حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں ایک شاعر اور اپنی قوم کا سردار تھا۔ ایک مرتبہ میں مکہ مکرمہ آیا۔ وہاں قریش کے چند سردار میرے پاس آئے اور کہنے لگے:
"آپ شاعر بھی ہیں اور اپنی قوم کے سردار بھی۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں آپ اس شخص (محمد ﷺ) سے نہ مل بیٹھیں اور وہ اپنی باتوں کے ذریعے آپ کو متاثر نہ کر دے۔ اس کی باتیں جادو جیسی ہیں۔
آپ اس سے بچ کر رہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کے درمیان بھی وہی تفریق پیدا کر دے جو ہمارے درمیان پیدا کر چکا ہے۔ اس نے آدمی اور اس کے بھائی، آدمی اور اس کی بیوی، اور آدمی اور اس کے بیٹے کے درمیان جدائی ڈال دی ہے۔"اللہ کی قسم! وہ مسلسل مجھے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بتاتے رہے اور مجھے آپ کی بات سننے سے روکتے رہے، یہاں تک کہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ مسجد میں جاؤں گا تو اپنے کان بند کرکے جاؤں گا۔
چنانچہ میں نے اپنے کانوں میں روئی بھر لی اور مسجد کی طرف چل پڑا۔ وہاں رسول اللہ ﷺ مسجد میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ کے قریب کھڑا ہوگیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ میں آپ کی کچھ بات سنوں۔
میں نے دل میں کہا:
"اللہ کی قسم! یہ تو میری کمزوری ہے۔ میں ایک سمجھ دار اور صاحبِ عقل آدمی ہوں، مجھے اچھے اور برے کی پہچان ہے۔ اللہ کی قسم! میں ان کی بات ضرور سنوں گا۔ اگر ان کی بات درست اور ہدایت والی ہوئی تو اسے قبول کروں گا، اور اگر غلط ہوئی تو اس سے دور رہوں گا۔"
چنانچہ میں نے کانوں سے روئی نکال دی۔ میں نے آپ ﷺ کی گفتگو سنی تو ایسی خوبصورت بات کبھی نہیں سنی تھی۔
میں نے بے اختیار کہا:
"سبحان اللہ! آج سے پہلے میں نے کبھی کسی کی زبان سے اتنے خوبصورت اور پاکیزہ الفاظ نہیں سنے!"
جب رسول اللہ ﷺ وہاں سے فارغ ہوئے تو میں آپ کے پیچھے چل پڑا۔ آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے تو میں بھی آپ کے پاس گیا اور عرض کیا:
"اے محمد! آپ کی قوم کے لوگ میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے آپ کے بارے میں یہ یہ باتیں بتائیں۔"
پھر میں نے انہیں ان کی تمام باتیں بتائیں اور کہا:
"لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ میں آپ کی بات سن ہی لوں۔ اب میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ آپ حق پر ہیں۔ لہٰذا اپنا دین میرے سامنے پیش کیجیے۔"
رسول اللہ ﷺ نے میرے سامنے اسلام پیش فرمایا۔ چنانچہ میں مسلمان ہوگیا۔
پھر میں نے عرض کیا:
"میں اپنی قوم دوس کی طرف واپس جاؤں گا۔ میں ان کے درمیان بااثر اور مطاع شخص ہوں۔ میں انہیں اسلام کی دعوت دوں گا، شاید اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے دے۔ آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔"
رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی:
"اے اللہ! اس کے لیے ایسی نشانی مقرر فرما جو اس کی مدد کرے۔"
چنانچہ میں وہاں سے روانہ ہوگیا۔ جب میں اپنی قوم کی پہاڑی کے قریب پہنچا تو میرے والد، جو بہت بوڑھے تھے، میری آمد کے منتظر تھے، اور میری بیوی اور میرا بیٹا بھی وہاں تھے۔
جب میں پہاڑی کی بلندی پر پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے میری دونوں آنکھوں کے درمیان ایک ایسا نور پیدا کردیا جو رات کی تاریکی میں ایک چمکتے ہوئے ستارے کی مانند نظر آتا تھا۔
میں پہاڑی سے نیچے اترنے لگا تو میں نے دعا کی:
"اے اللہ! یہ نور میرے چہرے کے علاوہ کسی اور جگہ منتقل فرما، مجھے اندیشہ ہے کہ میری قوم اسے اپنے دین سے جدائی کی علامت سمجھ کر بدگمان ہوجائے گی۔"
چنانچہ وہ نور میرے چہرے سے منتقل ہوکر میرے کوڑے کے سرے پر آگیا۔
میں نے دیکھا کہ میں اپنی اونٹنی پر سوار اپنی قوم کی طرف جا رہا ہوں اور میرے کوڑے کے سرے پر وہ نور ایسے روشن تھا جیسے کوئی لٹکتا ہوا چراغ ہو۔
جب میرے والد میرے پاس آئے تو میں نے ان سے کہا:
"مجھ سے دور رہو! اب نہ میں تمہارے دین پر ہوں اور نہ تم میرے دین پر ہو۔"
انہوں نے حیرت سے پوچھا:
"ایسا کیوں؟"
میں نے کہا:
"میں مسلمان ہوگیا ہوں اور محمد ﷺ کے دین کی پیروی اختیار کرلی ہے۔"
میرے والد نے کہا:
"بیٹا! تمہارا دین ہی میرا دین ہے۔"
چنانچہ وہ بھی مسلمان ہوگئے۔ پھر میری والدہ بھی مسلمان ہوگئیں۔
اس کے بعد میں نے اپنی قوم دوس کو اسلام کی دعوت دی، لیکن انہوں نے میری دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا اور سخت مزاحمت کی۔
پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
"اے اللہ کے رسول! میری قوم میں زنا اور سود عام ہوگیا ہے، آپ ان کے خلاف بددعا فرمائیں۔"
لیکن رسول اللہ ﷺ نے بددعا کرنے کے بجائے فرمایا:
"اے اللہ! دوس کو ہدایت عطا فرما۔"
پھر میں اپنی قوم کے پاس واپس چلا گیا۔ اسی دوران رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ میں اپنی قوم کے درمیان ہی رہا اور انہیں اسلام کی دعوت دیتا رہا، یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔
اس دوران غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد اور غزوۂ خندق بھی گزر گئے۔
پھر میں دوس کے اسی یا نوے گھرانوں کے افراد کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں فتح مکہ تک رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا۔
فتح مکہ کے بعد میں نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! مجھے عمرو بن حممہ کے بت ذوالکفین کے پاس بھیج دیجیے تاکہ میں اسے جلا دوں۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"ٹھیک ہے، جاؤ اور اسے جلا دو۔"
حضرت طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں اس بت کے پاس گیا اور اسے آگ لگا دی۔
اس کے بعد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کا وصال ہوگیا۔
پھر میں اپنے بیٹے عمرو کے ساتھ مسیلمہ کذاب کے خلاف لشکر میں شریک ہوا۔
حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ جنگِ یمامہ میں شہید ہوگئے، جبکہ ان کے بیٹے عمرو رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے۔ پھر وہ جنگِ یرموک میں شہید ہوئے۔
No comments:
Post a Comment