ہم سمھتے ہیں کہ مدد کمزوری کی نشانی ہے. اس لیے آخری وقت تک خود لڑتے رہتے ہیں. لیکن اللہ چاہتا ہے کہ آپ پہلے اپنی "میں" کو ختم کریں. اپنا غرور، اپنی تدبیر، اپنا "میں کر لوں گا" والا زعم. کیونکہ جب تک آپ کے پاس دوسرا سہارا موجود ہے، آپ کا بھروسہ مکمل اللہ پر نہیں ہوتا.
موسی علیہ السلام کے سامنے سمندر تھا، پیچھے لشکر. موسی علیہ السلام کی قوم کی ساری کوششیں ختم. تب آواز آئی: "ہرگز نہیں، میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور راستہ دے گا ". اور سمندر میں راستہ بن گیا.اللہ کو پتہ ہے آپ کیا چاہتے ہیں. وہ سن بھی رہا ہے. اور دیکھ بھی رہا ہے. پھر دیر کیوں؟ کیونکہ وہ آپ کو اس نعمت کے قابل بنا رہا ہے. کیونکہ وہ آپ سے سجدے کروانا چاہتا ہے جو سکون میں کبھی نہ کرتے. کیونکہ وہ چاہتا ہے جب مدد آئے تو آپ کو یقین ہو جائے. کہ یہ فلاں شخص کی وجہ سے نہیں، یہ اللہ کی طرف سے تھی. تاکہ کریڈٹ کسی انسان کو نہ جانے. تاکہ آپ کا یقین پختہ ہو جائے. کبھی وہ مدد پیسے کی شکل میں نہیں آتی. وہ صبر کی شکل میں آتی ہے. کبھی وہ مسئلہ حل نہیں کرتی، وہ آپ کے اندر حوصلہ ڈال دیتی ہے. کبھی وہ ایک اجنبی کے ذریعے آتی ہے جسے آپ جانتے تک نہیں. کبھی وہ ایک آیات میں آتی ہے جو ٹھیک اسی وقت سامنے آ جاتی ہے. کبھی وہ "نہ" میں آتی ہے........... کیونکہ "ہاں" آپ کے لیے بہتر نہیں تھا. اللہ کی مدد شور نہیں مچاتی. وہ خاموشی سے آتی ہے اور ساری گتھیاں سلجھا دیتی ہے.
حساب چھوڑ دیں کہ "اتنے دن ہو گئے". موازنہ چھوڑ دیں کہ "اس کی تو فوراً ہو گئی". یاد رکھیں: نوح علیہ السلام کی کشتی نو سو پچاس سال بعد بنی. یوسف علیہ السلام جیل سے بارہ سال بعد نکلے. ایوب علیہ السلام اٹھارہ سال بیمار رہے. اور ہر ایک کی مدد ٹھیک وقت پر آئی. آپ کی بھی آئے گی. ان شاءاللہ
جب آپ کے پاس کوئی راستہ نہ بچے، جب دنیا کے سارے دروازے بند ہو جاہیں، جب آپ کہیں کہ "اب کچھ نہیں ہو سکتا".......... تو سمجھ جاہیں. کہ اب اللہ کی باری ہے. کیونکہ اللہ کی مدد اسوقت آتی ہے. جب انسان کی اپنی تمام کوششیں ختم ہو جاتی ہیں. تاکہ آپ کو پتہ چل جائے کہ اصل طاقت کس کے ہاتھ میں ہے. اللہ آپ کی ہر بےبسی کو اپنی قدرت سے بدل دے. آمین.
No comments:
Post a Comment