Friday, August 14, 2026

شکر الحمد للہ

ہم بڑے نا شکرے ہیں ہمیں جو مل گیا ہم اسے "نارمل" کہتے ہیں. اور جو نہیں ملا اس کے پیچھے ساری عمر بھاگتے ہیں. آپ کے چھت ہے. بارش ہو تو آپ کہتے ہیں "گرمی کم ہو گئی" مگر سٹرک پر سونے والا اسی چھت کے لیے دعا مانگ رہا ہے. آپ کے پاس دو وقت کی روٹی ہے. آپ کہتے ہیں "آج دال تھی" مگر کوئی ماں ہے جو اپنے بچے کو سلا کر خود بھوکی سو جاتی ہے. آپ کے پاس ماں کی ڈانٹ ہے. آپ کہتے ہیں "بہت بولتی ہے" مگر کسی کے پاس قبر پر جا کر بات کرنے کے سوا کچھ نہیں. 

آپ کے پاس نوکری ہے آپ کہتے ہیں "تنخواہ کم ہے، باس تنگ کرتا ہے" مگر ہزاروں Cv لے کر در دھکے کھانے والے آپ کی جگہ کے لیے سجدے کر رہے ہیں.
ہماری آنکھیں ہیں ہم فضول گھورتے ہیں اور کہتے ہیں "بور ہو رہا ہوں" کوئی ہے جو اندھیرے میں ہاتھ ٹٹول کر پانی پیتا ہے. ہمارے پاوں ہیں ہم کہتے ہیں "دور ہے، جانے کا دل نہیں" کوئی ہے جو ایک قدم کے لیے ترستا ہے. ہمارا دل دھڑک رہا ہے. سانس آ رہی ہے. مگر ہم کہتے ہیں "زندگی میں کچھ نہیں" جبکہ Icu میں کوئی ایک سانس کے لیے مشین سے لگا ہے. 

ہم رشتوں کو معمولی سمجھ لیتے ہیں. وہ دوست جو ہر بات پر "میں ہوں نا" کہتا ہے ہم اسے"چپکو" کہتے ہیں. وہ بہن جو آپ کا جھوٹ چھپا لیتی ہے. ہم اسے "ٹوکتی بہت ہے" کہہ دیتے ہیں. وہ باپ جو پیسنے میں شرابور ہو کر آپ کی فیس بھرتا ہے ہم اس سے کہتے ہیں "آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں" پھر ایک دن... وہ نعمت چلی جاتی ہے تب پتہ چلتا ہے کہ وہ" معمولی" نہیں تھی. وہ" نعمت" تھی.

 جس نعمت کو آپ معمولی سمجھتے ہو وہ کسی اور کی فقط خواہش ہوتی ہے. کسی کی خواہش ہے "کاش میں بھی ماں ہوتی" اور آپ کی ماں روز کہتی ہے "بیٹا ناشتہ کر لو" اور آپ" بعد" میں کہہ کر نکل جاتے ہیں. کسی کی خواہش "کاش میرا بھی گھر ہو" اور آپ اپنے کمرے کی دیوار کا رنگ بدلنے کا سوچ رہے ہیں. 

شکر کریں چھوٹی چھوٹی چیزوں کا. پانی کا گھونٹ پئیں تو کہیں "الحمد اللہ" بستر پر لیٹیں تو کہیں "الحمد اللہ" کسی نے مسکرا کر بات کی تو کہیں" الحمد اللہ" کیوں کہ شکر سے نعمت بڑھتی ہے. اور ناشکری سے... وہ بھی چلی جاتی ہے. جیسے ہم معمولی سمجھتے تھے. کیونکہ جو آپ کے پاس ہیں وہ کسی اور کی خواہش ہیں. سانس، سلامتی، اور کوئی ایک انسان جو آپ سے محبت کرتا ہے. بس. یہی بہت ہے.

No comments: