Friday, August 21, 2026

قرآن اور جدید سائنس

 ساڑھے چودہ سو سال پہلے، جب جدید سائنس کا کوئی وجود نہیں تھا اور عرب کے صحرا زادہ ماحول میں کوئی سکول یا کالج نہیں تھا—اس دورِ جہالت میں نبی کریم ﷺ نے قرآنِ پاک کی آیات کے ذریعے کائنات کی ایسی حقیقتیں بیان فرمائیں جنہیں آج کا جدید علم تسلیم کر رہا ہے۔

  1... اجرامِ فلکی کا ایک مقررہ حساب

«اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ» (سورۃ الرحمن: 05)

ترجمہ: ”سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں۔“

  2... سمندروں کے درمیان نادیدہ رکاوٹ

«بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِ» (سورۃ الرحمن: 20)

ترجمہ: ”ان کے درمیان ایک برزخ (حدِ فاصل) ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھتے۔“

  3... ستاروں اور سیاروں کی گردش

جب دنیا ستاروں کو محض لٹکے ہوئے چراغ سمجھتی تھی، تب قرآن نے اعلان فرمایا:

«وَ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ» (سورۃ یٰسین: 40)

ترجمہ: ”اور سب کے سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے (گردش کر رہے) ہیں۔“

   4.... سورج کی مسلسل حرکت

جب سورج کو ساکن تصور کیا جاتا تھا، تب قرآن نے یہ حقیقت واضح کی:

«وَ الشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا» (سورۃ یٰسین: 38)

ترجمہ: ”اور سورج اپنے مقرر کردہ راستے پر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔“

 5... کائنات کا مسلسل پھیلائو (Expanding Universe)

جب کائنات کو جامد اور آسمان کو محض ایک نیلی چھت کہا جاتا تھا، تب ربِ ذوالجلال نے فرمایا:

«وَ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» (سورۃ الذاریات: 47)

ترجمہ: ”اور ہم اس (کائنات) کو وسعت دیتے جا رہے ہیں۔“

 6... زندگی کا بنیادی عنصر: پانی

نباتات اور حیوانی زندگی کی اصل کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

«وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَاۤءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ» (سورۃ الانبیاء: 30)

ترجمہ: ”اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔“

سبحان الله! یہ حقائق اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ قرآنِ کریم کسی انسان کی تخلیق نہیں بلکہ اس ذاتِ باری تعالیٰ کا کلام ہے جو تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے۔


No comments: