جمعہ کے دن دعائیں !
تمام علماء کا اجماع واتفاق ہے کہ جمعہ کے دن کثرت سے دعائیں کرنی چاہئیں۔ جیسا کہ حافظ نووی رحمہ اللّٰہ (٦٧٦هـ) فرماتے ہیں :
’’جمعہ کے دن بکثرت دعائیں کرنا بالاجماع مستحب ہے۔
“ (المجموع شرح المهذب - ط المنيرية : ٤/٥٤٨)
”بالخصوص جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد کثرت سے دعا
کرنی چاہیے،کیونکہ اس بارے میں سلفِ صالحین کے متعدد آثار موجود ہیں۔“
1.... سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا (١١هـ) کا معمول تھا
کہ جب جمعہ کا دن ہوتا تو وہ اپنے غلام کو بھیجتیں
کہ جا کر سورج کو دیکھے۔
جب وہ انہیں خبر دیتا کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہو گیا ہے، تو وہ دعا میں مشغول ہو جاتیں
، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا۔
(فتح الباري لابن حجر - ط السلفية : ٤٢١/٢)
2... مفضل بن فضالہ رحمہ اللّٰہ (١٨١هـ) جمعہ کے دن جب عصر کی نماز پڑھ لیتے
۔ تو مسجد کے ایک گوشے میں تنہائی اختیار کر لیتے
اور مسلسل دعا کرتے رہتے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا۔
۔
(أخبار القضاة : ٢٣٨/٣)
3.....سعید بن جبیر رحمہ اللّٰہ (٩٥هـ)
جب عصر کی نماز پڑھ لیتے تو کسی سے بات نہ کرتے،
یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا
(یعنی دعا میں مشغول رہتے تھے)۔
(الاستذكار لابن عبد البر : ٤٠/٢)
4....طاؤوس بن کیسان رحمہ اللہ (١٠٦هـ)
جب جمعہ کے دن عصر کی نماز پڑھ لیتے تو قبلہ رخ ہو کر بیٹھ جاتے اور کسی سے بات نہ کرتے،
یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا۔
(تاریخ واسط : ١٨٦/١)
ان کے بیٹے فرماتے ہیں :
”میرے والد جمعہ کے دن اس گھڑی کا خاص اہتمام کرتے تھے جس میں دعا قبول ہوتی ہے،
اور ان کی وفات بھی اسی گھڑی میں ہوئی جسے وہ پسند کرتے تھے؛ یعنی جمعہ کے دن عصر کےبعد۔
۔۔“ (مصنف عبدالرزاق - ت الأعظمي : ٢٦١/٣)
5.... امام ابن عساکر رحمہ اللہ (٥٧١هـ) نے ذکر کیا ہے:
”الصلت بن بسطام کی بینائی چلی گئی،
تو ان کے دوست احباب جمعہ کے دن عصر کے وقت ان کے لیے دعا کرنے بیٹھ گئے۔
غروبِ آفتاب سے کچھ پہلے انہیں ایک چھینک آئی، اور ان کی بینائی واپس لوٹ آئی۔“
(تاریخ دمشق لابن عساكر : ١٤٠/٦٤)
6....امام ابن ابی الدنیا رحمہ اللّٰہ (٢٨١هـ) بیان کرتے ہیں :
مجھے یزید بن ہارون رحمہ اللّٰہ سے بیان کیا گیا،
وہ فرماتے ہیں میں نے خواب میں محمد بن یزید واسطی رحمہ اللّٰہ کو دیکھا
تو پوچھا کہ اللّٰہ تعالی نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟
فرمانے لگے :
اُس نے مجھے معاف کر دیا۔
میں نے پوچھا :
کس عمل کی وجہ سے؟
فرمایا : ’’ابو عمرو کے ساتھ اُس مجلس کی وجہ سے کہ جمعہ کے دن عصر کے بعد وہ ہمارے پاس بیٹھے، انہوں نے دعا کی، ہم نے آمین کہی۔
اللہ تعالی نے اس پر ہماری بخشش فرما دی۔
‘‘ (المنامات، صـ ٣٣٧)
7.... امام ابن القیم رحمہ اللّٰہ (٧٥١هـ) فرماتے ہیں:
۔
”یہ عصر کے بعد کی آخری گھڑی ہے، جس کی تعظیم تمام اہلِ ملل کرتے ہیں۔
“ (زاد المعاد - ت الرسالة الثاني : ٣٨٤/١)
اللّٰہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہر مانگنے والے کو اس کی مراد عطا کریں، بشرطیکہ وہ اس کے لیے خیر اور عافیت کا باعث ہو۔ إنه سميع قريب مجيب الدعوات.
No comments:
Post a Comment