Tuesday, July 28, 2026

پہاڑوں کے راز

کیا آپ جانتے ہیں کہ پہاڑوں میں ایسے کیا راز چھپے ہیں، جن کی وجہ سے تقریباً ہر نبی نے تنہائی، عبادت اور اللہ سے راز و نیاز کے لیے پہاڑوں کا انتخاب کیا؟

پہاڑ صرف پتھروں کے ڈھیر نہیں ہوتے…🛘🪨🛘

وہ خاموش استاد ہوتے ہیں۔

وہ صدیوں سے کھڑے ہیں، مگر کبھی اپنی عظمت کا شور نہیں مچاتے۔

ان کی خاموشی میں ایک ایسی زبان پوشیدہ ہے جسے صرف وہی دل سن سکتا ہے جو دنیا کے شور سے نکل کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جائے۔

جب بھی کسی نبی کی زندگی میں کوئی عظیم موڑ آیا، اکثر اس کے پس منظر میں ایک پہاڑ موجود تھا۔

حضرت موسیٰؑ کو کوہِ طور پر اللہ سے ہم کلام ہونے کا شرف ملا۔

رسول اللہ ﷺ پر پہلی وحی غارِ حرا میں نازل ہوئی، جو جبلِ نور کی آغوش میں ہے۔

حضرت نوحؑ کے طوفان کے بعد کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔

اور حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کے ساتھ پہاڑوں کے درمیان اللہ کے حکم کی تعمیل کا ایسا منظر پیش کیا جو قیامت تک ایمان کی علامت بن گیا۔

یہ محض اتفاق نہیں…

یہ ایک الٰہی تربیتی نظام ہے۔

پہاڑ انسان کو دنیا کی ہنگامہ خیزی سے دور لے جاتے ہیں، جہاں نہ بازار کا شور ہوتا ہے، نہ لوگوں کی تعریف کی خواہش، نہ شہرت کی چکاچوند۔

وہاں صرف انسان ہوتا ہے…

اس کا دل ہوتا ہے…

اور اس کا رب۔

وہیں انسان پہلی مرتبہ اپنے دل کی آواز سنتا ہے۔

وہیں اسے اپنی کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔

وہیں اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس وجود پر وہ فخر کرتا تھا، وہ ان فلک بوس پہاڑوں کے سامنے کس قدر چھوٹا ہے۔

اور شاید یہی عاجزی، معرفتِ الٰہی کا پہلا دروازہ ہے۔

پہاڑ انسان کو یہ بھی سکھاتے ہیں کہ بلندی ہمیشہ خاموش ہوتی ہے۔

جتنی بلند چوٹی ہوتی ہے، اتنا ہی زیادہ سکون اور خاموشی ہوتی ہے۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں پہاڑوں کو اپنی قدرت، اپنی حکمت اور اپنے جلال کی نشانی قرار دیا۔

جب انسان پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہو کر آسمان کی وسعت کو دیکھتا ہے، تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی اصل حقیقت اس کے جسم میں نہیں، بلکہ اس روح میں ہے جسے اللہ نے اپنی طرف منسوب فرمایا۔

شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔

اور شاید اسی لیے انبیائے کرام علیہم السلام نے پہاڑوں کو اپنا رازدار بنایا۔

وہاں انہیں صرف تنہائی نہیں ملی…

وہاں انہیں معرفت ملی…

وحی ملی…

بصیرت ملی…

اور زندگی کے وہ راز کھلے جنہوں نے پوری انسانیت کی تقدیر بدل دی۔

کیا معلوم…

آپ بھی کبھی کسی پہاڑ کی خاموش چوٹی پر کھڑے ہو کر اپنے دل کی وہ آواز سن لیں، جو دنیا کے شور میں برسوں سے دب چکی ہو۔

کیونکہ بعض اوقات…

اللہ انسان سے سب سے گہری باتیں وہاں کرتا ہے، جہاں دنیا کی تمام آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں۔

No comments: