Thursday, July 31, 2008

راز کی بات

اس براعظم میں عالمگیری مسجد کے میناروں کے بعد جو پہلا اہم مینار مکمل ہوا، وہ مینارِپاکستان ہے۔ یوں‌تو مسجد اور مینار آمنے سامنے ہیں، لیکن انکے درمیان یہ ذرا سی مسافت تین صدیوں پر محیط ہے، جس میں سکھوں کا گردوارہ، ہندوؤں کا مندر اور فرنگیوں کا پڑاؤ شامل ہیں۔ میں‌مسجد کی سیڑھیوں‌پر بیٹھا ان تین گمشدہ صدیوں کا ماتم کر رہا تھا، کہ مسجد کے مینار نے جُھک کر میرے کان میں ایک راز کی بات کہ دی:

"جب مسجدیں‌ بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہو جائیں۔ جب حق کی جگہ حکائیت اور جہاد کی جگہ جمود لے لے۔ جب ملک کی بجائے مفاد اور ملت کی بجائے مصلحت عزیز ہو، اور جب مسلمانوں‌کو موت سے خوف آئے اور زندگی سے محبت ہو جائے، تو صدیاں یونہی گم ہو جایا کرتی ہیں"



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit: http://123iqra.com/
Read archives at:
http://groups.google.com/group/yoursks


صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Ahsas-e-Gunah



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit: http://123iqra.com
Read archives at:
http://groups.google.com/group/yoursks


صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Monday, July 28, 2008

Hamarae Halaat kyoon naheen badaltae



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit: http://123iqra.com
Read archives at:
http://groups.google.com/group/yoursks


صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Kyaa ham Allah ko Dhauka dae rahae haen



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit: http://123iqra.com
Read archives at:
http://groups.google.com/group/yoursks


صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Love of Hazrat Uthman Ghani (Radiallahu anhu)

Bismillaah-ir-Rahmaan-ir-Rahheem
A man approached the Holy Prophet (Peace be upon him and his family) for assistance so that he may be able to get his daughter married. Rasulallah (sallallahu alaihi wa sallam) sent him to Uthman (Radiallahu anhu). When he arrived at Hazrath Uthman's door he found him scolding his servant for putting extra salt in the food. He quickly left and went back to the Holy Prophet (sallallahu alaihi wa sallam) thinking that if the servant was being scolded for using extra salt, what would such a man give him. The Holy Prophet (sallallahu alaihi wa sallam) sent him back to Uthman (Radiallahu anhu). This time he found Uthman (Radiallahu anhu) scolding another servant for making the wick of the lamp too thick and hence oil was being wasted. Again the man left and went back to the Holy Prophet (sallallahu alaihi wa sallam). Rasulallah (sallallahu alaihi wa sallam) sent him back and he found Uthman (Radiallahu anhu) resting and relaxed. Quickly he told Uthman (Radiallahu anhu) that Rasulallah (sallallahu alaihi wa sallam) had sent him and he stated his need. As soon as Uthman (Radiallahu anhu) heard the name of Holy Prophet (sallallahu alaihi wa sallam) he stood up and told him to take whatever he needed from the house. The man was surprised since he thought that Uthman (Radiallahu anhu) was miserly because of what he had witnessed earlier. Hazrath Uthman (Radiallahu anhu) asked him why he had not stated his case in the earlier two visits. He explained the situation to Uthman and Hazrath Uthman (Radiallahu anhu) explained to him that everything he owns including his life is the property of Rasulallah (sallallahu alaihi wa sallam), hence he could not tolerate waste of the masters property. Since the master had sent him, he has put everything at his disposal. Hazrath Uthman's actions teach us that Faith (Iman) is to love the Holy Prophet (Peace be upon him and his family). To accept him as the owner (maalik) of ones life, faith, the world one lives in, and owner of everything.

Saturday, July 26, 2008

عقیدہ توحید اور واقعہ معراج

عقیدہ توحید مومن کے ایمان کا مرکز و محور ہے۔ شرک کا سایہ بھی انسان کو دائرہ ایمان سے خارج کر دیتا ہے۔ سفر معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک معجزہ ہے اور معجزہ رب کائنات کی قدرت مطلقہ کا مظہر ہوتا ہے۔ سفر معراج میں بھی توحید ربانی کے پرچم ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔ آدم سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام انبیاء جس آسمانی ہدایت کے ساتھ مبعوث ہوتے رہے اس کا مرکزی نقطہ بھی توحید ہی تھا کہ وہی ذات بندگی کے لائق ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ وحدہ لاشریک ہے، کوئی اس کا ہمسر ہے نہ ثانی، نہ اس کی کوئی انتہا ہے اور نہ ابتداء ہے۔ وہ ازل سے ہے اور ابد کے بعد بھی وہی ہے۔ جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا جب کچھ نہ ہو گا تو پھر بھی اس کی ذات یکتا و تنہا ہو گی۔ اس ذات کو نہ اونگھ ہے نہ زوال، وہ ہر حاجت سے پاک اور مبرا ہے اور وہ ہر کسی کا حاجت روا ہے۔

امم سابقہ نے اکثر و بیشتر مسئلہ توحید کے بارے میں ٹھوکر کھائی ہے۔ ان کے اکثر افراد (الا ماشاء اللہ) نے اپنے نبی کو اس کے کمالات و روحانی تصرفات دیکھ کر الوہیت کے درجہ پر پہنچا دیا۔ ان میں سے کسی نے نبی کو خدا کا بیٹا کہا اور کوئی تمثلیث کا قائل ہو گیا۔ گویا نبی کو مقام نبوت سے ہٹا کر خدا کا شریک ٹھہرا لیا تاہم امت مصطفوی کو یہ شرف و افتخار حاصل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ عقیدہ توحید کی تعلیم ان کے قلوب و اذہان میں اس درجہ راسخ ہو گئی کہ اس پر شرک کی گرد پڑنے کا بھی کوئی احتمال باقی نہ رہا۔

اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرب کا انتہائی مقام تفویض کر کے ارشاد ہوتا ہے اوحی الی عبدہ ما اوحی ''ہم نے اپنے بندے کی طرف وحی کی''

اللہ اللہ! بندگی کا کیا مقام ہے کہ خدائی کا مختارِ کُل بنا دیا جائے، سارے الوہی خزانوں کی کنجیاں محبوب کے ہاتھوں میں تھما دی جائیں، جہاں تک اپنی شانِ ربوبیت ہو وہاں وہاں تک محبوب کو رحمت اللعلمینی کا تاج پہنا دیا جائے، مقامِ قاب قوسین اوادنی پر بلا کر جلوہء مطلق سے بہرہ یاب کر دیا جائے۔۔۔ اور پھر بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " بندہ" ہی رہے۔ عقیدہ توحید میں کسی قسم کے خلجان اور التباس کی کوئی گنجائش نہیں کہ خالصیت اور عبدیت کے فاصلے کا پاٹنا ناممکنات میں سے ہے۔ اس فاصلے کو برقرار رکھنا بہرحال ناگزیر ہے۔
 


--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit: http://123iqra.com
Read archives at:
http://groups.google.com/group/yoursks


صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

معراج مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور مقامِ عبدیت

معجزۂ معراج نسل انسانی کی تاریخ کا وہ سنگ میل ہے جسے قصر ایمان کا بنیادی پتھر بنائے بغیر تاریخ بندگی مکمل نہیں ہوتی اور روح کی تشنگی کا مداوا نہیں ہوتا۔ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تاریخ انسانی کا ایک ایسا حیرت انگیز، انوکھا اور نادر الوقوع واقعہ ہے جس کی تفصیلات پر عقلِ ناقص آج بھی حیران و ششدر ہے۔ اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ سفر معراج کیونکر طے ہوا؟ عقل حیرت کی تصویر بن جاتی ہے، مادی فلسفہ کی خوگر، اربعہ عناصر کی بے دام باندی عقلِ انسانی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ انسان کامل حدود سماوی کو عبور کرکے آسمان کی بلندیاں طے کرتا ہوا لامکاں کی وسعتوں تک کیسے پروز کرسکتا ہے اور وہ کچھ دیکھ لیتا ہے جسے دیکھنے کی عام انسانی نظر میں تاب نہیں۔ اس لئے حدود و قیود کے پابند لوگ اس بے مثال سفر معراج کے عروج و ارتقاء پر انگشت بدنداں ہیں اور اسے من و عن اور مستند انداز سے مذکورہ تفصیلات کے ساتھ بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور ایسے ایسے شبہات وارد کرتے ہیں اور تشکیک کا ایسا غبار اڑاتے ہیں کہ دلائل سے غیر مسلح ذہن اور عام آدمی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور دیوار ایمان متزلزل سی ہونے لگتی ہے۔

نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں معجزہ معراج خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ تاریخ انبیاء کی ورق گردانی کی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے برگزیدہ رسولوں اور نبیوں کو اللہ رب العزت نے اپنے خصوصی معجزات سے نوازا۔ ہر نبی کو اپنے عہد، اپنے زمانے اور اپنے علاقے کے حوالے سے معجزات سے نوازا تاکہ ان کی حقانیت ہر فرد بشر پر آشکار ہو اور اسے ایمان کی دولت سے سرفراز کیا جائے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت چونکہ جادو میں کمال رکھتی تھی، ہزاروں جادو گر دربار شاہی سے وابستہ ہوتے، اس لئے خالق کائنات نے بھی اپنے نبی کو جادو کے ان کمالات کا توڑ کرنے کے لئے معجزات عطا کئے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں طب کا بڑا چرچا تھا۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کردینے اور کوڑھیوں کو تندرست کر دینے کی قدرت سے فیض یاب تھے۔ پس ہر نبی اپنے وقت کے ہر کمال سے آگے ہوتا ہے۔ امت جس کمال پر فائز ہوتی ہے نبی اس کمال پر بھی حاوی ہوتا ہے۔

اب نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تشریف لانا تھا۔ باب نبوت و رسالت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بند ہو رہا تھا۔ ختم نبوت کا تاج سر اقدس پر سجایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم المرسلین قرار پائے چنانچہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے معجزات سے نوازا گیا جن کا مقابلہ تمام زمانوں کی قومیں مل کر بھی نہ کرسکتی تھیں۔ اللہ رب العزت کو معلوم تھا کہ آئندہ آنے والی اقوام چاند پر قدم رکھیں گی اور ستاروں پر کمندیں ڈالیں گی لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکان و لامکاں کی وسعتوں میں سے نکال کر اپنے قرب کی حقیقت عطا فرمائی جس کا گمان بھی عقل انسانی میں نہیں آسکتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باقی تمام معجزات اور دیگر انبیاء و رسل کے تمام معجزات ایک طرف اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ معراج ایک طرف، تمام معجزات مل کر بھی معجزہ معراج کی ہمہ گیریت اور عالمگیریت کو نہیں پہنچ سکتے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دائمی معجزہ ہے جس کی عظمت میں وقت کا سفر طے ہونے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جائے گا اور نئے نئے کائناتی انکشافات سامنے آ کر معجزہ معراج کی حقانیت کی گواہی دیتے رہیں گے۔ ارتقاء کے سفر میں اٹھنے والا ہر قدم سفر معراج میں نقوش کف پا کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں مکہ سے اٹھا اور براق پر سوار ہوکر بیت المقدس پہنچا، وہاں سے آسمانوں اور پھر وہاں سے عرش معلی تک گیا حتی کہ مکان و لامکاں کی وسعتیں طے کرتا ہوا مقام قاب و قوسین پر پہنچا اور پھر حسن مطلق کا بے نقاب جلوہ کیا۔
 


--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit: http://123iqra.com
Read archives at:
http://groups.google.com/group/yoursks


صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Importance of Waqea-e-Mairaaj



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit: http://123iqra.com
Read archives at:
http://groups.google.com/group/yoursks


صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"

Waqea-i-Mairaaj - Ghair Muslim ki Gawahee



--
Fi Aman Allah

with best wishes and regards
Khurram Shahzad
+92 - 333 - 5127596
Visit: http://123iqra.com
Read archives at:
http://groups.google.com/group/yoursks


صرف وہی چیز انسان کی قسمت میں ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ سورہ النجم آئت 39"