Friday, August 21, 2026

اور ہمارے لیے آخرت ہے!

 " اور ہمارے لیے آخرت ہے!

کبھی کبھی انسان دنیا کی مشکلات سے اس قدر تھک جاتا ہے کہ اسے اپنی زندگی ہی بہت بھاری محسوس ہونے لگتی ہے۔

کبھی رزق کی تنگی پریشان کرتی ہے،

کبھی کسی اپنے کی جدائی،

کبھی بیماری اور کمزوری،

کبھی ادھوری خواہشیں،

کبھی دعاؤں میں تاخیر،

اور کبھی یہ احساس کہ سب کے حالات بہتر ہو رہے ہیں، صرف میری زندگی ہی کیوں رکی ہوئی ہے؟

ایسے وقت میں ذرا اپنے محبوب نبی ﷺ کی زندگی کو یاد کیجیے۔

وہ نبی ﷺ جن کے قدموں میں دنیا کی بادشاہتیں بھی ڈال دی جاتیں تو آپ ﷺ اللہ کے حکم سے انہیں چھوڑ سکتے تھے، مگر آپ ﷺ نے دنیا کی آسائش کے بجائے آخرت کو ترجیح دی۔

حضرت عمر بن خطابؓ ایک مرتبہ رسول اللّٰه ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ ایک چٹائی پر تشریف فرما تھے۔ چٹائی کے ریشے آپ ﷺ کے پہلو پر نشان چھوڑ چکے تھے۔

حضرت عمرؓ یہ منظر دیکھ کر رو پڑے۔

رسول اللّٰه ﷺ نے پوچھا:

"اے عمر! کیوں رو رہے ہو؟"

عرض کیا:

"اے اللّٰه کے رسول! کسریٰ اور قیصر دنیا کی آسائشوں میں زندگی گزار رہے ہیں، اور آپ ﷺ اس حال میں ہیں!"

رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:

«أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ»

"کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ دنیا اُن کے لیے ہو اور آخرت ہمارے لیے؟"

حضرت عمرؓ نے عرض کیا:

"کیوں نہیں!"

آپ ﷺ نے فرمایا:

"پس ایسا ہی ہے۔"

صحیح بخاری: 4913

ذرا اس جملے کو دل میں اتاریے:

"دنیا اُن کے لیے اور آخرت ہمارے لیے۔"

یہ صرف حضرت عمرؓ کو تسلی دینے کے الفاظ نہیں تھے؛

یہ ہر اُس مومن کے لیے امید ہیں جو دنیا کی تنگیوں میں گھرا ہوا ہے۔

ہم اکثر دنیا کی نعمتوں کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ شاید جس کے پاس زیادہ ہے، وہ زیادہ خوش نصیب ہے۔

کسی کا خوبصورت گھر دیکھ کر،

کسی کی آسائش دیکھ کر،

کسی کا مال دیکھ کر،

کسی کی کامیابی دیکھ کر

اپنے حصے کی نعمتیں بھول جاتے ہیں۔

مگر رسول اللّٰه ﷺ ہمیں ایک بالکل مختلف پیمانہ سکھاتے ہیں:

اصل کامیابی یہ نہیں کہ دنیا میں تمہارے پاس کتنا ہے؛

اصل کامیابی یہ ہے کہ آخرت میں تمہارے پاس کیا ہوگا۔

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آلِ محمد ﷺ پر کبھی ایک مہینہ، پھر دوسرا مہینہ گزر جاتا، مگر ان کے گھروں میں کھانا پکانے کے لیے آگ نہ جلتی۔ ان کا گزارا کھجور اور پانی پر ہوتا، اور کبھی انصار کے پڑوسی دودھ بھیج دیتے۔

سوچیے!

رسول اللّٰه ﷺ کے گھر میں کبھی کھانے کی کمی تھی،

مگر اللّٰه کے ہاں مقام میں کوئی کمی نہ تھی۔

دنیا میں چٹائی کے نشان تھے،

مگر آسمانوں میں عزت تھی۔

دنیا میں سادگی تھی،

مگر آخرت کے لیے وہ مقام تھا

جس کی کوئی مثال نہیں۔

تو اے میرے دوست!

اگر آج تمہارے گھر میں وہ آسائش نہیں جس کی تم خواہش کرتے ہو،

اگر تمہاری جیب خالی ہے،

اگر تم کسی بیماری سے گزر رہے ہو،

اگر تمہاری کوئی دعا ابھی تک پوری نہیں ہوئی،

اگر تمہیں کسی رشتے، کسی موقع، کسی نعمت یا کسی کامیابی سے محروم کر دیا گیا ہے—

تو ذرا رک جاؤ۔

اپنی محرومی کو اپنی بے قدری مت سمجھو۔

ہو سکتا ہے جس چیز کو تم نقصان سمجھ رہے ہو، اللّٰه نے اسے تمہارے لیے آخرت کا ذخیرہ بنا دیا ہو۔

یوسفؑ کو دیکھو…

بھائیوں کے حسد نے کنویں تک پہنچایا،

پھر غلام بنا کر بیچ دیے گئے،

پھر ایک فتنہ سے بچنے کے نتیجے میں قید خانے پہنچے۔

مگر کیا ان آزمائشوں نے انہیں اللّٰه کے ہاں کمتر کر دیا؟

نہیں!

وہی یوسفؑ بعد میں مصر کے اقتدار تک پہنچے، مگر اصل کامیابی اقتدار نہیں تھی؛ اصل کامیابی یہ تھی کہ آزمائشوں کے باوجود اللّٰه سے تعلق نہیں ٹوٹا۔

اس لیے اگر تمہاری زندگی میں بھی کوئی کنواں ہے، کوئی قید خانہ ہے، کوئی انتظار ہے، کوئی ایسا دکھ ہے جس کا سبب تم نہیں سمجھ پا رہے—

ثابت قدم رہو۔

تم ابھی پوری کہانی نہیں دیکھ رہے۔

اللّٰه دیکھ رہا ہے۔

اور کبھی کبھی اللّٰه بندے کو دنیا کی ایک چیز سے محروم کرکے آخرت میں ایسی چیز عطا کرتا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔

اللّٰه تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ

"اور آخرت بہتر بھی ہے اور باقی رہنے والی بھی۔"

سورۃ الأعلى: 17

تو پھر کیوں ہم چند دن کی دنیا کے لیے اپنا سکون برباد کریں؟

کیوں دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنے رب سے شکوہ کریں؟

کیوں اپنی آزمائش کو اللّٰه کی ناراضی سمجھیں؟

دنیا تو گزرنے والی ہے۔

یہاں کی خوشی بھی گزر جائے گی،

یہاں کا غم بھی گزر جائے گا،

یہاں کی تنگی بھی ختم ہو جائے گی،

یہاں کی آسائش بھی پیچھے رہ جائے گی۔

باقی کیا رہے گا؟

ہمارے اعمال۔

ہمارا ایمان۔

ہمارا صبر۔

ہماری نمازیں۔

ہماری دعائیں۔

اور ہمارا رب۔

لہٰذا جب دنیا تم پر تنگ ہو جائے تو اپنے دل سے کہنا:

میں اس دنیا کا مستقل رہنے والا نہیں۔

مجھے یہاں ہر خواہش پوری ہونے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔

مجھے آزمایا جا رہا ہے۔

اور اگر میں اپنے رب کو راضی کرکے یہاں سے چلا گیا تو میری اصل کامیابی وہیں سے شروع ہوگی۔

دنیا اگر مجھے کم مل گئی تو کیا ہوا؟

میرا رب مجھے آخرت میں زیادہ عطا کر سکتا ہے۔

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔

اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔

یا اللّٰه!

ہماری دنیا کی تنگیوں کو ہماری آخرت کی آسانیوں کا سبب بنا دے۔

ہماری محرومیوں کو اجر میں بدل دے،

ہماری آزمائشوں کو گناہوں کا کفارہ بنا دے،

ہماری دعاؤں کو قبول فرما،

اور جب ہم تیرے پاس لوٹیں

تو ہم سے راضی ہو۔

یا اللّٰه! ہمیں ایسی دنیا نہ دے جس کے بدلے ہم آخرت کھو بیٹھیں، بلکہ ہمیں اتنا دے جو ہمیں تیری اطاعت کے قریب کر دے، اور آخرت میں وہ عطا فرما جس کے بعد کسی چیز کی

خواہش باقی نہ رہے۔

آمین یارب "🌸

یاد رکھیں:

دنیا چند روزہ ہے…

آزمائش چند روزہ ہے…

مگر آخرت ہمیشہ کی ہے۔

تو صبر کرو۔

نماز تھامے رکھو۔

اللّٰه سے امید نہ چھوڑو۔

کیونکہ اگر دنیا ہمارے لیے

کم بھی ہو گئی…

تو ہمارے لیے آخرت ہے۔

صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم ﷺ

صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم ﷺ

صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم ﷺ


No comments: