول نہیں کرنا چاہتی؟

کیا کوئی گناہ ہے جو پہلے مجھے پریشان کرتا تھا مگر اب معمول محسوس ہوتا ہے؟

کیا کسی انسان سے محبت یا ناراضی میری judgment کو متاثر کررہی ہے؟

کیا میں قرآن سے اپنے فیصلوں کی اصلاح کرتی ہوں، یا اپنے فیصلوں کے حق میں قرآن سے دلیل تلاش کرتی ہوں؟

اور آخری سوال سب سے گہرا ہے:

اگر اللہ مجھے آج میری زندگی بالکل ویسی دکھا دے جیسی حقیقت میں ہے، تو کیا میں اسے دیکھنے کے لیے تیار ہوں؟

🌷 بصیرت روشنی کا نام ہے

کبھی زندگی میں فوراً فیصلہ نہ کیجیے۔

ذرا رک جائیے۔

اپنی خواہش کو ایک طرف رکھیے۔

اللہ کے سامنے جھکیے۔

قرآن کی طرف لوٹیے۔

اور دعا کیجیے:

یا اللہ! میری ظاہری آنکھوں کے ساتھ میرے دل کی آنکھ بھی روشن رکھ۔ مجھے حق، حق دکھا اور اس پر چلنے کی توفیق دے۔ باطل، باطل دکھا اور اس سے بچنے کی قوت عطا فرما۔ میری خواہشات کو میری بصیرت پر پردہ نہ بننے دینا۔

کیونکہ بعض اوقات انسان کو راستے کی کمی نہیں ہوتی—

روشنی کی کمی ہوتی ہے۔

اور جسے اللہ بصیرت کی روشنی عطا کردے، وہ اندھیروں کے درمیان بھی راستہ پہچان لیتا ہے۔

آنکھوں کا کھلا ہونا ایک نعمت ہے…

مگر دل کا دیکھنا اس سے بھی بڑی نعمت ہے۔ 🌿

حوالہ: سورۃ طٰہٰ 20:123–127 میں پہلے اللہ کی ہدایت کی پیروی کا انجام، پھر اس کے ذکر سے اعراض، قیامت میں اندھا اٹھائے جانے اور آیات کو بھلا دینے کا ذکر مسلسل سیاق میں آیا ہے۔ 

سورۃ طٰہٰ 20:124–126 — قرآن کریم⁠


No comments: