Sunday, August 21, 2011

معتکف کیلئے اجر خاص

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ : "اعتکاف بیٹھنے والا (اعتکاف کی وجہ سے اور مسجدمیں مقید ہوجانے کی وجہ سے ) گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کیلئے وہ تمام نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو نیکی کرنے والا کرتا ہے (اور یہ اعتکاف کی وجہ سے نہیں کرسکتا)"۔ ابن ِ ماجہ
اعتکاف عکوف سے ہے جس کے معنی کسی جگہ بیٹھ جانے اور جم جانے کے ہیں اصطلاح شریعت میں اللہ تعالیٰ کے گھر میں اللہ تعالیٰ سے تعلق خاص جوڑنے کیلئے اعتکاف کی نیت سے بیٹھ جانے کو اعتکاف کہتے ہیں ، اعتکاف کی حقیقت ہی یہ ہے کہ ہر طرف سے تعلق توڑ کر اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور مضبوط کرنے کیلئے بس اللہ سے لو لگا کر اس کے در پر پڑ جائے اور سب سے الگ تنہائی میں اس کی عبادت اور ذکر و فکر میں مشغول رہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے اعتکاف بیٹھنے والوں کی تعریف قرآن مجید میں یوں بیان فرمائی ہے: 
"اور ہم نے حکم کیا ابراہیم (علیہ السلام )اور اسماعیل (علیہ السلام) کو کہ وہ میرے گھر کو پاک رکھیں طواف کرنے والوں، اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع و سجدہ کرنے والوں (یعنی نماز پڑھنے والوں ) کیلئے۔" (البقرہ:125)
اس حدیث مبارکہ میں بھی اعتکاف کرنے والوں کیلئے دو فائدے بیان کےے گئے ہیں ، ایک یہ کہ اعتکاف کی وجہ سے گناہوں سے حفاظت ہوجاتی ہے اور ورنہ بعض اوقات کوتاہی اور لغزش کی وجہ سے ایسے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں کہ انسان گناہوں میںمبتلا ہوجاتا ہے ، اعتکاف کی نیت سے مسجد میں پڑے رہنے سے اس کی بڑی حد تک حفاظت رہتے ہیں، دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جب بندہ اعتکاف کی نیت سے اپنے کو مسجد میں مقید کردیتا ہے تو اگرچہ وہ عبادت اور ذکر و تلاوت وغیرہ کے راستے سے اپنی نیکیوں میں تو خوب اضافہ کرتا ہی ہے لیکن بعض بڑی نیکیوں سے بھی وہ مجبور ہوجاتا ہے، مثلاً وہ بیماروں کی عیادت اور خدمت نہیں کرسکتا جو بہت بڑے ثواب کا کام ہے ، کسی لاچار، مسکین، یتیم اور بیوہ کی مدد کیلئے بھاگ دوڑ نہیں کرسکتا، کسی میت کو غسل نہیں دے سکتا، جو اگر ثواب کی نیت اور اخلاص کے ساتھ ہو تو بہت بڑے اجر کا کام ہے، اسی طرح نماز جنازہ کی شرکت کیلئے نہیں نکل سکتا ، میت کے ساتھ قبرستان نہیں جاسکتا، جس کیلئے ایک ایک قدم پر گناہ معاف ہوتے ہیں اور نیکیاں لکھی جاتی ہیں، لیکن اس حدیث میں اعتکاف کرنے والے کو بشارت سنائی گئی ہے کہ اس کے حساب اور اس کے صحیفہ ¿ اعمال میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ سب نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں جن کے کرنے سے وہ اعتکاف کی وجہ سے مجبور ہوجاتا ہے اور وہ ان کا عادی تھا۔ 
سبحان اللہ ! کیسے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اعتکاف کرکے گناہوں سے بچتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ سے لو لگا کر تو نیکیاں بٹورتے ہی ہیں اور ساتھ ساتھ وہ نیکیاں بھی ان کا مقدر ہوتی ہیں جو وہ اعتکاف کی حالت میں قید ہونے کی وجہ سے نہیں کرسکتے ، اللہ تعالیٰ ہر انسان کو کم از کم زندگی میں ایک مرتبہ اس عظیم سعادت کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، امین!

Ramadhan-ul-Mubarak - Akhri Ashra


Monday, August 1, 2011

Ramadhan -ul- Mubarak ka Nizaam-ul-Amal



--
Fi Aman Allah

Khurram Shahzad
Asst Manager (IT)
HQ Frontier Works Organization
+92 - 333 - 5127596


Rozae ki fazeelat


Khulasa-tul-Quran - Para 08


آٹھواں پارہ - ولواننا
بنو آدم سے خطاب
ساتویں پارہ کے آخر میں مشرکین کا یہ مطالبہ ذکر کیا گیا تھا کہ اگر ہمیں کوئی حسی معجزہ دکھایا جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ آٹھویں پارہ کے شروع میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں، اگر ان کو حسی معجزات بھی دکھا دئےے جائیں تو ، یہاں تک کہ قبروں سے مردے زندہ ہوکر ان سے باتیں کریں تو بھی یہ ایمان لانے والے نہیں۔ لہٰذا یہ اس معجزہ کو دیکھنے اور سننے کے باوجود انکار کرتے ہیں تو آپ پریشان نہ ہوں ، کیونکہ زمین پر بسنے والے اکثر لوگوں کو یہی حال ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑتے ہیں اور گمراہی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ فرمایا: اور اگر اکثر لوگوں کی بات مانیں گے جو دنیا میں ہیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے دور کردیں گے۔ (۶۱۱) اس آیت کریمہ سے مغربی جمہوریت کی نفی ہوتی ہے کیونکہ مغربی جمہوریت میں اکثر کی رائے کا اعتبار ہے، خواہ وہ کتاب و سنت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو جبکہ مسلمانوں کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ اگر پوری دنیا کے انسان کسی ایسی بات پر متفق ہوجائیں جو کتاب و سنت کے واضح حکم کے خلاف ہو تو ان کے اتفاق کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا اور اسے رد کردیا جائے گا۔ اس کے بعد جو اہم مضامین اس پارہ میں مذکور ہیں وہ  درج ذیل ہیں: 







Monday, May 30, 2011

انگور اور شراب




السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

انگور اور شراب

مشہور شامی مصنف عادل ابو شنب نے اپنی کتاب شوام ظرفاء میں عرب مُلک شام میں متعین فرانسیسی کمشنر کی طرف سے دی گئی ایک ضیافت میں پیش آنے والے ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کیا ہے۔ اُن دنوں یہ خطہ فرانس کے زیر تسلط تھا اور شام سمیت کئی آس پاس کے مُلکوں کیلئے ایک ہی کمشنر (موریس سارای) تعینات تھا۔ کمشنر نے اس ضیافت میں دمشق کے معززین، شیوخ اور علماء کو مدعو کیا ہوا تھا۔

اس ضیافت میں ایک سفید دستار باندھے دودھ کی طرح سفید ڈاڑھی والے بزرگ بھی آئے ہوئے تھے۔ اتفاق سے اُنکی نشست کمشنر کے بالکل آمنے سامنے تھی۔  کمشنر نے دیکھا کہ یہ بزرگ کھانے میں ہاتھ ڈالے مزے سے ہاتھوں کے ساتھ کھانا کھا رہا ہے جبکہ چھری کانٹے اُس کی میز پر موجود ہیں۔ ایسا منظر دیکھ کر کمشنر صاحب کا کراہت اور غُصے سے بُرا حال ہو رہا تھا۔ نظر انداز کرنے کی بہت کوشش کی مگر اپنے آپ پر قابو نا پا سکا۔ اپنے ترجمان کو بُلا کر کہا کہ اِس شیخ صاحب سے پوچھے کہ آخر وہ ہماری طرح کیوں نہیں کھاتا؟

شیخ صاحب نے ترجمان کو دیکھا اور نہایت ہی سنجیدگی سے جواب دیا؛ تو تمہارا خیال ہے کہ میں اپنئ ناک سے کھا رہا ہوں؟

کمشنر صاحب نے کہا، نہیں ایسی بات نہیں، ہمارا مطلب یہ ہے کہ تم چھری اور کانٹے کے ساتھ کیوں نہیں کھاتے؟

شیخ صاحب نے جواب دیا؛ مُجھے اپنے ہاتھوں کی صفائی اور پاکیزگی پر پورا یقین اور بھروسہ ہے، کیا تمہیں بھی اپنے چھری اور کانٹوں پر کی صفائی اور پاکیزگی پر اتنا ہی بھروسہ ہے؟

شیخ صاحب کے جواب سے کمشنر جل  بھن کر رہ گیا، اُس نے تہیہ کر لیا کہ اس اہانت کا بدلہ تو ضرور لے گا۔

کمشنر کی میز پر اُس کے دائیں طرف اُسکی بیوی اور بائیں طرف اُسکی بیٹی بھی ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔

چہ جائیکہ کمشنر عربوں کی ثقافت، روایات اور دینداری سے واقف تھا، مزید براں اُس نے اس ضیافت میں شہر کے معززین اور علماء کو مدعو کر رکھا تھا۔ مگر  ان سب روایتوں کو توڑتے ہوئے اُس نے اپنے لئے شراب منگوائی اور شیخ صاحب کو جلانے کی خاطر نہایت ہی طمطراق سے اپنے لیئے، اپنی بیوی اور بیٹی کیلئے گلاسوں میں اُنڈیلی۔ اپنے گلاس سے چُسکیاں لیتے ہوئے شیخ صاحب سے مخاطب ہو کر کہا؛ سنو شیخ صاحب، تمہیں انگور اچھے لگتے ہیں اور تم کھاتے بھی ہو، کیا ایسا ہے ناں؟

شیخ صاحب نے مختصراً کہا، ہاں،۔

کمشنر نے میز پر رکھے ہوئے انگوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا؛ یہ شراب ان انگوروں سے نکالی  ہوئی ہے۔ تم انگور تو کھاتے ہو مگر شراب کے نزدیک بھی نہیں لگنا چاہتے!

ضیافت میں موجود ہر شخص کمشنر اور شیخ صاحب کے درمیان پیش آنے والی اس ساری صورتحال سے آگاہ ہو چکا تھا۔ سب کے چہروں سے نادیدہ خوف کے سائے نظر آ رہے تھے اور ہر طرف خاموشی تھی۔ مگر اس شیخ صاحب کے نا تو کھانے سے ہاتھ رُکے اور نا ہی چہرے پر آئی مسکراہٹ میں کوئی فرق آیا تھا۔

کمشنر کو مخاطب کرتے ہو ئے شیخ صاحب نے کہا؛ یہ تیری بیوی ہے اور یہ تیری بیٹی ہے۔ یہ والی اُس سے آئی ہوئی ہے۔ تو پھر کیوں ایک تو تیرے اوپر حلال ہے اور دوسری حرام ہے؟

With Good Regards

مصنف لکھتا ہے کہ اسکے بعد کمشنر نے فوراً ہی اپنی میز سے شراب اُٹھانے کا حُکم دیدیا تھا۔