Friday, August 21, 2026

اللہ سے بندے کا تعلق

 جب "الف" سیدھا کھڑا ہوتا ہے تو وہ جھکتا نہیں، ٹیڑھا نہیں ہوتا. بلکل ایسے ہی جیسے بندے کا تعلق اللہ سے سیدھا ہو جائے، نہ دکھاوا، نہ ریا، نہ دنیا کی ملاوٹ.... صرف "تو اور میں" والا معاملہ ہو جائے، تو اللہ بہت قریب ہو جاتا ہے. اتنا قریب کہ "شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ". جیسے ہی "الف" ٹیڑھا ہوتا ہے، لکیر ٹوٹ جاتی ہے

. گناہ، غفلت، شک، دنیا کی محبت.... یہ سب "الف" کو ٹیڑھا کر دیتے ہیں. پھر دعا میں بھی دوری لگتی ہے، سجدے میں بھی بےچینی ہوتی ہے. کیونکہ تعلق کی سیدھی لکیر میں خم آ گیا. اللہ کے ننانوے ناموں میں سب سے پہلا حروف "الف" ہے." 

احد"، 

"اول"، 

"اخر"،

"علیم" گویا اللہ ہمیں بتا رہا ہے رشتے کی بنیاد ہی "الف" ہے. سیدھا رہو، سچے ریو، میری طرف متوجہ رہو. جب ہم سجدے میں جاتے ہیں تو سب سے اونچا "الف" یعنی ہمارا سر، سب سے نیچی جگہ پر رکھ دیتے ہیں. انا ٹوٹتی ہے، غرور گرتا ہے، "الف" پھر سے سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے. اور تبھی آواز آتی ہے: "سجدہ کرو اور قریب آ جا" اپنے "الف" کو سیدھا رکھو. دل صاف رکھو، نیت صاف رکھو، تعلق ایک طرف رکھو. پھر دیکھو اللہ کیسے قرب کی وہ لکیر کھینچ دیتا ہے جس کے ایک کنارے پر تم ہو دوسرے کنارے پر خود "اللہ".  "میں اپنے بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں"


No comments: