میری زندگی میں ایک وقت ایسا آیا جب میرے پاس اللہ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا
میں سمجھتا ہوں کہ کبھی کبھی اللہ ہمارا مسئلہ فوراً حل نہیں کرتا کیونکہ پہلے وہ انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ اس کا اصل سہارا کون ہے۔
اس رات شاید ایک بجنے والا تھ
ا۔میں کافی دیر سے موبائل ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا۔
کبھی ایک نمبر کھولتا، پھر بند کردیتا کبھی کسی پرانے پیغام پر واپس جاتا، کبھی کیلکولیٹر کھول کر کچھ حساب لگاتا اور چند لمحوں بعد اسے بھی بند کردیتا میری زندگی میں وہ عجیب رات تھی۔
مسئلہ میرے سامنے تھا، مگر اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ میرے ذہن میں آنے والا تقریباً ہر راستہ آزمایا جاچکا تھا۔
میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں مشکل آئے تو خاموش بیٹھنا آسان نہیں لگتا۔
فوراً سوچتا ہوں:
کیا کیا جاسکتا ہے؟
کس سے بات کی جاسکتی ہے؟
کون سا راستہ ابھی باقی ہے؟
شاید اسی عادت نے مجھے زندگی کے بہت سے مشکل وقتوں سے نکالا بھی ہے۔
مگر اس رات پہلی مرتبہ میری عقل کے پاس اگلا قدم نہیں تھا۔
میں نے موبائل میز پر رکھا اور دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرتے ہوئے خود سے کہا:
“عثمان… اب؟”
اسی لمحے مجھے اپنے اندر ایک عجیب سی حقیقت دکھائی دی۔
میں زبان سے تو برسوں سے کہتا آیا تھا کہ میرا بھروسا اللہ پر ہے، مگر مشکل آتے ہی سب سے پہلے میری نگاہ اپنی تدبیر پر جاتی تھی۔
پھر اپنے وسائل پر۔
پھر لوگوں پر۔
پھر تعلقات پر۔
پھر کسی ممکنہ راستے پر اور جب یہ سب ختم ہونے لگتے تھے تب میں اللہ کے سامنے بیٹھتا تھا۔
یہ خیال مجھے اندر تک چبھ گیا اور میں نے سوچا کہ
کیا اللہ میرے لیے واقعی پہلا سہارا ہے یا تمام سہارے ختم ہونے کے بعد آخری؟
میں اٹھا اور وضو کرنے چلا گیا۔
پانی چہرے پر پڑ رہا تھا اور ذہن میں یہی سوال چل رہا تھا۔
نماز شروع کی تو سچ یہ ہے کہ کوئی غیر معمولی روحانی کیفیت نہیں تھی۔
دل منتشر تھا۔
ایک آیت پڑھتا تو مسئلہ یاد آجاتا۔
دوسری رکعت میں مستقبل کا خوف سامنے آکھڑا ہوتا۔
پھر سجدہ آیا۔
میں جھکا اور پیشانی زمین پر رکھ دی۔
چند لمحوں بعد اٹھنا تھا مگر میں نہیں اٹھا۔
اس رات میرے پاس اللہ سے کہنے کے لیے بہت کچھ تھا، مگر عجیب بات یہ ہے کہ کوئی خوبصورت جملہ زبان تک نہیں آیا۔
بس بے اختیار نکلا:
“یا اللہ… مجھ سے اب نہیں ہو رہا۔”
یہ کہتے ہی آنکھیں بند ہوگئیں اور وہیں مجھے پہلی مرتبہ اپنی بے بسی بری نہیں لگی کیونکہ شاید زندگی میں پہلی مرتبہ میں اللہ کے سامنے وہ عثمان بن کر نہیں آیا تھا جو ہر مسئلے کا حل ڈھونڈتا ہے۔
نہ وہ جو دوسروں کو حوصلہ دیتا ہے۔
نہ وہ جو حالات سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔
میں صرف ایک عام بندہ تھا اپنے رب کے سامنے جو خالی دام لیے اللہ کی بارگاہ میں حاضر تھا۔
اور مجھے آج بھی لگتا ہے کہ بندگی کا ایک بہت خوبصورت مقام وہ ہے جہاں انسان اللہ کو اپنی قابلیت دکھانے نہیں آتا بلکہ اپنی محتاجی ماننے آتا ہے۔
قرآن پاک کا ایک جملہ اس کیفیت کو کس قدر خوبصورتی سے بیان کرتا ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
“اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ ہی بے نیاز، ہر تعریف کے لائق ہے۔”
(سورۃ فاطر: 15)
اس رات میرے حالات فوراً نہیں بدلے۔
صبح وہ مسئلہ اپنی جگہ موجود تھا مگر میرے اور اللہ کے تعلق میں ایک چیز بدل چکی تھی۔
میں اس سے پہلے اللہ سے زیادہ تر یہ مانگ رہا تھا:
“یا اللہ، یہ مسئلہ حل کردے۔”
اس رات پہلی مرتبہ دل نے کچھ اور مانگا:
“یا اللہ، مسئلہ جیسے بھی حل ہو… مجھے اپنے سے دور مت ہونے دینا۔”
اور میرے نزدیک یہی وہ مقام ہے جہاں دعا صرف ضرورت نہیں رہتی، تعلق بننا شروع ہوجاتی ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ اللہ کو مانتے ہیں، اس سے دعا بھی کرتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں مگر زندگی کا اصل وزن پھر بھی اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔
ہمیں لگتا ہے اگر ہم نے چھوڑ دیا تو سب بکھر جائے گا۔
حالانکہ بعض اوقات اللہ ہماری زندگی میں ایسی بے بسی آنے دیتا ہے جہاں ہماری تدبیریں جواب دے دیتی ہیں، تاکہ ہمیں اپنی کمزوری نہیں بلکہ اپنے رب کی ضرورت سمجھ آئے۔
شاید اسی لیے قرآن پاک میں اللہ نے فرمایا ہے:
أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ
“کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟”
(سورۃ الزمر: 36)
یہ آیت پڑھنا آسان ہے۔
مگر انسان کی زندگی میں ایک رات ایسی آتی ہے جب زندگی خود آپ سے اس کا جواب مانگتی ہے:
اگر لوگ ساتھ نہ دیں سکیں تو کیا اللہ کافی ہے؟
اگر آپ کی تدبیر ناکام ہوگئی تو کیا اللہ کافی ہے؟
اگر دعا کا جواب آپ کی مرضی کے مطابق نہ آیا تو بھی کیا اللہ کافی ہے؟
میرے لیے اصل امتحان شاید یہی تھا اور اسی لیے آج میں بے بسی کو ہمیشہ بددعا نہیں سمجھتا۔
کچھ بے بسیاں انسان کو توڑنے نہیں آتیں۔
وہ اس کے ہاتھوں سے وہ سہارے چھڑانے آتی ہیں جنہیں پکڑے پکڑے وہ اصل سہارا بھول گیا تھا۔
میں نے اس رات ایک بات سیکھی جسے شاید پوری زندگی یاد رکھوں گا:
سجدہ صرف وہ جگہ نہیں جہاں آپ اللہ سے اپنی تقدیر بدلنے کی درخواست کرتے ہیں بلکہ سجدہ وہ جگہ بھی ہے جہاں آپ آہستہ آہستہ یہ ماننا سیکھتے ہیں کہ:
“یا اللہ، میں تیرا بندہ ہوں اور میری زندگی کا خدا میں نہیں، تُو ہے۔”
پھر انسان سجدے سے اٹھتا ہے تو ضروری نہیں اس کا مسئلہ ختم ہوچکا ہو لیکن ایک بہت بڑی غلط فہمی ختم ہوچکی ہوتی ہے کہ اسے سب کچھ اکیلے سنبھالنا ہے۔
اس لیے آج اگر آپ بھی کسی ایسی جگہ کھڑے ہیں جہاں ہر دروازہ آزما چکے ہیں، عقل تھک چکی ہے اور سمجھ نہیں آرہا کہ اب کیا کریں تو شاید آپ صرف بے بس نہیں ہوئے۔
شاید زندگی آپ کو ایک ایسے دروازے تک لے آئی ہے جسے آپ نے بہت عرصے سے صرف ضرورت کے وقت کھٹکھٹایا تھا۔
اس بار وہاں صرف مسئلہ لے کر مت جائیے بلکہ خود کو لے جائیے اور سجدے میں اپنے رب سے صرف یہ نہ کہیے:
“میری مشکل دور کردے۔”
کبھی یہ بھی کہہ کر دیکھیے:
“یا اللہ… اگر اس آزمائش نے مجھے تیرے دروازے تک پہنچا ہی دیا ہے تو مجھے مسئلہ حل ہونے کے بعد دوبارہ تجھ سے دور مت ہونے دینا۔”
کیونکہ بعض اوقات ہماری دعا قبول ہونے کا پہلا نشان حالات کا بدلنا نہیں ہوتا بلکہ اللہ سے ہمارا تعلق بدلنا ہوتا ہے۔
No comments:
Post a Comment