ہر انسان کی اپنی ایک جنت ہوتی ہے جس میں جا کر وہ سکون کا سانس لیتا ہے، جس کے ذریعے وہ باقی لوگوں پر فخر کرتا ہے اور اسے اپنی محنت کا حاصل سمجھتا ہے۔ جہاں اسے بادشاہ والی فیلنگ آتی ہے اور اپنے آپ کو اس جگہ کا مالک سمجھتا ہے۔
کسان کی جنت اس کے کھیت ہوتے ہیں
جہاں وہ صبح شام گزارتا ہے، لہلہاتی فصل کو دیکھ کر مسکراتا ہے اور پودوں کے قریب جا کر آنکھ بند کرکے ان کی خوشبو سونگھتا ہے۔تاجر کی جنت اس کی دکان ہے جس کا شٹر اوپر کرتے وقت اسے لگتا ہے میں اپنی چھوٹی سی سلطنت میں داخل ہو رہا ہوں۔ پانی چھڑک کر جھاڑو دیتا ہے ، اخبار ہاتھ میں لے کر ، کرسی دکان کی سامنے لگا کر چائے پیتے ہوئے اخبار کا مطالعہ پر سکون ماحول میں کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ میری جنت ہے۔
مہتمم کی جنت اس کا مدرسہ ہوتا ہے جہاں صبح کے وقت طلبہ کے پڑھنے کی آوازیں اس کے کانوں میں رس گھولتی ہیں اور وہ گوارا نہیں کرتا کہ کوئی میلی آنکھ اٹھا کر اس کی جنت کی طرف غلط ارادے سے دیکھے، اسے ہر وقت اپنی جنت مزید بہتر بنانے کی فکر رہتی ہے ، اسی فکر کی وجہ سے اسے مہتمم کہا جاتا ہے۔
سکول ، کالج اور یونیورسٹی کے مالکان کےلیے ان کے عصری ادارے جنت ہوتے ہیں جن کو آباد رکھنے کےلیے وہ دن رات ایک کر کے محنت کرتے ہیں۔
میں نے ایک امیر شخص سے ویڈیو میں سنا کہ وہ اپنے گھر کے بارے میں کہہ رہا تھا یہ میری جنت ہے کیونکہ اس میں میری ضرورت و حاجت اور خواہش کی ہر چیز موجود ہے اور یہ سب کچھ میں نے خود بنایا ہے۔ میں کبھی غریب نہیں ہوں گا کیونکہ میرے پاس پوری زندگی کا پیسہ جمع ہو چکا ہے۔
اگر آپ سوچیں تو ضرور آپ کی کوئی نہ کوئی جنت ہوگی چاہے چھوٹی سی نہ ہو۔
اولاد ، مال و دولت، رشتے، دوست، ادارے، کپڑے، جیولری ، کتابیں یا کچھ اور ، جہاں جا کر یا جس کو پاکر آپ پُر سکون ہو جاتے ہیں، جو آپ کی پہچان ہے، جس کو بہتر بنانے کےلیے آپ تگ و دو کرتے ہیں، جس کو آپ زیادہ وقت دیتے ہیں، جس کے نقصان کا سن کر آپ کا سانس رک جاتا ہے، بس یہی چیز آپ کی جنت ہے۔
میری بھی کچھ چھوٹی چھوٹی جنتیں ہیں جن میں داخل ہوتے وقت یا جن سے ملتے وقت ہمیشہ ایک آیت سامنے آ جاتی ہے اور وہ مجھے اپنی ظاہری جنت سے باطنی جنت، عارضی جنت سے ابدی جنت کی طرف پھیر دیتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے:
وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖۚ-قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًا(35)
اور وہ اپنی جنت میں اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے داخل ہوا اور کہنے لگا: میں نہیں سمجھتا کہ میری یہ جنت کبھی بھی تباہ ہوگی۔ (سورت کہف)
یہ آیت اپنے ساتھ ظلم کرنے والے بنو اسرائیل کے ایک شخص کے بارے میں ہے جس کو اپنی مادی جنت ہی سب کچھ نظر آتی تھی، اسی کی بناوٹ، بڑھوتری، زیبائش و آرائش اور چمک دمک کےلیے محنت کرتا تھا لیکن اپنے نفس کی جنت کو ویران چھوڑ رکھا تھا۔
اللہ تعالی نے اسے ظالم کہا کیونکہ اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی جنت ،کوٹھی بنگلوں اور باغات میں اس قدر کھو جائے کہ صرف آنکھ سے نظر والی دنیا ہی کو رنگین بنانے کی فکر کرتا رہ جائے۔ جب کہ دوسری طرف اس کا باطن بے آباد اور بوسیدہ پڑا ہو۔ اس نے کبھی سوچا ہی نہ ہو کہ اگر دنیاوی جنت کےلیے میں اتنی دوڑ دھوپ کر رہا ہوں تو اخروی جنت کےلیے کیوں نہیں؟
یہ آیت ہمیں اپنی جنت میں داخل ہونے سے پہلے نفس کی طرف متوجہ ہونے کی فکر دیتی ہے اور جو اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوگیا ، اس نے اپنی، اپنی جنت کی اور روز جزا کی حقیقت پالی پھر اس کی زبان سے یہی الفاظ نکلتے ہیں جو اس ظالم شخص کے ایک مومن دوست کی زبان سے نکلے:
مَا شَآءَ اللّٰهُۙ-لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِۚ
جو اللہ چاہتا ہے، وہی ہوتا ہے، اللہ کی توفیق کے بغیر کسی میں کوئی طاقت نہیں۔ (سورت کہف: 39)
اور جس نے اپنے نفس کو نہ سنوارا ، صرف اپنی جنت کو سنوارنے کی فکر کرتا رہا، اُس کا انجام ملاحظہ فرمائیں:
وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا
اور (پھر ہوا یہ کہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے شخص) کی ساری دولت عذاب کے گھیرے میں آگئی اور صبح ہوئی تو اس حالت میں ہوئی کہ اس نے اپنی جنت پر جو کچھ خرچ کیا تھا، وہ اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا۔ (سورت کہف: 42)
یہ آیت جنت بنانے یا اس کو سنوارنے سے منع نہیں کرتی بلکہ خدا اور نفس کو بھول کر صرف مادی جنت بنانے کی فکر سے منع کرتی ہے۔
جس کو یہ حقیقت سمجھ آگئی،
اس کے ہونٹ پیاسے نہیں رہتے،
پیٹ خالی نہیں رہتا،
نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔
جس کو سمجھ نہ آئی،
وہ مادیت کی ہر گھاٹ سے پانی پینے کے بعد بھی پیاسا ہی رہے گا اور دنیا وآخرت میں کفِ افسوس ملتا رہ جائے گا۔
No comments:
Post a Comment