Sunday, August 2, 2026

دارِ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا اور معراجِ مبارک

 حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا جن کا اصل نام فاختہ بنت ابی طالب اور بعض روایات میں ہند بنت ابی طالب بیان کیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ کی چچا زاد بہن اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حقیقی بہن تھیں شب معراج رسول اللہ ﷺ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے جہاں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کو مسجد حرام لے گئے اور وہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو مسجد اقصیٰ بیت المقدس ساتوں آسمانوں سدرۃ المنتہیٰ اور اپنی عظیم نشانیوں کی سیر کرائی پھر اسی رات مکہ مکرمہ واپس تشریف لے آئے یہ سفر جسم اور روح دونوں کے ساتھ بیداری کی حالت میں ہوا اور قرآن کریم احادیث متواترہ اور جمہور امت کا یہی عقیدہ ہے یہ انسانی تاریخ کا عظیم ترین اور بے مثال معجزہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو اپنا خصوصی مہمان بنایا فتح مکہ کے دن بھی رسول اللہ ﷺ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے غسل فرمایا آٹھ رکعت نماز ادا فرمائی اور جب حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ میں نے چند مشرکین کو پناہ دی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی

اس سفر کا پہلا مرحلہ اسراء کہلاتا ہے جس کے معنی رات کے وقت لے جانے کے ہیں یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر جبکہ معراج عروج سے ماخوذ ہے جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں یعنی بیت المقدس سے آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ تک کا مبارک سفر اس سفر کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں دکھانا اور اپنے محبوب ﷺ کو وہ بلند ترین مقام عطا کرنا تھا جو نہ کسی انسان کو ملا اور نہ کسی مقرب فرشتے کو اسی مبارک رات نماز کا عظیم تحفہ بھی عطا کیا گیا

واقعۂ معراج کی تاریخ کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال منقول ہیں بعض علماء نے اسے 27 رجب قرار دیا ہے اور علامہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ نے مہر نبوت میں لکھا ہے کہ نبوت کے 12ویں سال 27 رجب کو تقریباً 51 سال 5 ماہ کی عمر میں یہ واقعہ پیش آیا تاہم دیگر محدثین نے 17 ربیع الاول ربیع الآخر رمضان شوال اور ذوالقعدہ کے اقوال بھی نقل کیے ہیں اس لیے جمہور اہل علم کے نزدیک کسی ایک تاریخ کا قطعی ثبوت موجود نہیں

صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کو اپنے سفر معراج سے آگاہ فرمایا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس واقعہ کا لوگوں سے ذکر نہ فرمائیے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ کا مذاق اڑائیں گے لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچانا میرا فرض ہے پھر آپ ﷺ مسجد حرام تشریف لے گئے اور قریش کو پورا واقعہ سنایا تو اکثر لوگوں نے انکار کیا اور تمسخر اڑایا

مشرکین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا کہ تمہارے ساتھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی رات میں بیت المقدس اور آسمانوں کی سیر کر کے واپس آگئے ہیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے میں تو اس سے بھی بڑھ کر آسمان سے نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کرتا ہوں اسی غیر متزلزل ایمان اور فوری تصدیق کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے آپ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا

البدایہ والنہایہ از حافظ ابن کثیر جلد 3 صفحہ 125–135

المستدرک علی الصحیحین للإمام الحاکم حدیث 4407

السیرة النبویة لابن ہشام جلد 2 صفحہ 199

مہر نبوت از قاضی محمد سلیمان منصور پوری

دارِ ام ہانی رضی اللہ عنہا کی موجودہ نشاندہی



اگر کوئی زائر دارِ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مقام کی زیارت کرنا چاہے تو مسجد الحرام میں باب ملک عبدالعزیز سے داخل ہو اور صحنِ مطاف کی طرف آئے مطاف سے پہلے واقع برآمدے میں پہنچ کر بائیں جانب مڑ جائے تقریباً چار ستون آگے رکن یمانی کے عین سا منے وہ مقام آتا ہے جسے اہلِ سیر نے دارِ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے منسوب کیا ہے اس جگہ کی نشاندہی کے لیے سعودی حکومت نے وہاں موجود دو ستونوں کو دیگر ستونوں سے مختلف رنگ میں رکھا ہے جس سے اس تاریخی مقام کی پہچان ہوتی ہے موجودہ انتظام کے مطابق اس حصے کا زیادہ تر حصہ عموماً خواتین کے لیے مخصوص رہتا ہے، اس لیے زیارت کے وقت مسجد الحرام کے انتظامی قواعد کا لحاظ رکھنا چاہیے۔


No comments: