Thursday, July 30, 2026

دعا اورصبر

 ہم سب تھک جاتے ہیں. دعا کرتے ہیں، مانگتے ہیں، رات کو جائے نماز پر سر رکھ کر کہتے ہیں. "یااللہ بس اب اور نہیں" اور پھر صبح اٹھ کر وہی انتظار. دنیا کہتی ہے "موو آن کر لو" دل کہتا ہے "کیسے؟" دماغ حساب لگاتا ہے "کتنے دن اور؟" اور روح بس ایک بس ایک ہی بات دہراتی یے "صبر.... صبر...

" صبر آسان نہیں ہوتا. صبر وہ نہیں جو کتابوں میں لکھا ہے. صبر وہ ہے جب سب کچھ ٹوت رہا ہو اور تم پھر بھی کہو "َالحمد اللہ" کہو. صبر وہ ہے جب جواب نہ آ رہا ہو اور تم پھر بھی ہاتھ اٹھاؤ. صبر وہ ہے جب راستہ بند ہو اور تم پھر بھی پہلا قدم رکھو.

 ہم سمجھتے ہیں صبر رکتا ہے. نہیں. صبر مطلب گرتے ہوئے بھی چلتے رہنا ہے. روتے ہوئے بھی یقین رکھنا ہے. خالی ہاتھوں کے ساتھ بھی یہ ماننا ہے. کہ دینے والا خالی نہیں لوٹاتا.

پھر ایک دن... ایسا آتا ہے. جس دن تمہیں سمجھ آتی ہے کہ تاخیر سزا نہیں تھی. وہ تربیت تھی. خلا کی کمی تھی. وہ درد بےمقصد نہیں تھا. وہ تمہیں کسی بڑے معجزے کے لیے نرم کر رہا تھا. وہ معجزوں کا بادشاہ ہے. اس کے لیے ناممکن جیسا کوئی لفظ نہیں.

وہ بند دروازوں سے راستے نکال دیتا ہے. وہ مردہ دلوں میں امید ڈال دیتا ہے. وہ ایک لمحے میں سالوں کا انتظار ختم کر دیتا ہے. وہ اسی طرح نوازتا ہے کہ تم رو کر کہتے ہو. "یااللہ میں نے تو اتنا بھی نہیں مانگا تھا" یوسف علیہ السلام نے صبر کیا. کنویں سے محل تک کا سفر صبر کا تھا.. ایوب علیہ السلام نے صبر کیا. بیماری کے بعد صحت کا معجزہ صبر کا تھا. مریم علیہ السلام نے صبر کیا. تنہائی میں رزق کا معجزہ صبر کا تھا.

تاریخ گواہ ہے کہ اللہ نے صبر کرنے والوں کو ضائع نہیں کرتا. وہ سن رہا ہے. وہ دیکھ رہا ہے. وہ لکھ رہا ہے اور جب وقت آتا ہے. تو وہ ایسے دیتا ہے کہ پچھلا سارا انتظار سجدے میں بدل جاتا ہے  کیونکہ ہو سکتا ہے تمہارا معجزہ آگلے سجدے کے پیچھے کھڑا ہو. ہو سکتا ہے تمہاری دعا آسمان کے دروازے پر دستک دے رہی ہو. ہو سکتا ہے فرشتے کہہ ریے یوں "یااللہ یہ بندہ پہلے اب توٹ جائے گا،اسے دے دیں.. اور وہ رب کہے" نہیں ابھی نہیں... ابھی اس کا صبر مکمل نہیں ہوا. جب ہو جائے گا تو میں ایسا دوں گا کہ یہ خود بھی حیران ہو جائے گا"


No comments: