Friday, August 21, 2026

جب غم بھی ایک ثواب بن جائے!

 جب غم بھی ایک ثواب بن جائے!

قرآنِ کریم کی وہ آیات جو عقل سے پہلے دل کو موہ لیتی ہیں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانِ عالی شان ہے:

فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ

 [آل عمران: 153]

۔"پھر اس نے تمہیں غم کے بدلے ایسا غم دیا جو ثواب بن گیا"

یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے، لیکن اپنے اندر بلاغت اور ایمان کے ایسے راز سمیٹے ہوئے ہے جن سے انسان کا کلام قاصر ہے۔ یہاں سب سے پہلی بات جو توجہ کھینچتی ہے وہ

 غَمًّا بِغَمٍّ نہیں، بلکہ اس سے پہلے کے الفاظ ﴿فَأَثَابَكُمْ﴾ ("تو اس نے تمہیں ثواب دیا") ہیں۔

عربی زبان میں ثواب اس بدلے یا جزا کو کہتے ہیں جس سے انسان خوش ہوتا ہے، اور یہ وہ عطا ہے جس کی امید اور انتظار کیا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید میں ثواب کا لفظ اکثر جنت، اجر، فضل اور نعمتوں کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ لیکن غم کو "ثواب" قرار دینا… یہ وہ بات ہے جو گہرے تدبر کی دعوت دیتی ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: "فعاقبكم غمًّا" (پھر اس نے تمہیں غم کی سزا دی)، حالانکہ غزوۂ احد میں یہ صورتِ حال کچھ تیر اندازوں سے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ اور نہ ہی یہ فرمایا: "فابتلاكم غمًّا" (پھر اس نے تمہیں غم میں مبتلا کیا) اور نہ ہی "فأصابكم غم" (پھر تمہیں غم پہنچا)، بلکہ اللہ نے لفظ ثواب کا انتخاب فرمایا۔

یہاں سے اس شخص کا فرق ظاہر ہوتا ہے جو صرف تقدیر کے ظاہری پہلو کو دیکھتا ہے، اور اس کے مقابلے میں وہ جو اس کی حکمت کو سمجھتا ہے۔ انسان غم کو محض ایک تکلیف اور درد کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ—اگر وہ غم خیر کی طرف لے جائے—اسے ایک ایسی نعمت کے طور پر دیکھتا ہے جو "ثواب" کہلانے کی مستحق ہے۔

ہر ثواب راحت نہیں ہوتا، اور نہ ہی ہر نعمت محض ایک لذت کا نام ہے۔ بلکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ملنے والی سب سے بڑی جزا یہ ہوتی ہے کہ وہ آپ کے دل کو اس کی غفلت کے بعد بیدار کر دے، آپ کے منہ موڑنے کے بعد آپ کو دوبارہ اپنی طرف لوٹا لے، اور آپ کے نفس میں چھپے اس غرور کو توڑ دے جو آپ کو ہلاک کرنے والا تھا۔

غزوۂ احد میں شکست ایک غم تھی، لیکن اس غم نے ایک ایسی نسل تیار کی جو دوبارہ وہی غلطی نہ دہرائے۔ حکم کی خلاف ورزی کی تلخی ایک غم تھی، لیکن اس نے دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعتِ مطلقہ کا جذبہ راسخ کر دیا۔ انکساری اور ٹوٹ جانے کے وہ لمحے ایک غم تھے، لیکن ان سے عاجزی، نفس کا خوف اور اللہ کی بارگاہ میں التجا کی سچائی پیدا ہوئی۔ تو اس سے بڑا ثواب اور کیا ہو سکتا ہے؟

اللہ کبھی آپ کو کسی چیز سے روکتا ہے، تو وہ روکنا ہی دراصل ایک عطا ہوتا ہے۔

وہ کبھی آپ کے کام میں تاخیر کرتا ہے، تو وہ تاخیر ہی نجات کا سبب بنتی ہے۔

وہ کبھی آپ کو آزمانا ہے، تو وہ آزمائش ہی آپ کی پاکیزگی کا ذریعہ ہوتی ہے۔

اور وہ کبھی آپ کو غمگین کرتا ہے، تو وہ غم ہی اس دائمی خوشی کا راستہ بنتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

اسی لیے فرمایا: ﴿فَأَثَابَكُمْ﴾۔

گویا یہ آیت مؤمن کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ نعمتوں کا اندازہ اپنی خواہشات کے مطابق نہ لگائے، بلکہ اس بنیاد پر لگائے کہ وہ چیز اسے اپنے رب کے کتنا قریب کر رہی ہے۔

کتنی ہی نعمتیں ایسی ہیں جنہوں نے انسان کو اللہ سے دور کر دیا،

اور کتنی ہی مصیبتیں ایسی ہیں جنہوں نے انسان کو دوبارہ اللہ کی طرف لوٹا دیا۔

کتنی ہی کامیابیاں ایسی ہیں جو تکبر کا باعث بنیں،

اور کتنی ہی شکستیں ایسی ہیں جو اخلاص کا سبب بن گئیں۔

چنانچہ اگر غم آپ کے اندر توبہ پیدا کر دے، صابر بنا دے، نفس کی اصلاح کر دے، درجات بلند کر دے، گناہ مٹا دے، یا دنیا سے تعلق توڑ دے… تو پھر وہ آسمان کے ترازو میں ثواب بن چکا ہے، خواہ زمین کے ترازو میں وہ محض ایک تکلیف اور درد ہی کیوں نہ ہو۔

یہاں قرآنی اسلوب کی بے مثال خوبصورتی ظاہر ہوتی ہے۔ لوگ چیزوں کا نام ان کے ابتدائی اثرات پر رکھتے ہیں، جبکہ قرآن ان کا نام ان کے آخری نتائج کی بنیاد پر رکھتا ہے۔

اللہ کی تقدیریں بھی ایسی ہی ہیں؛ ان کی شروعات شاید کوئی آنسو ہو، لیکن ان کا انجام رحمت ہوتا ہے۔

ان کا ظاہر شاید ٹوٹ پھوٹ ہو، لیکن ان کا باطن ربط اور جوڑ ہوتا ہے۔

ان کا عنوان شاید غم ہو، لیکن ان کی حقیقت ثواب ہوتی ہے۔

اسی لیے فرمایا: ﴿فَأَثَابَكُمْ﴾، یہ نہیں فرمایا: فأصابكم غمًّا؛ کیونکہ "اصابت" (پہنچنا) صرف واقعے کو بیان کرتی ہے، جبکہ "ثواب" اس کے پیچھے چھپی حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ قرآن ہماری توجہ تکلیف کی طرف نہیں، بلکہ اس پھل کی طرف مبذول کرواتا ہے جو اس تکلیف سے حاصل ہوتا ہے۔

یہ ایک اکیلا لفظ ﴿فَأَثَابَكُمْ﴾ مؤمن کو یہ درس دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی سے گزرنے والے ہر قدر کے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔

ہر وہ چیز جس نے آپ کو غمگین کیا، وہ شر نہیں ہوتی،

اور ہر وہ چیز جس نے آپ کو تکلیف دی، وہ سزا نہیں ہوتی۔

ممکن ہے آپ کی زندگی کا سب سے بڑا ثواب وہی آزمائش ہو جسے کسی دن آپ نے اپنے اوپر نازل ہونے والی سب سے سخت مصیبت سمجھا تھا۔ اگر آپ آزمائش کے بعد خود کو اللہ کے زیادہ قریب، دعاؤں میں زیادہ سچا، دنیا سے زیادہ بے رغبت، مخلوق کے لیے زیادہ رحمدل اور نماز میں زیادہ خاشع پاتے ہیں… تو جان لیجیے کہ وہ غم کوئی زحمت یا آفت نہیں تھا، بلکہ وہ ایک ثواب تھا۔

یہ قرآنی تعبیر اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ لمحاتی لذت کو نہیں بلکہ دل کی اصلاح کو دیکھتا ہے، اور وہ جسم کی راحت کو نہیں بلکہ روح کی نجات کو دیکھتا ہے۔

پاک ہے وہ ذات جس نے غم کو "ثواب" کا نام دیا! کیونکہ اس نے آنسوؤں کے پیچھے وہ کچھ دیکھا جو ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں، اور تکلیف کے پیچھے وہ حکمت سمجھی جو ہماری عقلیں نہیں سمجھ سکتیں۔

اے اللہ رب العزت! اگر تو ہم پر کوئی غم نازل فرمائے، تو اسے ایسا غم بنا دے جو ایمان کو پروان چڑھائے، صبر عطا کرے، یقین میں اضافہ کرے، اور سچی توبہ کی طرف لے جائے۔ اور اس غم کے ذریعے شیطان کو ہم پر غالب ہونے کا کوئی راستہ نہ دے… آمین۔

اَللّٰھُمَّ اجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ"

 "اے اللہ! قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غموں کا مداوا اور میری پریشانیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔"


No comments: