وہ زبان جسے آج ہم قران سکھا رہے ہیں، دنیا میں ہمیشہ نہیں رہے گی۔
مگر اسی زبان سے پڑھا ہوا قرآن، اسی قرآن کے لیے کی گئی محنت، وہ بار بار دہرایا ہوا حرف، استاد کے سامنے کی گئی وہ چھوٹی سی تصحیح—
اللہ چاہے تو سب ہمارے نامۂ اعمال میں باقی رہ سکتا ہے
۔اس لیے تجوید کو صرف قواعد کی کتاب نہ بنائیں۔
اسے محبت کا ادب بنائیں۔
جب اللہ پڑھیں تو محسوس کریں کس کا نام لے رہی ہیں۔
جب الرَّحْمٰن پڑھیں تو اس کی رحمت یاد آئے۔
جب جنت کی آیت آئے تو دل مانگنے لگے۔
جب عذاب کی آیت آئے تو دل پناہ مانگے۔
کیونکہ کامل سفر صرف یہ نہیں کہ:
قرآن ہماری زبان پر صحیح ہوجائے۔
اصل دعا یہ بھی ہے کہ:
قرآن ہماری زندگی کو صحیح کردے۔
یا اللہ! ہمیں اہلِ قرآن میں شامل فرما، ہماری تلاوت کی غلطیوں کو درست فرما، نیتوں میں اخلاص عطا فرما اور قرآن کو ہمارے دلوں کا نور، زندگی کی ہدایت اور آخرت میں ہمارے حق میں حجت بنا۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤍
مستند حوالہ جات: قرآن: المزمل 73:4؛ طٰہٰ 20:114؛ آل عمران 3:8۔ صحیح البخاری 5027 میں قرآن سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت، اور صحیح مسلم 798 میں ماہر قاری اور مشقت سے پڑھنے والے کے اجر کا ذکر ہے۔
No comments:
Post a Comment