Friday, August 21, 2026

اللہ تک....

 جو نہ ملا، شاید اسی نے مجھے اللہ تک پہنچایا

انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب انسان اپنے ماضی کے کسی بند دروازے کے سامنے دوبارہ جا کھڑا ہوتا ہے۔

وہی دروازہ جس کے کھلنے کے لیے کبھی اس نے دعائیں کی تھیں

، کبھی تہجد میں رویا تھا، صدقہ دیا تھا، لوگوں سے دعا کروائی تھی اور اپنے رب سے بار بار کہا تھا "یا اللہ، بس یہ ایک چیز مجھے عطا کر دے۔" اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی مگر وہ دروازہ نہیں کھلا۔

وقت گزر گیا، زندگی آگے بڑھ گئی، مگر دل کے کسی گوشے میں یہ سوال پڑا رہا کہ اگر دینا ہی نہیں تھا تو میرے دل میں اس کی اتنی چاہت کیوں رکھی گئی تھی؟

یہ سوال معمولی نہیں کیونکہ بعض لوگ اسی سوال سے بدگمان ہو جاتے ہیں اور بعض اسی سوال کا ہاتھ پکڑ کر اللہ تک پہنچ جاتے ہیں۔

اللہ نے قرآن پاک کی سورہ البقرۃ کی آیت نمبر 216 میں انسانی خواہش اور الٰہی علم کے درمیان یہی فاصلہ ایک مختصر جملے میں کھول دیا:

وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

"ممکن ہے تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو، اور اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔"

غور کیجیے، اللہ نے قرآن پاک میں یہ نہیں کہا کہ جس چیز سے تم محبت کرتے ہو وہ لازماً بری ہے۔

بات اس سے کہیں زیادہ سمجھنے کی ہے کہ تمہاری محبت تمہیں اس چیز کا صرف وہ رخ دکھاتی ہے جو آج تمہارے سامنے ہے، جبکہ اللہ اس کا وہ انجام بھی جانتا ہے جہاں ابھی تمہاری نگاہ پہنچی ہی نہیں۔

ہم ایک لمحہ مانگ رہے ہوتے ہیں، اللہ پوری عمر دیکھ رہا ہوتا ہے۔

ہم ایک شخص دیکھ رہے ہوتے ہیں، اللہ اس شخص کے ساتھ جڑی ہوئی پوری تقدیر دیکھ رہا ہوتا ہے۔

ہم ایک دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں، اور وہ جانتا ہے کہ اس دروازے کے بعد کون سی گلی ہے۔

اسی لیے کبھی کبھی بند دروازہ محرومی نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے علم اور ہمارے لاعلم ہونے کے درمیان کھڑی ہوئی رحمت ہوتی ہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیکھیے۔

یوسف علیہ السلام ان سے جدا ہوئے تو یہ چند دنوں کی جدائی نہیں تھی۔

قرآن پاک ہمیں ایک ایسے باپ کے دل کے پاس لے جاتا ہے جو بیٹے کے فراق میں برسوں سلگتا رہا۔ یہاں تک کہ غم کے سبب ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں مگر عجیب بات یہ ہے کہ اتنے طویل فراق کے باوجود انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا

إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ

"میں اپنی پریشانی اور اپنا غم صرف اللہ کے سامنے بیان کرتا ہوں۔"

(یوسف: 86)

یہاں انسان کی زندگی کا ایک راز چھپا ہے۔

انسان وہ نہیں جسے درد نہیں ہوتا جبکہ حضرت یعقوبؑ روئے اور انسان وہ بھی نہیں جو اپنے کھوئے ہوئے کو بھول جائے کیونکہ یعقوبؑ یوسفؑ کو نہیں بھولے بلکہ اصل کمال یہ تھا کہ غم دل میں رہا، مگر اللہ سے بدگمانی دل میں داخل نہ ہوسکی۔

اگلی ہی آیت میں آیا ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو یوسفؑ کی تلاش کا حکم دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔

ذرا اس کیفیت کو اپنے اندر اتاریے۔

آنکھیں رو رو کر کمزور ہوچکی ہیں، کئی برس گزر چکے ہیں، ظاہری اسباب امید کے خلاف ہیں، مگر دل ابھی کہہ رہا ہے میرے رب کے خزانے میں وہ امکان بھی موجود ہے جو مجھے دکھائی نہیں دے رہا۔

یہی تو ایمان ہے جو ہم سب کا بھی ہونا چائیے یعنی کہ اگر ہمیں زخم لگے تو بھی اللہ کے بارے میں ہمارا ایمان ایسا ہو کہ کوئی بھی ہمارا گمان زخمی نہ کرسکے۔

اور پھر اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ تو جیسے اسی حقیقت کو انسانی زندگی میں چلتا پھرتا دکھا دیتا ہے۔

واقعہ کچھ یوں کہ کہ جب ان کے شوہر حضرت ابو سلمہؓ کا انتقال ہوا تو ان کا تعلق ایسا تھا کہ اُمِّ سلمہؓ کے لیے یہ تصور ہی دشوار تھا کہ ابو سلمہؓ سے بہتر کون ہوسکتا ہے

رسول اللہ ﷺ نے مصیبت کے وقت ایک دعا سکھائی تھی

اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا

"اے اللہ! میری اس مصیبت پر مجھے اجر عطا فرما اور اس کے بدلے مجھے اس سے بہتر عطا فرما۔"

اُمِّ سلمہؓ نے وہ دعا پڑھی، اگرچہ دل میں خیال آیا کہ ابو سلمہؓ سے بہتر کون ہوسکتا ہے؟

پھر وقت نے وہ صفحہ کھولا جو اس لمحے ان کی نگاہ سے پوشیدہ تھا۔

اللہ نے انہیں رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کا شرف عطا فرمایا۔

یہ واقعہ صحیح مسلم 918a میں خود اُمِّ سلمہؓ سے مروی ہے۔

یہاں ذرا ہمیں غور کرنا چاہیے کیونکہ زندگی کا ایک بڑا سبق اسی جگہ رکھا ہوا ہے۔

جب ابو سلمہؓ دنیا سے رخصت ہوئے تو اس وقت اُمِّ سلمہؓ کو مستقبل دکھائی نہیں دے رہا تھا بلکہ انہیں صرف اپنا خالی گھر، اپنا غم اور اپنی محرومی دکھائی دے رہی تھی جبکہ اللہ کو اگلا باب بھی معلوم تھا۔

یہاں سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ بس ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ ہم زندگی کے ایک صفحے پر کھڑے ہو کر پوری کتاب کا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

ایک رشتہ ختم ہوا تو کہہ دیا: "میری زندگی برباد ہوگئی۔"

ایک ملازمت نہ ملی تو کہہ دیا: "میرا نصیب ہی خراب ہے۔"

کسی نے ہمیں چھوڑ دیا تو سمجھ لیا: "اب میرے حصے میں محبت نہیں۔"

دعا پوری نہ ہوئی تو دل میں خیال آیا: "شاید اللہ میری سنتا ہی نہیں۔"

ہمیں کون بتائے کہ بندے کی نگاہ صفحہ پڑھتی ہے جبکہ رب کی نگاہ پوری کتاب دیکھتی ہے۔

میں نے زندگی میں ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو کسی ایک چیز کے نہ ملنے پر مہینوں بکھرے رہے۔

ایک نوجوان برسوں ایک خاص ملازمت کے پیچھے بھاگتا رہا۔ ہر انٹرویو کے بعد امید باندھتا اور ہر انکار کے بعد ٹوٹ جاتا۔ اس کے گھر کے حالات بھی ایسے تھے کہ اسے اس نوکری کا نہ ملنا محض career setback نہیں بلکہ اپنی بے قدری محسوس ہوتا تھا۔

پھر ایک دن اس نے تھک کر راستہ بدلا، ایک چھوٹا سا کام شروع کیا اور وہی کام آہستہ آہستہ اس کی شناخت بن گیا۔

زندگی گزرتی گئی اور کئی برس بعد اس نے ایک عجیب بات کہی

"آج اگر وہ پہلی نوکری مجھے مل جاتی تو شاید میں ساری عمر اللہ کا شکر ادا کرتا کہ میری دعا قبول ہوگئی لیکن اب میں شکر اس بات پر کرتا ہوں کہ قبولیت میری مرضی کے مطابق نہیں ہوئی۔"

یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ کوئی شرعی قاعدہ نہیں کہ ہر محرومی کے بعد دنیا ہی میں اس سے بڑی چیز ضرور ملے گی کیونکہ اُمِّ سلمہؓ کا واقعہ بھی ہمیں ایسا تجارتی فارمولا نہیں دیتا کہ ایک چیز جائے گی تو لازماً اس سے بڑی چیز ملے گی کیونکہ بعض اوقات بہتر بدلہ کوئی دوسری چیز نہیں ہوتا بلکہ ایک دوسرا انسان ہوتا ہے اور وہ جو تم خود بن جاتے ہو کیونکہ

وہ محرومی تمہارا غرور لے جاتی ہے۔

وہ جدائی تمہیں لوگوں کی بے بسی سمجھا دیتی ہے۔

وہ بیماری تمہاری زبان سے تکبر نکال دیتی ہے۔

وہ ناکامی تمہیں دعا کا محتاج بنا دیتی ہے۔

اور کبھی جس شخص کے لیے تم راتوں کو روتے تھے، اسی کے نہ ملنے کے بعد پہلی مرتبہ تم رات کے آخری حصے میں اپنے رب کے سامنے بیٹھنا سیکھتے ہو تو تب معاملہ عجیب ہوجاتا ہے کیونکہ

تم مانگ کسی اور کو رہے تھے مگر راستہ اللہ کی طرف کھل گیا۔

یہیں مجھے غالب کا ایک شعر ایک دوسرے معنی میں یاد آتا ہے:

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

میں سمجھتا ہوں عثمان کہ انسان کے اندر بھی ایک "ہونا" ہے یعنی میری خواہش، میری تدبیر، میرا منصوبہ، میرا حق، میری پسند، میری مرضی لیکن بعض اوقات زندگی انہی "میری" کی تہوں کو ایک ایک کرکے اتارتی ہے، یہاں تک کہ آدمی اس مقام پر آجاتا ہے جہاں اس کے پاس دلیلیں کم اور اللہ زیادہ رہ جاتا ہے اور شاید فقر یعنی (فقر سے مراد تنگ دستی، غربت اور مفلسی) کی ابتدا یہی ہے۔

عثمان فقر خالی جیب کا نام نہیں بلکہ

فقر اُس لمحے کا نام ہے جب بندہ جان لیتا ہے کہ میرے پاس سب کچھ ہو کر بھی میں اللہ کے بغیر فقیر ہوں، اور بہت کچھ نہ ہو کر بھی اگر وہ میرے ساتھ ہے تو میں بالکل خالی نہیں۔

اس لیے جس چیز کے نہ ملنے کا غم آج بھی تمہارے اندر کہیں زندہ ہے، اسے زبردستی نعمت قرار دینے کی کوشش نہ کرو اوراگر درد ہے تو درد کو درد کہو کیونکہ اللہ نے قرآن پاک میں حضرت یعقوبؑ کے غم کو چھپایا نہیں ہے اور ہمارا دین اسلام انسان سے پتھر بننے کا مطالبہ نہیں کرتا۔

اگر دل کرتا ہے رونے کا تو روؤ اور رونے کے ساتھ ساتھ دعا بھی کرو اور اپنی خواہش اللہ کو بتاؤ مگر اپنے رب کے بارے میں فیصلہ مت سناؤ کیونکہ عثمان تمہیں ابھی صرف اتنا معلوم ہے کہ تمہیں کیا نہیں ملا۔

جبکہ عثمان تمہیں ابھی یہ معلوم نہیں کہ اس نہ ملنے نے تمہیں کس چیز سے بچایا، کس طرف موڑا، تمہارے اندر کیا پیدا کیا، تمہاری کون سی دعا کے لیے جگہ بنائی، اور آخرت کے لیے تمہارے نامۂ اعمال میں کیا لکھ دیا۔

ہمیں زندگی کے بعض سوالات کے جوابات زندگی میں نہیں ملتے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی بندگی کا سب سے نازک مقام ہے جہاں اللہ کی حکمت پر اس وقت بھی اعتماد باقی رکھنا جب حکمت ابھی سمجھ میں نہ آئی ہو۔

کیونکہ ایک دن شاید تم بھی اپنی زندگی کے کسی پرانے ملبے کے سامنے کھڑے ہو کر مسکرا دو اور کہو

"یا اللہ! اُس وقت میں اسے محرومی سمجھ کر رویا تھا لیکن آج معلوم ہوا، تُو مجھے خالی نہیں کر رہا تھا بلکہ تُو میرے ہاتھ سے وہ چیز لے رہا تھا جسے پکڑے پکڑے میں تیرے کسی اور فیصلے تک پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔"

اور اگر یہ راز دنیا میں کبھی نہ بھی کھلے، تب بھی مومن کے لیے ایک بات کافی ہے

وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

"اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔"

مجھے لگتا ہے کہ انسان شاید آخرکار اسی ایک جملے پر آکر خاموش ہوجاتا ہے۔

وہ ہر محرومی کی حکمت جان لینے کی ضد چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ اسے حکمت سے زیادہ حکیم پر اعتبار ہوجاتا ہے اور جس دن بندے کو اللہ کے ہر فیصلے کی وجہ جاننے سے زیادہ اللہ پر بھروسا عزیز ہوجائے، اسی دن "جو نہیں ملا" صرف محرومی نہیں رہتا کیونکہ

کبھی کبھی وہی چیز، جو تمہارے ہاتھ نہ آسکی، تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں اللہ کے دروازے تک لے آئی ہوتی ہے۔

اگر میری اس تحریر نے آپ کو اپنی زندگی کی کسی ایسی محرومی، ادھوری دعا یا بند دروازے کی گرہ کھولی ہے جس کی حکمت آج تک سمجھ نہیں آئی، تو کمنٹ میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں یا صرف اتنا لکھیے:

"یا اللہ! مجھے اپنے فیصلوں پر راضی رہنے والا دل عطا فرما۔" 🤲

اور اسے کسی ایسے شخص تک ضرور پہنچا دیجیے جو آج کسی "نہ ملنے" کے غم میں ہے۔ 

شاید آپ کا ایک شیئر اسے یہ سمجھا دے کہ ہر بند دروازہ اللہ کی ناراضی نہیں ہوتا، بعض دروازوں کا بند رہنا بھی اس کی رحمت کا ایک ایسا انداز ہے جسے انسان دیر سے سمجھتا ہے۔


No comments: